Novelettes

Aadam

یہ کہانی ہے گمان میں ڈوبے آدم کی۔یہ کہانی ہے کسی کے اعتبار کو توڑنے کی۔ گمان کی راہ پر چلتے ہوۓ راہ حق کو پالینا۔ ایک ملال سے اپنے آپ کو پہچان جانا۔

Aakhri Station

سچی کہانی جس نے سب کو یلا کر رکھ دیا ایسی داستان جسے آج تک کوئی حل نہیں کر پایا۔ آخر ایسا کیا ہوا تھا اس رات جس نے پھر آنے والے کئی سالوں تک لوگوں کی نیند اڑا دی۔ جاننے کے لئیے پڑھئیے آخری اسٹیشن۔

Aayena by Ghania Imran

آیٔنہ ایک بہت الگ تہریر ہے۔ آیٔنہ جو ہر کوئی دیکھنا نہیں چاہتا کیونکہ کہیں نہ کہیں اس سے تلخ حقیقتیں وابستہ ہوتی ہیں۔ یہ تہریر آپ کو آیٔنہ دکھاۓ گی لیکن آپ کے اندر اس کو ماننے کی ہمت بھی لاۓ گی اور آپ کہ خدا کے قریب بھی کرے گی۔

Adhora Harf by Sehar Saif

یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو ٹوٹ کر بھی بکھرتی نہیں۔
زندگی کے دکھ، تنہائی اور رشتوں کے زخم — سب اس کے لفظوں میں ڈھل جاتے ہیں۔
“ادھورا حرف” ایک خاموش بغاوت ہے،
جو بتاتی ہے کہ سچ بولنے کے لیے شور نہیں،
بس حوصلہ اور قلم کافی ہیں۔
 “ادھورا وہ نہیں جو ہارا،
ادھورا وہ ہے جو لکھنا چھوڑ دے۔”

Adhore Khawab by Sehar Gull

ادھورے خواب “ میرے چار افسانوں کا مجموعہ ہے۔ جو کہ مختلف حالات حاضرہ اور معاشرتی مسائل پر لکھے گئے ہیں۔ یہ کہانیاں ہمارے اردگرد ہونے والے واقعات اور مختلف معاشرتی برائیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ میرا پہلا افسانہ ادھورے خواب جو کہ میں نے
2022 میں سیلاب کے دنوں میں لکھا تھا آنچل ڈائجسٹ کے دسمبر
2022 کے شمارے میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاؤہ تینوں افسانے
مختلف ادبی مقابلہ جات کے لیے لکھے گئے ہیں۔ جن میں قصص الخفیہ” نے دوسری جبکہ ایک ادھورا خط” نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ امید ہے کہ آپ کو یہ مختصر کہانیاں پسند آئے گیں۔

سحرگل

Afsana Maafi Batur Azadi by Sania Sajjad

یہ افسانہ دو مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے کرداروں مرجان اور بسما کی کہانی ہے، جو مختلف حادثات اور فیصلوں کے نتیجے میں شدید احساسِ جرم اور ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مرجان اپنے دوست کی موت کے حادثے کو اپنی غلطی سمجھ کر خود کو معاف نہیں کر پاتا، جبکہ بسما ایک خاندانی مسئلے میں سچ بولنے کے بعد پیدا ہونے والے نتائج کا بوجھ اٹھاتی ہے اور خود کو دوسروں کی زندگیوں کی تباہی کا ذمہ دار سمجھ لیتی ہے۔
دونوں کردار برسوں تک اندرونی قید میں رہتے ہیں، جہاں اصل سزا معاشرہ نہیں بلکہ ان کا اپنا ضمیر ہوتا ہے۔ کہانی کے آخر میں انہیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ہر غلطی جرم نہیں ہوتی، اور ہر حادثہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ایک رہنما کردار اور مختلف تجربات کے ذریعے وہ سیکھتے ہیں کہ اصل آزادی دوسروں کو معاف کرنے سے زیادہ اپنی ذات کو معاف کرنے میں ہے۔
افسانہ اس نتیجے پر ختم ہوتا ہے کہ معافی دراصل ایک زنجیر توڑنے کا نام ہے، اور سب سے بڑی آزادی خود کو معاف کرنا ہے۔
1 2 34