All

Junoon e Meer Haadi Shah by Laiba Irshad

یہ سیزن ٹو ہے جان شاہ کا جس کو اپنے سب کی بہت زیادہ سپورٹ اور اصرار پر لکھا گیا ہے۔۔۔۔
یہ کہانی ایک فیملی کے گرد گھومتی ہے جو بہت سی مشکلیں انے کے بعد اپنا اللہ پر یقین پختہ رکھتے ہیں زرا سی پریشانی
میں خوشی میں اپنے اللہ کو یاد رکھتے ہیں اور پھر اللہ انکے مسلے سیدھے کرتا جاتا ہے۔۔۔
یہ کہانی ہے چھوٹے چھوٹے دو کیوں بچو کی جو کبھی لڑ رہے ہوتے ہیں تو کبھی کھیل اور کبھی کبھی اپنا فیوچر پلین
کریش رہے ہوتے ہیں۔۔۔
یہ کہانی ہے علیزے شاہ اور میر ہادی شاہ کی محبت کی میر جس نے اپنی علیزے کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی
اسکو ہرٹ کرنے بعد اس سے معافی مانگی ایک پروبلم میں کی گئ دوسری شادی کے بعد بھی اس نے اپنی علیزے کا خیال
رکھا اور اس دوسری عورت کے جرم سب کے سامنے لایا۔۔۔۔
یہ کہانی ہے زوہیب اور ماہی کی محبت کیوں اور نوک جھوک والا کپل جو کہ اسی فیملی کا حصہ ہے ایک دوسرے سے
انتہا کی محبت کرنے والے اور دوسروں کو محبت اور اچھی باتیں سیکھانے والے۔۔۔۔
یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی ہیرا افریدی کی جس نے ایک خوشحال گھر کو ٹوڑنے کوشش کی اپنی انا اور ضد میں اکر
کتنے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی کوشش کی لیکن پھر اللہ نے اسے سبق دیکھایا اس نے اللہ کے بندے کو ہرٹ کیا
تھا اور پھر اللہ نے وہ کیا جو اللہ کے بندے کو رلانے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔

Junoon e Muhabbat

یہ کہانی ہے عشوہ خان کی جو موبائل ملنے پر گمراہی کی راہ پہ نکل پڑی۔۔۔اور پھر ایک ایک لڑکے کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بعد اس کا پھر اپنے رب کی طرف لوٹنا۔۔۔اور پھر اسے دوبارہ سے اسامہ خان سے جنون کی حد تک محبت ہونا

Junoon Episode 1 by Fiza Saleem

یہ کہانی حقیقت کی تلخیوں اور خوابوں کی روشنیوں کو ملا کر لکھی گئی ہے۔
اس کہانی کے دو مرکزی کردار ہیں: عائشے کریم اور عمر سید۔
عائشے ایک ہندوستانی لڑکی ہے جسے ناولز پڑھنا اور لکھنا بے حد پسند تھا۔ اگر اللہ کی ذات کے بعد اُسے کسی چیز میں سکون اور خوشی محسوس ہوتی تھی تو وہ اُس کی ناولز تھیں، جنہیں پڑھ کر وہ ایک ایسی دنیا میں چلی جاتی تھی جہاں اسے نہ کوئی طنز کرنے والا ہوتا، نہ دھوکہ دینے والا، اور نہ کوئی چھوڑ کے جانے والا۔ ہر چیز بہت خوبصورت ہوتی تھی۔
اس کا‌ پسندیدہ کردار عمر جہانگیر تھا۔
وہ اُسے کبھی اُس کی بے باکی کی وجہ سے پسند کرتی، کبھی اُس کے اپنے جذبات کو کبھی نہ ظاہر کرنے والے انداز سے، اور کبھی صرف اس لیے کہ وہ اُس سے خود کو رلیٹ کرتی تھی۔
اُسے عمر جہانگیر میں اپنا عکس نظر آتا تھا یا‌ خود میں عمر جہانگیر کا۔
عمر سید ایک پاکستانی امیر بزنس مین کا بڑا بیٹا تھا، جسے اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ کوئی دوسرا اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اس سے اُسے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اپنی نظر میں بہت اچھا تھا — اور اُس کے لیے یہی کافی تھا۔
اس کے قیامت خیز سراپے کے بعد پہلی خاص بات اُس کی زبان تھی، جو ہمیشہ ہر سوال کا فوری اور لاجواب جواب دینے کے لئے تیار رہتی تھی۔
اور دوسری بات — وہ thrill کا دیوانہ تھا۔
چاہے وہ بیچ سڑک پر کار ڈرفٹنگ ہو یا ٹریفک میں ہوا کی رفتار سے بائیک چلانا — وہ ان سب چیزوں میں ماہر تھا۔
یہ سب اُس کی ہوبیز نہیں تھیں — وہ یہ سب کچھ صرف سیلف سیٹسفیکشن کے لیے کرتا تھا۔
عائشے اور عمر کے ملک سے لے کر ان کی زندگی، سوچ اور خیالات سب کچھ بےحد مختلف تھے، لیکن دل تو کسی پر آنے سے پہلے یہ سب نہیں سوچتا نا، اگر ایک شخص پر آ جائے تو قصہ وہیں تمام ہو جاتا ہے، پھر زندگی اُس شخص کے ساتھ لکھی ہو یا محض اُس کی یادوں کے ساتھ۔

