friendship based

Pyada by Tehreer o Dostaan

نسلوں سے چلی آتی ونی کی رسم میں ہمیشہ لڑکیوں کی زندگی ہی تباہی کا شکار ہوتی رہی ہے لیکن یہ کہانی ہے ایک ایسے لڑکے کی جو اپنے جگری دوست کے قتل کے الزام میں خون بہا میں دیا گیا۔جہاں ایک دوست زندگی کی بازی ہار جاتا ہے تو دوسرے کو اپنے دوست کے قتل کی پاداش میں نوکر سے بدتر درجہ دے کر ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔یہ کہانی ہے دولت کے نشے میں اندھے ہوئے لوگوں کی جن کی رگوں میں سفید خون کی گردش ہے۔ایک ایسی کہانی جہاں بدلے کی آگ ہر ایک وجود کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ایک انسان کی موت کے بعد محبت جیسے انمول جذبے کی دھجیاں اڑیں گی اور ہر کوئی خون کی ہولی کھیلے گا۔
شطرنج کی بساط بچھے گی اور ہر پیادہ تباہی میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے دھیرے دھیرے خود کو اندھیروں کے حوالے کر دے گا۔لیکن پیادوں کے اس کھیل میں بازی جیت لینے والا ایک ماہر کھلاڑی کہانی کے اختتام تک تجسس کی ایسی ڈوری سے سب کو باندھے رکھے گا کہ کہانی پلٹنے پر دیکھنے والی ہر آنکھ دنگ رہ جائے گی

Qandeel by Aleezay Khannum

قندیل کا یہ سفر جس کے
 کرداروں کی قسمت میں جلنا لکھا تھا ۔
اگر وہ بجھتے تو بیکار ہوتے اور اگر وہ جلتے تو ہر چیز کو جھلسا دیتے۔
سبز آنکھوں کا سفر کشمیر کے گلستان سے ہوتے ہوئے قبرستان کی سفید چادر تک۔
سرخ پنکھوں والی تتلی کا جسکی بہت اونچی آڑان نے اسے توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا۔
آزادی کی ایک قیمت ہوتی ہیں ۔اور مغل خاندان کے قیدیوں کو آزادی کی قیمت اپنی جان کے سرخ مائع سے دینی پڑتی تھی۔
قندیل کے اس داستان میں بادشاہ نے قاضی کا دل چیر دیا تھا بدلے میں قاضی نے بادشاہ کے دونوں بازو کاٹ دیئے۔
موت نے کہانی کے سب سے خاموش مہرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔
زندہ وہی رہے گا جو مر جائے گا ۔اور مرے گا وہی جو زندہ جلے گا ۔

Qayamat by Irza Khan

قیامت” ایک ایسی کہانی ہے جو دو مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والی طالبات کے تعلیمی سفر کے دوران ایک دوسرے سے جڑنے، بدلے ہوئے ماحول میں ڈھلنے، اور اپنی شناخت، نظریات اور رشتوں کو سمجھنے کے عمل کو بیان کرتی ہے۔ یہ ناول پاکستان، فلسطین اور آسٹریلیا جیسے مختلف معاشروں کی حقیقتوں کو ایک کہانی میں بُنتا ہے، جہاں یونیورسٹی کی زندگی، تہذیبوں کا تصادم، اور اپنے پن کی تلاش مرکزی موضوعات ہیں۔۔

Qissa e Dard

یہ داستان ہے دو دوستوں کی جو بچپن سے ایک دوسرے کے ساتھ تھے، حسد کی، ذہنی غلامی کی۔یہ داستان ایک فرضی کہانی ہے لیکن اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو آج کل ہمارے معاشرے کا اہم ناسور بن چکے ہیں تو اس لیے اسے کہانی کی طرح لیا جائے اور ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ یہ میری طرف سے ان کے نام جو ذہنی غلامی سے نکلنا چاہتے ہیں۔
1 14 15 16 22