Novelettes

Khawab Nagri by Honey

 آیت اور فادی — دو مختلف دنیا کے لوگ،
ایک انا میں لپٹا ہوا، دوسرا احساس میں بسا ہوا۔
ایک حادثہ، ایک غلط فہمی، اور ایک فیصلہ…
جس نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
کیا زخموں سے بھری محبت کو تقدیر ایک اور موقع دے گی؟
یا سب کچھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا؟
یہ کہانی ہے محبت، غلط فہمیوں اور دوبارہ ملنے کی۔
ایک ایسی محبت جو ختم ہو کر بھی ختم نہیں ہوتی۔

Adhora Harf by Sehar Saif

یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو ٹوٹ کر بھی بکھرتی نہیں۔
زندگی کے دکھ، تنہائی اور رشتوں کے زخم — سب اس کے لفظوں میں ڈھل جاتے ہیں۔
“ادھورا حرف” ایک خاموش بغاوت ہے،
جو بتاتی ہے کہ سچ بولنے کے لیے شور نہیں،
بس حوصلہ اور قلم کافی ہیں۔
 “ادھورا وہ نہیں جو ہارا،
ادھورا وہ ہے جو لکھنا چھوڑ دے۔”

Maasoor Binafsi by Aura

“مأسور بنفسی” ایک ایسی کہانی ہے جو نفس کی قید اور ہدایت کی روشنی کے درمیان بھٹکتی روح کا قصہ ہے۔
ایلاف کی محبت، اس کی کمزوریاں اور اس کا سفر ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل آزادی خواہشات سے نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت سے ملتی ہے۔
یہ ناول دل کو جھنجھوڑتا ہے اور قاری کو اپنی زندگی پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کرتا ہے.

Zair Zabar Paish by Muhammad Musa Parvez

یہ کہانی نوجوان نسل کے جذبات، کمزوریوں، رشتوں کے اتار چڑھاؤ، قسمت کی زد و کوب اور انسان کے اندر چھپے ہوئے خلا کی گہرائیوں پر مبنی ہے۔
“زیر، زبر، پیش” انسانی روح کے انہی جھٹکوں، کٹاؤ اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ کو بیان کرتی ہے۔ وہ وقت جب ایک لمحے کی غفلت، ایک عادت یا ایک حادثہ زندگی کو پوری شدت سے بدل ڈالتی ہے۔

Ilhami Muhabbat by Tanzeela Noori

“الہامی محبت” ایک روحانی اور اصلاحی محبت کی کہانی ہے —
جہاں ایان اپنی غلط صحبت، دنیاوی خواہشات اور گناہوں کے اندھیروں سے نکل کر توبہ، ایمان اور سچی محبت کی روشنی پاتا ہے۔
عمائمہ ایک نیک سیرت اور پاکیزہ دل رکھنے والی لڑکی ہے جو اس کی زندگی میں اللہ کے الہام کی طرح آتی ہے —
ایک ایسی محبت جو جذبات نہیں، عبادت بن جاتی ہے

Jazbiyat Novel by Nayab Hassan

بیڈمنٹن کا وہ کورٹ جس میں زایان کبھی نہیں ہارا تھا۔ دسمبر کی آخری ٹھوکر کے بعد وہ یقینا کبھی کورٹ میں واپس قدم نہ دھرے گا۔ اور پشاور کا وہ آخری چکر جو دیا نے لگایا تھا اس کے بعد وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی۔ ہم ہمیشہ اس غم میں رہیں گے کہ دیا نے کبھی زایان کو کورٹ میں جیتتے نہیں دیکھا۔ اور اس طرح ایک بار پھر دسمبر کے بچھڑے دوبارہ کبھی نہیں ملیں گے۔
کہتے ہیں چند خواہشیں کبھی پوری نہیں ہوتی۔ جاذبیت انھیں خواہشوں کے نام اک دلاسہ ہے۔

Gawah Novel by Anoosha Muhammad Rafique Arzoo

یہ ناولٹ ایک ایسے گواہ کے نام ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انسان کی محدود سوچ سے پرے، بہت آگے کہیں کی یہ بات ہے۔ ایک گواہ کی گواہی کا راز ہے۔ یہ ناولٹ ”ایس-پی میرین البلوشی“ کی ایمانداری اور وطنِ عزیز سے محبت کا اظہار ہے۔
یہ ناولٹ، یہ کہانی آپ کو خود اپنا تعارف کرئے گی۔ یہ کہانی خود بتائے گی کہ یہ کہانی کیوں لکھی گئی ہے۔
اور اسی کہانی کے ذریعے آپ ملیں گے انوشہ آرزو کے آنے والے نئے ناول کے کرداروں سے۔ ایک پٹھان ”نگین یوسفزئی“ اور ایک بلوچ ”میرین البلوشی“ کی انوکھی داستان آپ کی منتظر ہے۔
گواہ سے ایک جھلک:
”شکر ہے کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے۔ جب ثبوت اور گواہ ہی نہیں ہوں گے تو سزا کیسے ملے گی۔“ وہ استہزائیہ ہنسا، اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں اس کی سزا کا تعین بھی کر چکا ہے۔ زمین کے دو فٹ نیچے اپنے گناہ کے تمام ثبوت سمیت وہ اس گناہ کو بھی دفنا رہا تھا جو اس کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ آزادی تھی۔ زندگی سے آزادی۔ ایسی زندگی سے آزادی جو اسی شخص کے باعث اس وجود کے لیے موت سے بدتر ہونے والی تھی۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ سب کر کے بھی وہ کوئی سزا نہیں پائے گا کیونکہ اس کے گناہ کا اس کے نزدیک کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب انسان کو لگتا ہےکہ اسے گناہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا کوئی گواہ نہیں کوئی ثبوت پیچھے باقی نہیں تب اسی لمحے قدرت اس کی حماقت پر مسکراتی ہے کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی گناہ نہیں جس کا کوئی گواہ نہ ہو۔ قدرت وسیلے بناتی ہے، اسباب پیدا کرتی ہے اور انسان گھوم پھر کر اپنے گناہ کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے وہ بے خبر چلا ہوتا ہے اس بات سے کہ ان اللہ بصیر بالعباد (سورۃ فاطر: ۴۴)

Matlooba Anasir by Waris Ali Abbasi

“مطلوبہ عناصر” ایک تاریک اور سنسنی خیز اردو کرائم تھرلر ہے جو طاقت، خوف اور نظام کے اندر چھپے ہوئے شیطان کو بے نقاب کرتا ہے۔
کہانی ایک پولیس تفتیشی کمرے سے شروع ہوتی ہے، جہاں ایک لنگڑا ملزم کامل رضا اپنی زندگی کی داستان سناتا ہے ایک ایسی داستان جس میں پانچ عام لوگ ایک انجانے ہاتھ کے ذریعے جرائم کی دنیا میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ گاڑی چوری سے لے کر اغوا، قتل اور سیاسی دہشت گردی تک، ہر قدم پر انہیں ایک نظر نہ آنے والا ماسٹر مائنڈ کنٹرول کرتا ہے جسے سب سرمد شاہ کے نام سے جانتے ہیں
1 29 30 31 32