Army Based

Dehliz k Paar Wo Season 2 Episode 9

کہانی ملک کے رکھوالعوں کے گرد گھومتی ہے کہانی کسی ایک شخصیت کا تعاقب نہیں کرتی بلکہ یہ مختلف کرداروں کا مجموعہ ہے جو اپنے آپ میں اہم ہے۔ کہانی ہے کرنل جبرئیل کی سربراہی کی زارا جبرئیل کے ساتھ کی میرال خان کی شخصیت کے بھول بھلیوں کی عنصب جہانگیر کی بہادری کی شامیراسامہ کی محبت کی اروا شمس کی پاکیزگی کی ایس کے کی قید کی روپا دیوی کے عشق کی اور صدام حیدر کے انتقام کی ماضی کے دریچوں میں دوبے ان رازوں کی جو کھل کر بہت سی حقیقتیں نگل لیتے ہیں۔ دہلیز کے پار وہ کہانی ہے انصاف کی ملک کی خاطرجان دینے کی اور لڑ کر فتح یاب ہونے کی۔۔۔

Gehraiyan by Mrs Hassan

یہ میں نے ان لوگوں کے لیے لکھا ہے جو اکثر ہی اپنے عزیز رشتوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔
کبھی ان کے لیے ہی، کبھی ان کے فائدے کے لیے اور پھر جھوٹ بولتے ہیں۔
جس کے باعث زیادہ تر تعلقات خراب ہوتے ہیں۔
اس کی مین جڑ جھوٹ ہے۔ ہم جھوٹ بولنے کو ایک معمولی سی بات سمجھتے ہیں۔
جبکہ گناہوں کے آغاز کا درخت جھوٹ کی ہی جڑ پکڑتا ہے۔

Hum To Sirf Unwaan The by Syeda

فوجی عوامی درسگاہ(آرمی پبلک سکول) میں تدریس کے شعبہ سے وابستہ ایک لڑکی کی کہانی کہ جس کے والد اور بھائی افواج پاکستان میں شامل ہیں۔فوجی خاندان سے تعلق ہو تو مستقبل بھی فوجی سے منسوب ہو جاتا ہے کہ ایک جیسے شعبہ سے وابستہ لوگ ایک دوسرے کے مسائل بہتر انداز سے سمجھ پاتے ہیں لیکن وہ لڑکی ضد پر اڑی ہے کہ فوجی کو ہم سفر نہ بنائے گی۔وہ سنجیدہ لڑکی ہے اور یہ کوئی جذباتیت میں لیا گیا فیصلہ نہیں ہے پر وہ کیوں نہیں کرنا چاہتی ایک فوجی سے شادی؟یہ اہم ہے اور اسی پر ٹکی ہے ہماری تحریر۔

Jansheen Episode 10

ازل سے زمانے میں ایک رواج ہے چلتا آیا ، پڑھنے والا خود کی شخصیت کو کرداروں میں ہے ڈھونڈتا آیا ، ہر کردار پڑھنے والے کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے ، یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو کس کردار کی کہانی سے مماثلت شدہ پاتا ہے ، میرا ماننا ہے کہ انسان ہر موڑ پر اپنی زندگی کا ہیرو اور ولن خود ہوتا ہے، جب اس کے کردار سے کسی کو فائدہ ہو تو وہ ہیرو ہے اور یہی فرد کسی کے نقصان کا محتمل ہوجائے تو ولن ، جانشین کے ہیرو اور ولن کو پڑھنے والا خود ڈھونڈے گا ، وہ اپنی شخصیت کی مناسبت کا کردار بھی خود ہی چنے گا اور پھر اس سے اپنے لئے سبق اخذ کرے گا ، جانشین کی کہانی زندگی کی دوڑ میں دوڑنے والے مسافروں کی ہے ، وہ مسافر جنہیں قافلوں کی سنگت بھی ملی، کبھی ہجر کا عذاب بھی ، کبھی وصل کا تحفہ ملا ، کبھی آزمائش کا وبال بھی ، جو رک گیا وہ رکا رہا جو چل پڑا وہ کھڑا رہا زندگی کے امتحان میں ۔

Meri Jeet Amar Kar Do

یہ ایک رومانوی ناول ہے جس میں ہماری سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں،خاندانی رشتوں ،مختلف جذبات محبت،عشق ،دوستی،نفرت   کو پیش کیا گیا ہے۔۔۔۔یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس نے اپنے بچپن کی محرومیوں کو اپنے وجود میں بھر دیا اور اپنے خول میں بند ہو گیا۔۔۔۔یہ دو پیار  کرنے  کرنے والوں کی خوب صورت کہانی ہے۔ یہ کہانی  ہے محبت کو   پانے اور پا  کر کھو دینے کی جس میں محبت نفرت ،لالچ اور قربانی کو اس انداز میں دکھایا  گیا ہے کہ قارئین کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔

Mikael


“سنو! مجھے کافی بنا کر دو۔”
وہ ریوالونگ چیئر کو گھماتے ہوئے بولا۔

“سوری____آپ نے مجھ سے کہا؟”
عنوہ جاتے جاتے پلٹ کر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔

“جی بالکل محترمہ____غالباً آپ کے علاوہ یہاں اور کوئی نہیں ہے؟”
اس نے شان بے نیازی سے کندھے اچکائے۔

“میں یہاں کافی بنانے کی جاب نہیں کرتی۔”
عنوہ بمشکل اپنے غصے پر قابو پاتے متوازن لہجے میں بولی۔

