ہم جو کہہ نہیں سکتے تمہیں لکھ کر سناٸیں گے
غم جب حد سے سوا ہوجاٸیں زبان بیاں نا کرپاۓ
تمہیں لکھ کر سناٸیں گے
ہے جو آپ بیتی عمرِ رواں میں سفر کرتی ہوٸی مسلسل
زباں سے کہہ نا پاٸیں گے
تمہیں لکھ کر سُناٸیں گے
لفظوں میں چھپی ہوتی ہے بلا کی تاثیر
قلم سے ہم صفحات پُر کرتے جاٸیں گے
زباں سے کہہ نا پاٸیں گے
تمہیں لکھ کر سناٸیں گے
ہوے جو ہم ہی سے ہم ہم کلام
دھندلا گۓ الفاظ آنکھیں ہوٸیں اشکبار
کیفیت جو ہے دل کی زباں سے کہہ نا پاٸیں گے
تمہیں لکھ کر سناٸیں گے
تمہیں لکھ کر سناٸیں گے
Views:2,245
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Poetry Collection by Farheen Abrar” Cancel reply
ایک کہانی بچپن کے حسین لمحوں کے نام ، اس جگہ کے نام جس سے جدا ہوکر معلوم ہوا کہ وہ درسگاہ کتنی خاص تھی۔ اس دوستی کے نام جو خاص لوگوں کے لیے بہت خاص بھی تھی تو کسی بے وفا کے لیے محض ہتھیار تھی۔ یہ نفرت ، دوستی اور محبت کے سفر کی ہنسی مذاق ، دکھ ،درد آنسوں اور اعتبار جیسے پہلؤں کے اجزاء سے بھرپور کہانی ہے
اس زخمی چڑیا کی کہانی، جسے زندگی کے سب موسم خوف دلاتے ہیں۔ کچھ اپنے رشتے، اسے بےحد ستاتے ہیں۔ دل کے نہاں خانے بدگمانی راج کرتی ہے۔ اسے تلاش ہے، سکون کی۔ ایسا سکوں جو اسے نگل جائے۔ ذہن مفلوج ہے مگر یہ ایک روح ہے، جو روشنی استعارہ چاہتی ہے۔ وہ سراپا حزن ایسے دیس کو رستہ بناتی ہے جہاں خون رنگ شامیں، افق سے لاڈ کرتیں ماتم کناں منظر تشکیل دیتی ہیں۔ سفر دشوار ہے لیکن اک پریتم ہے جس کی آغوش وہ ٹھہر کر میٹھی نیند سوتی ہے۔ محبت زاد چند پریاں ان کے سنگ کھلکھلاتی ہیں۔ یہ سب خواب کا محض حصہ ہے اور بس۔۔
Reviews
There are no reviews yet.