”نہ پھوپھو کا پتہ معلوم ہے، نہ ان کا نمبر یاد رہا اور چل پڑی تہزیب بی بی، پھوپھو کے گھر چھاپہ مارنے کاش! میرا بھی کوئی منکوحہ جہان سکندر جیسا ہوتا، جو میرا سایہ بن کر میرا پیچھا کرتا، مجھے غیر محفوظ راہوں سے بچانے اپنا فرائی پین لے کر پہنچ جاتا۔“وہ خود کو کوس رہی تھی۔ اسے کیا سوجھی کہ ماموں کے بغیر تنہا سفر کرنے نکل پڑی، جبکہ وہ جانتی تھی کہ حقیقت میں کوئی جہان سکندر اسلام آباد میں اس کا منتظر نہیں تھا۔
”تمیزدار رولر کوسٹر!“ تبھی کسی نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔ داؤد کا چہرہ اپنی نظروں کے سامنے دیکھ کر اس کا دل رو دینے کو چاہا۔
”تہزیب حمزہ نام ہے میرا۔“دانت پیستے ہوئے اپنا بیگ سنبھالتے وہ پیچھے مڑی۔
” رکو، کہاں جا رہی ہو، چڑیل؟“ اپنے پیچھے اسلام آباد کے شہزادے کی پکار پر وہ رکی۔
”کسی پہاڑ سے کودنے۔۔۔بتا دیجیے، کون سا سب سے بلند ہے تاکہ سہولت سے یہ کام سرانجام دے پاؤں۔“
بغیر پلٹے وہ جل کر بولی۔
”ابھی ہم اسلام آباد والے اتنے بےمروت نہیں ہوئے کہ اپنی دہلیز پر آئے مہمانوں کو یوں خودکشی کا ویزا دینے لگیں۔“وہ مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولا۔
یہ کہانی ایک فین فکشن ہے جس میں سعدی یوسف خان ، کارل ، حسن سلطان اور حمزہ حیدر علی ہیں ۔ یہ کہانی ہے دوستی کی محبت کی دوستوں پر جان دینے والوں کی یہ کہانی مزاہیہ ہے پر کہیں جزباتی بھی کر دے گی۔
یہ کہانی ہے ایک آزاد ملک میں رہے کر خود کو قید سمجھے والوں کی یہ کہانی ہے ایک معصوم بچی کی یہ کہانی ہے آزادی کی قیمت کی. میں مانتی ہوں پاکستان میں ہم ویسے آزاد نہیں ہے جیسے ہونا چاہیے مگر یہ کہنا کہ ہم سرے سے آزاد ہے ہی نہیں غلط ہے کیونکہ ہمیں آزادی کا اصل مطلب ہی نہیں پتا اس افسانے میں آزادی کا اصل مطلب ہے آزادی کی قیمت ہے اور یہ سبق ہے کہ اگر ہم ملک کو بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا
The intensity of love, the allure of mystery, the enchantment of magic, the depths of sorrow, and the terrifying realities of murder were all expressed by a writer who broke the locks of these narratives with their pen.