Junoon Episode 2 by Fiza Saleem

یہ کہانی حقیقت کی تلخیوں اور خوابوں کی روشنیوں کو ملا کر لکھی گئی ہے۔
اس کہانی کے دو مرکزی کردار ہیں: عائشے کریم اور عمر سید۔
عائشے ایک ہندوستانی لڑکی ہے جسے ناولز پڑھنا اور لکھنا بے حد پسند تھا۔ اگر اللہ کی ذات کے بعد اُسے کسی چیز میں سکون اور خوشی محسوس ہوتی تھی تو وہ اُس کی ناولز تھیں، جنہیں پڑھ کر وہ ایک ایسی دنیا میں چلی جاتی تھی جہاں اسے نہ کوئی طنز کرنے والا ہوتا، نہ دھوکہ دینے والا، اور نہ کوئی چھوڑ کے جانے والا۔ ہر چیز بہت خوبصورت ہوتی تھی۔
اس کا‌ پسندیدہ کردار عمر جہانگیر تھا۔
وہ اُسے کبھی اُس کی بے باکی کی وجہ سے پسند کرتی، کبھی اُس کے اپنے جذبات کو کبھی نہ ظاہر کرنے والے انداز سے، اور کبھی صرف اس لیے کہ وہ اُس سے خود کو رلیٹ کرتی تھی۔
اُسے عمر جہانگیر میں اپنا عکس نظر آتا تھا یا‌ خود میں عمر جہانگیر کا۔
عمر سید ایک پاکستانی امیر بزنس مین کا بڑا بیٹا تھا، جسے اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ کوئی دوسرا اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اس سے اُسے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اپنی نظر میں بہت اچھا تھا — اور اُس کے لیے یہی کافی تھا۔
اس کے قیامت خیز سراپے کے بعد پہلی خاص بات اُس کی زبان تھی، جو ہمیشہ ہر سوال کا فوری اور لاجواب جواب دینے کے لئے تیار رہتی تھی۔
اور دوسری بات — وہ thrill کا دیوانہ تھا۔
چاہے وہ بیچ سڑک پر کار ڈرفٹنگ ہو یا ٹریفک میں ہوا کی رفتار سے بائیک چلانا — وہ ان سب چیزوں میں ماہر تھا۔
یہ سب اُس کی ہوبیز نہیں تھیں — وہ یہ سب کچھ صرف سیلف سیٹسفیکشن کے لیے کرتا تھا۔
عائشے اور عمر کے ملک سے لے کر ان کی زندگی، سوچ اور خیالات سب کچھ بےحد مختلف تھے، لیکن دل تو کسی پر آنے سے پہلے یہ سب نہیں سوچتا نا، اگر ایک شخص پر آ جائے تو قصہ وہیں تمام ہو جاتا ہے، پھر زندگی اُس شخص کے ساتھ لکھی ہو یا محض اُس کی یادوں کے ساتھ۔
1 201 202 203 507