“بابا کو بھی تو دیتی ہو تو کیا ان کی چاپلوسی کرتی ہو؟”
میکائیل نے کہنیاں ٹیبل پر رکھ کر دونوں ہاتھوں پر چہرہ ٹکائے استہزائیہ انداز میں کہہ کر اسے زچ کرنا چاہا اور وہ اپنی کوشش میں کامیاب ٹھہرا تھا۔

“دیکھیں اب آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔ آپ مجھے مجبور نہ کریں میں سر کو آپ کی شکایت کر دوں گی۔”
اس کے وارننگ دیتے لہجے پر میکائیل کاردار کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا۔

“سیریسلی تمھیں لگتا ہے میں اپنے باپ سے ڈر جاؤں گا، شٹل کاک کہیں کی ہونہہ۔”
ہنستے ہنستے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

عنوہ نے لب بھینچے اس کی ہنسی دیکھی جب سے یہ بندہ آفس آنے لگا تھا تب سے اس کا سکون برباد ہو کر رہ گیا تھا جانے کس بات کا بدلہ لے رہا تھا؟

My Kharoos Mr.

“اس بلے کو کتنی جلدی غصہ آ جاتا ہے ہر وقت غصہ غصہ جیسے آیا ہی دنیا میں غصہ کرنے کے لیے ہے!!”
بڑبڑا کر وہ سینے پر ہاتھ بندھتی پیر جھلانے لگی۔ بدر نے ناگواری سے کال کاٹ کر نمبر ڈیلیٹ کر دیا۔
“ویسے تمہیں اتنا غصہ آتا کہاں سے ہے؟”
ہتھیلی پر گال ٹکا کر اس نے آنکھیں بار بار جھپک کر معصومیت سے بولنے کی کوشش کی وہ الگ بات ہے معصومیت سے دور دور تک تعلق نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوشش بےکار گئی۔۔
“بچپن سے ایسا ہوں!!!”
کوٹ اٹھا کر پہنتے وہ بےنیازی سے بولا۔ یہ جنگلی بلی کچھ زیادہ فری نہیں ہورہی تھی؟ وہ شرارت سے مسکرائی اسکی نیلی آنکھوں کے کانچ چمک اٹھے تھے۔۔
“پھر تو تمہیں اپنے پیدا ہونے پر بھی غصہ آیا ہوگا جب پہلی بار آنکھ کھلی ہوگی نواب کی۔۔ دنیا میں!!!”
وہ گردن پیچھے پهینکتی ہنس پڑی اس نے جیسے اپنی بات کو انجوائے کیا تھا اب جو کچھ اس کے ذہن میں آ رہا تھا وہ کہہ نہیں سکتی تھی لیکن اسے ہنسی شدید والی آ رہی تھی۔
اسے یوں پاگلوں کی طرح ہنستے دیکھ کر بھی وہ سڑے تاثرات سجائے کھڑا رہا سرمئی آنکھیں البتہ اس کے ہنسی سے سرخ ہوتے چہرے پر گڑھی تھیں۔۔
انہیں دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ وہ اس سے ایک سال دو ماہ بڑی تھی۔ اس کے کسرتی جسم اور چھ فٹ سے نکلتی ہائیٹ کی وجہ سے وہ اس کے سامنے بچی لگتی تھی۔
“اچھا ایک آخری بات! اوکے؟ تمہیں سب سے زیادہ غصہ کس پر آتا ہے مطلب سب سے زیادہ!!!” ۔۔
بال کھول کر پھر سے جوڑے میں باندھتے ہوئے وہ سیدھی ہو کر بیٹھی اس کے پیر ہیلز سے کچھ دور ہی تھے۔۔
“تم پر ۔۔۔ اس کے بعد تمہاری ہیلز پر!!”
وہ کٹیلی نظر اس پر پھر زمین پر پڑی ہیلز پر ڈالتا دانت پیس کر بولا۔ اس کا بس چلتا دنیا کی ساری ہیلز کو آگ لگا دیتا سب سے پہلے اس جنگلی گھنگھریالے بالوں والی چڑیل کی جس نے اپنی ہیلز سے گلاس ڈور پر کئی بار ڈیزائن چھاپے تھے۔۔!
ارشیہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی اس نے دانت پیس کر اس کھڑوس، بدتمیز، منحوس بلے کو دیکھا۔۔

Piffer by Kainat Jameel Abbasi

بظاہر ایک عام صورت،
مگر دل کی تہہ میں ایک عہدِ پوشیدہ سلگتا تھا،
ایک خواہشِ جاں گداز جو سرحدوں کی خاک سے ہمکلام رہتی تھی۔
وہ ایک عہد
کہ جان قربان ہو اور نام ابدی ہو۔
وہ خواہش۔۔۔
کہ خون بہے اور مٹی خوشبو سے مہک اُٹھے۔
پھر یکایک وہ خاک سے اُٹھا
اور عرش کی رفعتوں تک جا پہنچا۔
کہ بخت اس کا بلند تھا،
اور تقدیر نے اس کے نصیب میں پروازِ لامحدود لکھی تھی۔
وہ رموز و کنایات میں بارہا اپنا حال کہتا رہا،
دبی آواز میں اپنی راہ کے چراغ دکھاتا رہا،
پر کوئی نہ سمجھ سکا۔
یوں اس کا عہد، اس کی خواہش، اس کے اشارے۔۔۔
سب ابد کے سینے میں ثبت ہو گئے،
اک معمّا، اک سرگوشی،
جو آج بھی اہلِ دل کو بے چین رکھتی ہے۔
1 4 5 6