کشف کی یہ کہانی صرف ایک لڑکی کی نہیں— یہ ہر اُس شخص کی داستان ہے جو زندگی سے شکوہ کرتا ہے، جو بار بار ٹوٹتا ہے، بچھڑتا ہے مگر پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں مقرر ہوتی ہے ہم جتنی بھی کوشش کر لیں ہونا وہی ہوتا ہے جو تقدیر چاہتی ہے اور ہمیں اس پر شکوہ نہیں شکر کرنا چاہیے تب جا کر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جسے ہم تکلیف سمجھ رہیں ہوتے ہیں وہ اصل میں ہماری آزمائش ہوتی ہے۔
ٹین ایج یعنی 13 سے 19 سال کی عمر۔۔یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں جو کام یا جو عمل ہم کرتے ہیں وہ ساری زندگی ہمارے ساتھ رہتا ہے۔۔اگر ہم کچھ برا کر رہے ہیں اور اس کے عادی ہو چکے ہیں تو آگے زندگی میں بھی ہم برے ہی رہیں گے۔۔لیکن اگر کچھ اچھا کرتے ہیں تو ہم آگے جا کر ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔۔ٹین ایج کی جو باتیں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔۔جیسے کہ اگر ہم نے کچھ اچھا کام کیا یا برا کیا تو ہمیں وہ یاد رہتا ہے۔۔۔اور اصل زندگی تو شاید ٹین ایج سے ہی شروع ہوتی ہے۔۔ کیونکہ اس میں ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں بہت کچھ پا لیتے ہیں اور کچھ کھو بھی دیتے ہیں۔۔۔اگر اس عمر میں آپ صبر اور برداشت کرنا سیکھ لیں تو آپ کی آگے کی زندگی پر سکون رہتی ہے۔۔۔جو عادتیں اس عمر میں پکی ہو جائیں وہ کبھی نہیں چھوٹتی۔۔اسی لیے کوشش کیجیے کہ اگر آپ بھی ٹین ایج میں ہیں تو اچھی عادتیں اپنائیں۔۔
ٹین ایج یعنی 13 سے 19 سال کی عمر۔۔یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں جو کام یا جو عمل ہم کرتے ہیں وہ ساری زندگی ہمارے ساتھ رہتا ہے۔۔اگر ہم کچھ برا کر رہے ہیں اور اس کے عادی ہو چکے ہیں تو آگے زندگی میں بھی ہم برے ہی رہیں گے۔۔لیکن اگر کچھ اچھا کرتے ہیں تو ہم آگے جا کر ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔۔ٹین ایج کی جو باتیں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔۔جیسے کہ اگر ہم نے کچھ اچھا کام کیا یا برا کیا تو ہمیں وہ یاد رہتا ہے۔۔۔اور اصل زندگی تو شاید ٹین ایج سے ہی شروع ہوتی ہے۔۔ کیونکہ اس میں ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں بہت کچھ پا لیتے ہیں اور کچھ کھو بھی دیتے ہیں۔۔۔اگر اس عمر میں آپ صبر اور برداشت کرنا سیکھ لیں تو آپ کی آگے کی زندگی پر سکون رہتی ہے۔۔۔جو عادتیں اس عمر میں پکی ہو جائیں وہ کبھی نہیں چھوٹتی۔۔اسی لیے کوشش کیجیے کہ اگر آپ بھی ٹین ایج میں ہیں تو اچھی عادتیں اپنائیں۔۔
اکثر اوقات انسانی نفسیات کے سرے کچھ منفی رویوں کے باعث یوں الجھ جاتے ہیں کہ پھر رشتوں کو نبھانے کا ہنر تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے ایسے میں کسی پر خلوص انسان کا ساتھ ہی ان الجھی ڈوریوں کو سلجھا سکتا ہے