Thriller

Rehaf Novel by Warisha Afridi

رِهاف کی کہانی چند کرداروں کے گرد بُنی گئی ہے رِهاف مراد خان، ابراہیم زاہد خان، زین العابدین، زرمینہ، سفیرہ طاہر خان اور جواد طاہر خان۔ اس پوری داستان کا مرکزی خیال سروائیول، یعنی بقا ہے۔
رِهاف… وہ لڑکی جو اس کہانی کی مرکزی کردار ہے، اور جن لوگوں سے اس کی زندگی جڑی ہے، وہ سب اس کہانی میں ایک نہ ایک رنگ بھرتے ہیں۔ رِهاف کی زندگی میں کوئی ایسا ہے جو اسے ڈراتا ہے، دھمکاتا ہے اور مختلف طریقوں سے اس کے وجود کو لرزا دیتا ہے۔ مسائل کا بوجھ اس کے کندھوں پر ہے، مگر پھر بھی وہ اب تک مضبوطی سے کھڑی ہے۔
اب سوال یہ ہے… کیا وہ آنے والے وقت میں بھی اپنی جگہ جما کر کھڑی رہ سکے گی؟ یا پھر کسی مقام پر اس کی ہمت ڈھے جائے گی؟

Aik Bhanwar Sayyal Novel by Khansa Azhar

یہ کہانی وادیِ سراب میں پندرہ سال پہلے ہوئے بس حادثے کے گرد گھومتی ہے۔۔ وہ حادثہ تھا یا اتفاق یا کوئی سازش؟ اس بس حادثے کی دستاویزات پندرہ سال بعد وادیِ سراب کے ایک جانے مانے آدمی کے ہارٹ اٹیک سے موت کے بعد سامنے آتی ہیں۔ جہاں وادیِ سراب کے لوگ حیرت زدہ ہوئے تو وہیں کچھ لوگوں کے چہروں سے نقاب اترا اور کچھ بے چین ہوئے ، کچھ نے سچ کا سامنا کرتے ہوئے اپنا بدلہ قدرت کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا۔۔ حادثہ اتفاق یا سازش یہ اس کہانی کا ایک اہم مدعہ ہے۔۔ حادثہ ؟ اتفاق ؟ یا سازش؟

Qarh Novel by Areej Rao

کہانی لا تعداد کردار۔ایک ‘زین کمال’ ہے۔معروف ہیکر۔۔۔۔اور ہوٹل چین کا مالک زین کمال۔۔لیکن اس کی ایک اور پہچان بھی ہے۔وہ صوفیہ محل کا بڑا شہزادہ ہے۔عالمز کا پہلا وارث ۔اس کی ستیلی بہن کے مطابق وہ انتہائی بد اخلاق ہے۔۔اپنے باپ اور دادا کو نام سے پکارنے والا ایک بدتمیز شخص۔لیکن وہ محرومیوں کا مارا تھا۔۔ہنسنے کھیلنے کی عمر میں اس نے خون دیکھا تھا۔اس نے چینخیں سنی تھی۔۔وہ بھلا نارمل کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔پھر ایک وہ تھی۔۔ظالموں کے لیے ان سے بڑھ کر ظالم ملکہ۔ایس پی نعمل کمال۔۔جسے زبان سے زیادہ آنکھوں اور اس سے بھی زیادہ ہاتھوں کا استعمال پسند تھا۔۔۔وہ زین کمال کی منکوحہ تھی۔۔لیکن ان کے بیچ میں ‘انا’ آگئی تھی۔۔وہ انجان تھے کہ ‘محبتوں میں انائیں نہیں ہوتی’۔
وہ جہانگیر دلاور تھا۔جو انٹرنیشنل چور تھا۔۔۔جو کہا کرتا تھا کہ ‘جب تم چور کے نشانات نا ڈھونڈ پاؤ تو سمجھ جاؤ چور جہانگیر دلاور ہے۔’
ایش میکائیل۔۔دن میں پاکٹ پکر اور رات میں ایف بی آئی کو چکمہ دیتی ہیکر۔۔جو تین گھنٹوں میں پورے ایشیاء کا سرور اڑا سکتی تھی۔۔سیلف آبسیسڈ لڑکی۔۔
اوپر درج کچھ کردار ہماری کہانی کو زندہ رکھیں گیں۔۔وہ لڑیں گیں۔۔۔قتل کریں گیں۔۔چوری کریں گیں۔۔۔ان میں سے کوئی بھی ہیرو نہیں ہو گا کیوں کہ ہیروز تو سینٹ ہوتے ہیں نا؟۔۔۔وہ روزگار نہیں کھاتے۔۔ہماری کہانی کا ہر کردار دوسروں کے لیے ولن اور اپنے لیے ہیرو ہے۔۔وہ ہنسیں گیں۔۔ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچیں گیں۔۔پھر سیاہی میں لپٹے ایک کمرے میں ان کے خلاف سازشیں بنی جائیں گیں۔۔۔ان کو ‘بدنام’ کیا جائے گا۔پھر کہانی کا رخ بدلے گا۔بساط بدل جائے گی۔۔۔شہہ مات دینے والے شکست کھائیں گیں۔۔اور اپنی ملکہ مروا لینے کہ باوجود بادشاہ فاتح ٹھہرے گا۔
1 9 10