Urdu Digest Novels

Aah Neem Kash Episode 1 by Aasiya Raees Khan

Aah Neem Kash is a Family Based Novel by Aasiya Raees Khan. Publishing in Shuaa Digest Monthly.
آسیہ رئیس خان کے خوبصورت لکھنے کے انداز سے بھلا کون واقف نہیں؟ ہم سب ہی ان کے شارٹ ناولز بڑے شوق اور مزے سے پڑھتے ہیں مگر یہ ان کا پہلا سلسلہ وار ناول ہے۔
کہانی شروع ہوتی ہے اوک ہاؤس کی اُداس سبیل سے، جن پر نہ جانے کتنے پہرے بٹھائے گئے ہیں، جو عام لڑکیوں کی طرح ایک آزاد زندگی نہیں گزار رہیں۔
وہ اوک ہاؤس میں اپنی دادی اور صفا (اپنی دوست) کے ساتھ رہتی ہے۔ صفا جسے صرف اس کی نگرانی اور حفاظت کے لیے رکھا گیا ہے۔ مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ سبیل کو آخر اتنے سخت پہرے میں کیوں رکھا گیا ہے؟ آخر کس سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے؟
کہانی کے دوسرے کردار بیگم عنایت جہاں، میر قربان علی خان، میر عثمان اور عدن کا تعلق کوٹھی خیاباں سے ہے، جہاں کا نظام بیگم عنایت جہاں دیکھتی ہیں، جو ایک با رُعب شخصیت کی مالک اور سیاستدان ہیں۔ مگر کہانی میں ان کا تعلق اوک ہاؤس کے مکینوں سے بھی دکھایا گیا ہے۔
لیکن بیگم عنایت جہاں کا سبیل سے آخر کیا تعلق ہو سکتا ہے؟
کہانی میں سسپنس بھی موجود ہے۔
کیا آپ نے آہ نیم کش کی پہلی قسط پڑھی ہے؟ اگر ہاں تو کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے ضرور بتائیے۔

Aah Neem Kash Episode 2 by Aasiya Raees Khan

Aah Neem Kash is a Family Based Novel by Aasiya Raees Khan Publishing in Shuaa Digest Monthly.
ناول:آہ نیم کش
قسط نمبر:۲
مصنفہ:آسیہ رئیس خان
ماہنامہ شعاع، اکتوبر ۲۰۲۵ء
 تبصرہ : اقراء سومرو
کہانی کی یہ قسط بہت دلچسپ انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ سبیل کو راستے میں ملنے والا ایک انجان شخص اُسے بحفاظت اوک ہاؤس چھوڑ آتا ہے۔ اوک ہاؤس کے لوگ اُس شخص کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اُسے چائے وغیرہ پیش کرتے ہیں، مگر موسم خراب ہونے کی وجہ سے وہ وہیں رکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
رات کا منظر خاص طور پر بہت کیوٹ تھا جب سبیل کھڑکی میں کھڑی نیچے کھڑے آدم سے اُس کا نام پوچھتی ہے۔
دوسری طرف میر عثمانکا ماضی جاننے کا تجسس بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ جانے کی خواہش ہوتی ہے کہ آخر ان کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ وہ آج تک اُس ماضی سے باہر نہیں نکل سکے۔
بیگم عنایت جہاں کا کردار بہت پرُاسرار لگتا ہے۔ وہ ہر شخص سے الگ انداز میں ملتی ہیں۔ بظاہر باوقار اور سنجیدہ نظر آنے والی بیگم جہانعنایت دراصل بہت سے راز اپنے اندر چھپائے ہوئی ہیں۔
قسط کے آخر میں آدم کے مجرم ہونے کا انکشاف کہانی کو مزید سنسنی خیز بنا دیتا ہے۔ قاری کے دل میں یہ جاننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
آسیہ رئیس خان نے اس قسط کو بھی خوبصورتی سے لکھا ہے۔ کرداروں کے درمیان جذبات، موسم کی کیفیت، اور اسرار سے بھرا ماحول کہانی کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔ اگلی قسط کے لیے تجسس مزید بڑھ گیا ہے
1 2 173