“کیا آپ مس فیملی کو جانتی ہے۔؟” حیدر نے اسکے قریب آنے پر جھک کر اسکے کان میں سرگوشی کی۔
“جی کیوں زکوٹے جن صاحب آپ کو ان سے کیا کام؟” وہ لاپراہ بنی۔
“کیونکہ وہ خوش قسمتی سے میری زوجہ محترمہ ہوتی ہے۔” اسکی ناک دباتا وہ سیدھا ہوا۔
ریحاب نے ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا۔”اف یہ شخص۔۔۔” آبی نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا جو سارے سے بےنیاز مکمل توجہ سے بس اسے دیکھ رہا تھا۔
احد کی نیلی آنکھوں میں محبت تھی۔۔۔شرارتی مسکراہٹ لیے اسکے جھمکے کو چھوا۔وہ اسے چڑھا رہا تھا اور وہ چڑھ رہی تھی