Author

Amna Haider

Author's books

Ankahi Sada Novel by Amna Haider

جہاں انصاف کی زنجیریں بکنے لگیں اور قانون کی کتابیں خاموش ہو جائیں وہاں سچائی کی قیمت لہو سے چکانی پڑتی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے انتقام کی جو خاموشی کی چادر اوڑھ کر شروع ہوا اور اس عشق کی جو طوفانوں کے بیچ اپنا راستہ تلاش کرتا رہا۔ جب نظام ظالم کا محافظ بن جائے تو اندھیرے کو ہرانے کے لیے خود اندھیرا بننا پڑتا ہے۔ کیا ایک ان کہی صدا ان ایوانوں کو ہلا پائے گی جہاں صرف مصلحتیں بستی ہیں؟ سسپنس جذبات اور قربانی کی ایک ایسی داستان جو آپ کو آخری لفظ تک جکڑے رکھے گی۔”

Haqeqat e Fasana by Amna Haider

یہ کہانی ان لڑکیوں کے لیے ہے جو آج کل کچھ لکھاریوں کا ڈارک رومانس کے نام پر فہاشی پڑھ کر انسپائر ہوتی ہیں جو ٹاکسیسیٹی کو رومینٹاسائز کرنے لگتی ہیں ۔ جب کہ حقیقت میں ڈارک رومانس کچھ نہیں ہوتا ۔ یہ بس نئ نسل کا دماغ خراب کرنے کے لیے فہاشی لکھی گئی ہے ہمیں ایسے لکھاریوں کا بائکاٹ کرنا چاہیے ۔ امید ہے اس کہانی سے آپ لوگوں کو کوئی سبق ملے گا

Pagal Panti

یہ کہانی ایک فین فکشن ہے جس میں سعدی یوسف خان ، کارل ، حسن سلطان اور حمزہ حیدر علی ہیں ۔ یہ کہانی ہے دوستی کی محبت کی دوستوں پر جان دینے والوں کی یہ کہانی مزاہیہ ہے پر کہیں جزباتی بھی کر دے گی۔

Rang e Azaadi by Amna Haider

یہ کہانی ہے ایک آزاد ملک میں رہے کر خود کو قید سمجھے والوں کی یہ کہانی ہے ایک معصوم بچی کی یہ کہانی ہے آزادی کی قیمت کی. میں مانتی ہوں پاکستان میں ہم ویسے آزاد نہیں ہے جیسے ہونا چاہیے مگر یہ کہنا کہ ہم سرے سے آزاد ہے ہی نہیں غلط ہے کیونکہ ہمیں آزادی کا اصل مطلب ہی نہیں پتا اس افسانے میں آزادی کا اصل مطلب ہے آزادی کی قیمت ہے اور یہ سبق ہے کہ اگر ہم ملک کو بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا

Safar e Mout by Amna Haider

یہ کہانی ہے پانچ دوستوں کی جو ایک سفر پر نکلتے ہیں اس بات سے انجان کہ یہ سفر انہیں ان کی موت کی جانب لے جا رہا ہے۔ ایک ایسا ٹی وی جن میں ان کی موت کی ویڈیو چل رہی ہے ! کیسے وہ پھنستے ہیں بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کچھ حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں اور کیا آخر میں وہ بچ پائے گے ؟ یہ جانے کے لیے کہانی پڑھیں ۔

Siyahi Ka Bojh by Amna Haider

“سیاہی کا بوجھ” ایک لکھاری ارحم کی کہانی ہے جو پانچ سال بعد قلم اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کے ماضی کے راز اور ایک پراسرار خط اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ کئی سوالات اُسے اپنی تقدیر کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے اندر کے بوجھ کو کم کر پائے گا، یا یہ سچ ہمیشہ اس کے پیچھے رہے گا؟