Author

Nazish Munir

Author's books

Khezish Novel by Nazish Munir

منیزہ اور رائد کی کہانی جنگ زدہ سرزمین سے امید کے چراغ جلانے تک کا سفر ہے، جہاں ایک محققہ اپنے علم کے ذریعے ٹوٹے ہوئے معاشروں کو سمجھنے آتی ہے اور ایک خاموش مگر مضبوط نوجوان اس کے ساتھ روشنی بانٹنے کا عزم لے کر کھڑا ہوتا ہے۔ تعز کی ویران گلیوں سے لے کر ایران کے پُرسکون مناظر تک، یہ ناول محبت، قربانی، ذمہ داری اور وعدوں کی پاسداری کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے، جہاں سحری کی خاموش دعائیں، خوف کے سائے میں جلتے خواب، اور دو دلوں کا ایک دوسرے میں گھر بنا لینا زندگی کے سب سے بڑے معجزے بن جاتے ہیں۔ پھر نکاح اور ہنی مون کے بعد عید کی نرم خوشیاں، پیار بھرے لمحے، ایک دوسرے کا خیال، ہنسی مذاق اور مشترکہ خواب ان کی زندگی کو نئی روشنی دے دیتے ہیں۔ یہ کہانی صرف رومان نہیں بلکہ اندھیروں میں امید، ٹوٹے دلوں میں حوصلہ اور انسانیت کی اصل طاقت کا پیغام ہے۔

Muhabbat Aik Jugnu by Nazish Munir

”نہ پھوپھو کا پتہ معلوم ہے، نہ ان کا نمبر یاد رہا اور چل پڑی تہزیب بی بی، پھوپھو کے گھر چھاپہ مارنے کاش! میرا بھی کوئی منکوحہ جہان سکندر جیسا ہوتا، جو میرا سایہ بن کر میرا پیچھا کرتا، مجھے غیر محفوظ راہوں سے بچانے اپنا فرائی پین لے کر پہنچ جاتا۔“وہ خود کو کوس رہی تھی۔ اسے کیا سوجھی کہ ماموں کے بغیر تنہا سفر کرنے نکل پڑی، جبکہ وہ جانتی تھی کہ حقیقت میں کوئی جہان سکندر اسلام آباد میں اس کا منتظر نہیں تھا۔
 ”تمیزدار رولر کوسٹر!“ تبھی کسی نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔ داؤد کا چہرہ اپنی نظروں کے سامنے دیکھ کر اس کا دل رو دینے کو چاہا۔
”تہزیب حمزہ نام ہے میرا۔“دانت پیستے ہوئے اپنا بیگ سنبھالتے وہ پیچھے مڑی۔
” رکو، کہاں جا رہی ہو، چڑیل؟“ اپنے پیچھے اسلام آباد کے شہزادے کی پکار پر وہ رکی۔
 ”کسی پہاڑ سے کودنے۔۔۔بتا دیجیے، کون سا سب سے بلند ہے تاکہ سہولت سے یہ کام سرانجام دے پاؤں۔“
بغیر پلٹے وہ جل کر بولی۔
 ”ابھی ہم اسلام آباد والے اتنے بےمروت نہیں ہوئے کہ اپنی دہلیز پر آئے مہمانوں کو یوں خودکشی کا ویزا دینے لگیں۔“وہ مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولا۔

