Novelettes

Train Ka Safar Aur Mein by Eiman Rizvi

جو خود کو تلاش کرنے کا سفر کرتے ہیں نہ وہ اتنے منصوبے نہیں بناتے
یہ لڑکی مجھے عام نہیں لگ رہی کچھ تو عجیب منفرد بات ہے اس میں اس کی آںکھوں میں ایک ان دیکھی قوت کئی راز چھپے ہیں ایسی شخصیتوں سے اب کم ہی سامنہ ہوتا ہے انہوں نے دہیمی آواز میں ساتھ بیٹھے لڑکے کے ساتھ اپنا نظریہ پیش کیا جو چہرا دوسری جانب کیئے بیٹھا تھا
زندگی ٹرین کےایک ڈبے کے مانند ہے جس میں ہم اپنی یادیں بناتے ہیں

پر ٹرین کی سیٹی کی آواز وقتاً بہ وقتاً یہ یاد دلا تی رہتی ہے کہ ہم یہاں کچھ وقت کے مہمان ہیں

ہر کہانی کا اختمام حاصل ہوجانا نہیں ہوتا ۔ حاصل ہوکر کہانی ختم ہوجاتی ہے پوری ہوکر زمانے میں کھو جاتی ہے لیکن کچھ لوگ لاحاصل ہوکر بھی اگلے شخص کا کردار بدل دیتے ہیں اس کی روح ان سے جڑ جاتی ہے

Tum Abhi Se Darte Ho by Ommay Romman Ahmad

ایک کم ظرف سلطنت میں پلا بڑھا با ظرف اسماعیل جس کے ارادے چٹان کی مانند مضبوط تھے تو حوصلے آسمان جتنے وسیع۔ وہ جو سلطنت کے مرکزی شہر کو شہر خاموشاں کہتا تھا تو وجہ کیا تھی؟ وہ سترہ سال کی عمر میں بھی سلطنت کا غرور توڑتا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ لگ سکی۔ وہ اسماعیل جس کے لیے ہر ماں خواں ہو کہ اس سا بیٹا مل جائے،ہر بہن چاہے کہ بھائی ہو تو اس جیسا۔ وہ اسماعیل کون ہے؟ یہی کہانی ہے،یہی افسانہ۔

Tum Ko Dekha To Ye Khayal Aya

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا” محض چند کرداروں پر مشتمل ہے جس کی کہانی ان ہی چند کرداروں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ “نورالعین” اس کہانی کا مرکزی کردار ہے جو اپنی زندگی میں کئی موڑ سے گزرتی ہے۔ کچھ موڑ اسے خوبصورت راستوں اور گلیوں کی سیر کرواتے ہیں تو کچھ موڑ اس کی زندگی کو یکایک تاریکی کی نذر کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی معصومیت اور کم عمری کی وجہ سے کئی دفعہ صحیح سمت کا تعین نہیں کر پاتی ہے اور بعض غلط فیصلے تو عمر بھر کا پچھتاوا مقدر کر دیتے ہیں۔ کیا نور کبھی اس پچھتاوے سے، ان خاردار رستوں سے نکل کر حسین منزل کی سمت بڑھ پائے گی؟

Tum Mere Alfaaz Ho by Mahira Ahsan Sheikh

یہ آئمہ کی داستان ہے—سترہ برس کی ایک نازک دل لڑکی جو ناولوں کے اوراق میں اپنی پہچان تلاش کرتی ہے۔ محبت اسے کہانیوں کے کرداروں سے ہوتی ہے اور لکھنے کا جنون اسے اپنے ہی الفاظ کی طلسماتی دنیا میں لے جاتا ہے۔ لوگ اس کے خوابوں کا مذاق اُڑاتے ہیں، مگر آئمہ رات کی خاموشیوں میں بیٹھ کر اپنے دل کی سرگوشیوں کو قرطاس پر اتارتی ہے—یہ اُس کے جذبات کو نکھار کر الفاظ میں ڈھالنے کا ایک دل آویز اور دل نشین سفر ہے۔
1 29 30 31 33