All

Justuju e Hayat by Areeba Ahmed

 یہ کہانی ایک ماہرِ نفسیات کی ہے جو خودی، رشتوں اور خود کو سمجھنے کے سفر پر ہے، دورانِ تعلیم اسے ایک ایسا انکشاف ہوتا ہے جو اس کی زندگی بدل دیتا ہے۔ دوستی، خاندانی تعلقات اور نفسیاتی پہلؤں پر مبنی یہ کہانی عورت کی خود مختاری ااور شناخت کے سفر کو اجاگر کرتی ہے۔

K Abad Shehr e Janah ho Part 10

آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں  اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ  “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔

K Abad Shehr e Janah ho Part 12

آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں  اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ  “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔

K Abad Shehr e Janah ho Part 13

آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں  اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ  “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔

K Abad Shehr e Janah ho Part 9

آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں  اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ  “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔

Kaaj Button Aur Dhaga Novel by Mansha Mohsin Ali

Kaaj Button Aur Dhaga is a Marital Problems Based , After marriage Based , Family Drama, Digest Novel , Happy Ending, Short Novel Social Romantic Novel by Mansha Mohsin Ali Published in Khawateen Digest March 2026.
کاج بٹن اور دھاگا از منشاءمحسن علی
تبصرہ نگار: اقرا عنایت
خواتین ڈائجسٹ مارچ ۲۰۲۶
درِ نایاب اپنے نام کی طرح واقعی ایک نایاب لڑکی ہے؛ ذہین، خوبصورت , پُر اعتماد اور بے حد قابل جو اپنے ماں باپ کا فخر ہے۔ پھر ایک دن اسکی زندگی میں عباد کریم کا داخلہ ہوتا ہے۔بقول نایاب کے” ٹام کروز”
شادی کے بعد نایاب نے خود کو پوری طرح اپنے شوہر کے مطابق ڈھال لیا۔ اس نے وہ سب کچھ اپنایا جو عباد کو پسند تھا۔ اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھنا، اس کی رضا میں راضی رہنا اور اس کے رنگ میں رنگ جانا ہی نایاب کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ وہ ایک ایسی بیوی بننے کی کوشش کرتی رہی جو اپنے شوہر کی ہر خواہش کو اپنی خواہش بنا لے۔مگر اس تمام خلوص اور قربانی کے باوجود عباد کریم کے دل میں اس کے لیے محبت پیدا نہ ہو سکی۔ اس کی حقیقت یہ تھی کہ وہ کسی اور کی پہلی نظر کی محبت میں گرفتار تھا۔ نایاب اس کے لیے محض ایک بیوی تھی اور شاید صرف اپنے والدین کی پسند۔
لیکن نایاب کو یہ تلخ حقیقت سمجھ آجاتی ہے کہ جس محبت کی وہ منتظر ہے، وہ اسے کبھی نہیں ملے گی۔ چنانچہ ایک دن اس نے خاموش مگر باوقار فیصلہ کیا۔ وہ اپنی چار سالہ بیٹی کا ہاتھ تھام کر عباد کو چھوڑ دیتی ہے اور اپنے گھر واپس آ جاتی ہے۔
یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ
کیا فقط بیوی ہونا شوہر کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ کیا اس کی وفا، اس کی قربانیاں اور اس کی بے لوث خدمت مرد کی نظر میں واقعی اتنی غیر اہم ہو سکتی ہیں؟
یہ ایک ہیپی اینڈنگ کہانی ہے مگر اس کے اندر کئی کڑوی حقیقتیں چھپی ہیں۔ اگر ان پر گہرائی سے سوچا جائے تو نایاب کا عباد کو چھوڑ دینا بالکل درست ہوتا۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ عورت کو اکثر جگہوں پر اپنے اندر کے جذبات کو مار کر، کبھی اپنی انا کو سلا کر، اپنے والدین یا اپنی اولاد کے لیے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔اور نایاب نے بھی کجھ ایسا ہی کیا۔
منشا محسن علی نے اس کہانی کو جس خوبصورت انداز میں لکھا ہے، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔ الفاظ کی نزاکت، منظر نگاری کی خوبصورتی اور احساسات کی گہرائی۔اتنے احساس موضوع کو بہترین انداز میں لکھنا۔اور ہاں! کہانی میں ایک غیر متوقع پلاٹ ٹوئسٹ بھی ہے۔
1 202 203 204 507