Nosht by Nazish Munir

کبھی کبھی ایک بےچین سی خاموشی دل کے اندر یوں بس جاتی ہے کہ لفظ کم لگتے ہیں اور صداؤں میں کوئی ایسا رنگ بولنے لگتا ہے جو صرف دل محسوس کرتا ہے۔ “نوشت” ایک ایسی ہی کہانی ہے۔ایک نابینا لڑکی، ایک بےچہرہ آواز، ایک گمنام صدا اور ایک مکتوب جو کبھی لکھا نہیں گیا مگر سن لیا گیا۔
میں نے یہ افسانہ اس وقت تخلیق کیا جب ذہن میں ایک سوال گونجا، کیا ہم اس صدا کو پہچان سکتے ہیں جو ہماری قسمت میں لکھی گئی ہو، چاہے وہ صدا آنکھوں سے نظر نہ آئے؟ یہی سوچ “نوشت” کی بنیاد بنی۔
یہ صرف محبت کی کہانی نہیں، یہ مقدر، سننے اور سنائے جانے کی کہانی ہے۔ میں نے چاہا کہ یہ افسانہ محض جذباتی نہ ہو، بلکہ اس میں اللہ کی حکمت، قرآن کی روشنی اور انسان کی ٹوٹی ہوئی امیدوں کے درمیان پلٹنے والی “صدا” کو محسوس کیا جائے۔ “نوشت” لکھتے ہوئے میں نے جانا کہ کچھ تحریریں صرف کاغذ پر نہیں، روح پر لکھی جاتی ہیں اور شاید یہی میری وہ تحریر تھی۔
 ایک ایسی صدا جو شاید آپ کی قسمت میں بھی لکھی ہو۔

Tasavur by Nazish Munir

کہانی محبت جنون پاکیزگی اور دیوانگی کے گرد گردش کرتی ہے۔بنیادی کرداروں کے تصور سے کوسوں دور انکی زندگی کی تصویر بدل کر وہ رکھ دیکھاتی ہے جس کا محور انکی سوچیں کبھی نہیں رہی۔وجہ جنونیت کا شکار وہ کردار ہے جو جنہیں اپنی چاہت حاصل کرنے کا جنون ہمیشہ سے تھا۔مختلف کرداروں کی زندگی کی تصویر جان کر آپ کو کچھ نرالہ پڑھنے کو ملے گا۔

Yugan Episode 1 & 2 by Nazish Munir

“یوگن” ایک ایسا ناول ہے جو جاپان کی خاموش خوبصورتی، دل کی گہرائی، اور انسان کے اندر چھپے زخمی احساسات کو نہایت نرمی سے اُجاگر کرتا ہے۔ اس میں فرزان ، جریر اور میوکی کی کہانی ہے، ایسے دل جو زندگی کے بوجھ تلے دبے ہوئے بھی ایک دوسرے کی موجودگی میں سکون، مان، انجانی سی کشش اور ایک بے آواز تعلق محسوس کرتے ہیں۔
ساکورا کے جھڑتے پھول، بارش میں بھیگی گلیاں، قدیم عبادت گاہوں کی خاموش فضا، اور ذہن کے بھید کھولتی نئی تحقیق،سب مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جہاں ہر منظر کسی پوشیدہ راز کی آہٹ بن جاتا ہے۔
یہ ناول محبت سے زیادہ روح کی شفا، تقدیر کی گتھیاں، اور اپنے آپ تک دوبارہ پہنچنے کا سفر ہے۔
“یوگُن” وہ کہانی ہے جو قاری کے دل پر آہستہ آہستہ اترتی ہے اور دیر تک وہیں ٹھہری رہتی ہے۔

Yun Hum Mille by Nazish Munir

“کیا آپ مس فیملی کو جانتی ہے۔؟” حیدر نے اسکے قریب آنے پر جھک کر اسکے کان میں سرگوشی کی۔
“جی کیوں زکوٹے جن صاحب آپ کو ان سے کیا کام؟” وہ لاپراہ بنی۔
“کیونکہ وہ خوش قسمتی سے میری زوجہ محترمہ ہوتی ہے۔” اسکی ناک دباتا وہ سیدھا ہوا۔
ریحاب نے ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا۔”اف یہ شخص۔۔۔” آبی نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا جو سارے سے بےنیاز مکمل توجہ سے بس اسے دیکھ رہا تھا۔
احد کی نیلی آنکھوں میں محبت تھی۔۔۔شرارتی مسکراہٹ لیے اسکے جھمکے کو چھوا۔وہ اسے چڑھا رہا تھا اور وہ چڑھ رہی تھی