Author

Fiza Saleem

Author's books

Junoon Episode 1 by Fiza Saleem

یہ کہانی حقیقت کی تلخیوں اور خوابوں کی روشنیوں کو ملا کر لکھی گئی ہے۔
اس کہانی کے دو مرکزی کردار ہیں: عائشے کریم اور عمر سید۔
عائشے ایک ہندوستانی لڑکی ہے جسے ناولز پڑھنا اور لکھنا بے حد پسند تھا۔ اگر اللہ کی ذات کے بعد اُسے کسی چیز میں سکون اور خوشی محسوس ہوتی تھی تو وہ اُس کی ناولز تھیں، جنہیں پڑھ کر وہ ایک ایسی دنیا میں چلی جاتی تھی جہاں اسے نہ کوئی طنز کرنے والا ہوتا، نہ دھوکہ دینے والا، اور نہ کوئی چھوڑ کے جانے والا۔ ہر چیز بہت خوبصورت ہوتی تھی۔
اس کا‌ پسندیدہ کردار عمر جہانگیر تھا۔
وہ اُسے کبھی اُس کی بے باکی کی وجہ سے پسند کرتی، کبھی اُس کے اپنے جذبات کو کبھی نہ ظاہر کرنے والے انداز سے، اور کبھی صرف اس لیے کہ وہ اُس سے خود کو رلیٹ کرتی تھی۔
اُسے عمر جہانگیر میں اپنا عکس نظر آتا تھا یا‌ خود میں عمر جہانگیر کا۔
عمر سید ایک پاکستانی امیر بزنس مین کا بڑا بیٹا تھا، جسے اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ کوئی دوسرا اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اس سے اُسے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اپنی نظر میں بہت اچھا تھا — اور اُس کے لیے یہی کافی تھا۔
اس کے قیامت خیز سراپے کے بعد پہلی خاص بات اُس کی زبان تھی، جو ہمیشہ ہر سوال کا فوری اور لاجواب جواب دینے کے لئے تیار رہتی تھی۔
اور دوسری بات — وہ thrill کا دیوانہ تھا۔
چاہے وہ بیچ سڑک پر کار ڈرفٹنگ ہو یا ٹریفک میں ہوا کی رفتار سے بائیک چلانا — وہ ان سب چیزوں میں ماہر تھا۔
یہ سب اُس کی ہوبیز نہیں تھیں — وہ یہ سب کچھ صرف سیلف سیٹسفیکشن کے لیے کرتا تھا۔
عائشے اور عمر کے ملک سے لے کر ان کی زندگی، سوچ اور خیالات سب کچھ بےحد مختلف تھے، لیکن دل تو کسی پر آنے سے پہلے یہ سب نہیں سوچتا نا، اگر ایک شخص پر آ جائے تو قصہ وہیں تمام ہو جاتا ہے، پھر زندگی اُس شخص کے ساتھ لکھی ہو یا محض اُس کی یادوں کے ساتھ۔

Junoon Episode 2 by Fiza Saleem

یہ کہانی حقیقت کی تلخیوں اور خوابوں کی روشنیوں کو ملا کر لکھی گئی ہے۔
اس کہانی کے دو مرکزی کردار ہیں: عائشے کریم اور عمر سید۔
عائشے ایک ہندوستانی لڑکی ہے جسے ناولز پڑھنا اور لکھنا بے حد پسند تھا۔ اگر اللہ کی ذات کے بعد اُسے کسی چیز میں سکون اور خوشی محسوس ہوتی تھی تو وہ اُس کی ناولز تھیں، جنہیں پڑھ کر وہ ایک ایسی دنیا میں چلی جاتی تھی جہاں اسے نہ کوئی طنز کرنے والا ہوتا، نہ دھوکہ دینے والا، اور نہ کوئی چھوڑ کے جانے والا۔ ہر چیز بہت خوبصورت ہوتی تھی۔
اس کا‌ پسندیدہ کردار عمر جہانگیر تھا۔
وہ اُسے کبھی اُس کی بے باکی کی وجہ سے پسند کرتی، کبھی اُس کے اپنے جذبات کو کبھی نہ ظاہر کرنے والے انداز سے، اور کبھی صرف اس لیے کہ وہ اُس سے خود کو رلیٹ کرتی تھی۔
اُسے عمر جہانگیر میں اپنا عکس نظر آتا تھا یا‌ خود میں عمر جہانگیر کا۔
عمر سید ایک پاکستانی امیر بزنس مین کا بڑا بیٹا تھا، جسے اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ کوئی دوسرا اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اس سے اُسے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اپنی نظر میں بہت اچھا تھا — اور اُس کے لیے یہی کافی تھا۔
اس کے قیامت خیز سراپے کے بعد پہلی خاص بات اُس کی زبان تھی، جو ہمیشہ ہر سوال کا فوری اور لاجواب جواب دینے کے لئے تیار رہتی تھی۔
اور دوسری بات — وہ thrill کا دیوانہ تھا۔
چاہے وہ بیچ سڑک پر کار ڈرفٹنگ ہو یا ٹریفک میں ہوا کی رفتار سے بائیک چلانا — وہ ان سب چیزوں میں ماہر تھا۔
یہ سب اُس کی ہوبیز نہیں تھیں — وہ یہ سب کچھ صرف سیلف سیٹسفیکشن کے لیے کرتا تھا۔
عائشے اور عمر کے ملک سے لے کر ان کی زندگی، سوچ اور خیالات سب کچھ بےحد مختلف تھے، لیکن دل تو کسی پر آنے سے پہلے یہ سب نہیں سوچتا نا، اگر ایک شخص پر آ جائے تو قصہ وہیں تمام ہو جاتا ہے، پھر زندگی اُس شخص کے ساتھ لکھی ہو یا محض اُس کی یادوں کے ساتھ۔