کوئی زخموں پر مرہم رکھتا تھا…
کوئی تحریروں سے امیدیں جگاتا تھا…
کوئی سچ کی آنکھ بنا ہوا تھا…
وہ ایک امید تھے، ایک آواز تھے…
ایک روشنی، ایک انقلاب تھے وہ…
مگر امیدیں ٹوٹ گئیں، آوازیں دفن ہو گئیں…
روشنی پر اندھیرے نے راج کر لیا…
اور انقلاب… کبھی آ نہ سکا…
وجہ؟
وہ لوگ… جن کے دلوں میں دل نہیں، پتھر تھے…
جن کے ضمیر مر چکے تھے…
جو لاپرواہ، بےحس، اور خاموش تماشائی بنے رہے…
سب مٹی ہو گئے…
اور جو باقی رہ گئے۔۔
ان کو بچانے بھی کوئی آگے نہیں بڑھا۔
وہ… تنہا رہ گئی…
نم آنکھیں، لرزتے لب،
بہتے آنسو، اور کچھ دعائیں۔۔
چاروں طرف آگ کا طواف…
جس کی تپش اس تک پہنچ رہی تھی۔
اور اس کی آہیں، اس کی پکار…
بس ایک رب سن رہا تھا…
کیا اس کا سننا کافی نہیں؟
کہیں میں اور آپ بھی تکلیف کی شدت میں زبان سے ادا ہونے والی ان بددعائوں میں شامل تو نہیں؟
کیا ہم خاموش تماشائیوں پر عذاب نہیں آئے گا؟
کچھ خواہشیں گناہ نہیں ہوتیں، مگر زمانہ اُنہیں معاف نہیں کرتا۔
کبھی ایک چاند کو دیکھنے کی آرزو، انسان کو ایسی شب کے سپرد کر دیتی ہے جس کے بعد زندگی پہلے جیسی نہیں رہتی۔
ماہ گزیدہ ایک خاموش دل، گھٹے ہوئے ماحول، اور اُن اَن کہے خوفوں کی حکایت ہے جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ روح پر اپنے نقوش ثبت کر جاتے ہیں۔
یہ افسانہ خواہش اور پابندی، معصومیت اور اندیشے، نیز چاندنی اور تاریکی کے درمیان معلق ایک ایسی کیفیت کو بیان کرتا ہے جسے ہر شخص پڑھ تو سکتا ہے، مگر پوری طرح محسوس نہیں کر پاتا۔
کہتے ہیں کہ خود سے محبت کرنے کے لیے۔۔
انسان کا خوبصورت ہونا لازم ہوتا ہے۔
مگر انسان کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ۔۔
ہر انسان منفرد انداز میں خوبصورت ہوتا ہے۔
اور جان لو تم یہ بات کہ۔۔
خوبصورتی خوداعتمادی کا نام ہے۔
خوداعتمادی کے دو ہی اصول ہیں۔
یا تو تم خود کو جان کو
یا پھر اپنے خدا کو جان لو۔
خالق اور مخلوق کے درمیان
رشتہ صرف محبت کا ہے۔
جیسے کسی تصویر اور مصور کے درمیان
محبت کا تصور ہوتا ہے۔
تصویر کا حسن، مصور کے تصور کا حسن ہے
اور مخلوق کا حسن، خالق کی قدرت کا حسن ہے۔
کسی تصویر کی توہین دراصل مصور کی توہین ہے۔
اور کسی مخلوق کے حسن کی توہین، دراصل خالق کی قدرت کی توہین ہے۔
اگر تم خود سے کبھی محبت نہ کر سکے تو۔
تم حقیقی طور پر خدا سے محبت نہیں کر سکو گے۔