Novelettes

Khamoshi Ki Awaz by Mahira Ahsan Sheikh

دُرِفشاں کی زندگی چھ سال کی عمر میں یتیمی کے اندھیروں میں ڈوب گئی تھی۔ خاموشیوں سے باتیں کرنے والی یہ لڑکی لفظوں کے سہارے اپنے زخم سیتی رہی۔ کالج میں ادب کی دنیا اس کا ٹھکانہ بنی، لیکن دل کے زخم اب بھی چیخ رہے تھے۔ زاویار، جو بچپن کی ایک دھندلی یاد تھا، بطور مہمان اسپیکر اس کی زندگی میں لوٹ آیا۔ وہ خاموشیوں کے درمیان امید کی پہلی کرن بنا۔ یہ کہانی درد، تنہائی، شفا اور بے آواز محبت کے سفر کی داستاں ہے۔

Tum Mere Alfaaz Ho by Mahira Ahsan Sheikh

یہ آئمہ کی داستان ہے—سترہ برس کی ایک نازک دل لڑکی جو ناولوں کے اوراق میں اپنی پہچان تلاش کرتی ہے۔ محبت اسے کہانیوں کے کرداروں سے ہوتی ہے اور لکھنے کا جنون اسے اپنے ہی الفاظ کی طلسماتی دنیا میں لے جاتا ہے۔ لوگ اس کے خوابوں کا مذاق اُڑاتے ہیں، مگر آئمہ رات کی خاموشیوں میں بیٹھ کر اپنے دل کی سرگوشیوں کو قرطاس پر اتارتی ہے—یہ اُس کے جذبات کو نکھار کر الفاظ میں ڈھالنے کا ایک دل آویز اور دل نشین سفر ہے۔

Mah e Nu by Abeera Kanwal

 یہ کہانی ماہ نور نامی لڑکی کی ہے جو پڑھنا چاہتی تھی مگر اس کے والدین نے اس کی شادی کردی۔شادی کے بعد اس کے شوہر کو روزگار میں مشکلات کا سامنا تھا اور ایک سال بعد وہ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا جس کے غصے میں اس نے ماہ نور کو تشدد کا نشانا بنایا اور اس کے بعد ماہ نور نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرتے دوبارہ اپنی پڑھائی شروع کی۔

Sadaye Haq by M A Hanjra

“یہ افسانہ اُن جھوٹی خبروں اور افواہوں کے گرد گھومتا ہے جو بظاہر معمولی لگتی ہیں، لیکن کسی کی زندگی، ساکھ اور رشتوں کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ بغیر تحقیق کے پھیلائی گئی باتیں کیسے ذہنی اذیت اور بدگمانی کو جنم دیتی ہیں۔ یہ افسانہ ایک خاموش پیغام ہے کہ زبان سے نکلا ہر لفظ اور سوشل میڈیا پر کیا گیا ہر جملہ ایک انسانی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔”

Safar e Dosti by Asma Muhammad Nadeem

“سفرِ دوستی” حیر اور منسا کی گہری دوستی کی کہانی ہے جو بچپن سے جوانی تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ کہانی سچی دوستی، قربانیوں، اور اعتماد کے خوبصورت رشتے کو پیش کرتی ہے۔ حیر فوج میں جانا چاہتی ہے جبکہ منسا استاد بننا چاہتی ہے۔ وقت اور دوری کے باوجود ان کی دوستی ہر مشکل پر قابو پاتی ہے۔

Train Ka Safar Aur Mein by Eiman Rizvi

جو خود کو تلاش کرنے کا سفر کرتے ہیں نہ وہ اتنے منصوبے نہیں بناتے
یہ لڑکی مجھے عام نہیں لگ رہی کچھ تو عجیب منفرد بات ہے اس میں اس کی آںکھوں میں ایک ان دیکھی قوت کئی راز چھپے ہیں ایسی شخصیتوں سے اب کم ہی سامنہ ہوتا ہے انہوں نے دہیمی آواز میں ساتھ بیٹھے لڑکے کے ساتھ اپنا نظریہ پیش کیا جو چہرا دوسری جانب کیئے بیٹھا تھا
زندگی ٹرین کےایک ڈبے کے مانند ہے جس میں ہم اپنی یادیں بناتے ہیں

پر ٹرین کی سیٹی کی آواز وقتاً بہ وقتاً یہ یاد دلا تی رہتی ہے کہ ہم یہاں کچھ وقت کے مہمان ہیں

ہر کہانی کا اختمام حاصل ہوجانا نہیں ہوتا ۔ حاصل ہوکر کہانی ختم ہوجاتی ہے پوری ہوکر زمانے میں کھو جاتی ہے لیکن کچھ لوگ لاحاصل ہوکر بھی اگلے شخص کا کردار بدل دیتے ہیں اس کی روح ان سے جڑ جاتی ہے

Gaflat e Bashar by Uswa Ishtiaque

 یہ افسانہ اُن تمام عورتوں کے نام ہے جنہوں نے مرد ذات کے ظلم و ستم برداشت کیے، اور اس بے رحم معاشرے میں جینے کی کوشش کی۔ اُن کہانیوں کے نام جو کبھی زبان تک نہ پہنچ سکیں، اُن چیخوں کے نام جو کانوں تک نہ گئیں، اور اُن خوابوں کے نام جو ظلم کے بوجھ تلے کچلے گئے۔ یہ اُن دلوں کی صدا ہے جو جانتے ہیں کہ اصل انصاف صرف اللّٰہ کی عدالت میں ملے گا۔
آج کے دور میں مرد عورتوں کے معاملے میں اللّٰہ سے کیوں نہیں ڈرتے؟ شاید اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے میں نے اپنی سوچ کو ایک افسانے کی صورت میں بیان کیا ہے۔

Dill Ke Adhore Lafz by Binte Sheikh Ramzan

“ہر دوسرے گھر کی کہانی: جب بیوی اپنے آپ کو بھول کر کاموں میں الجھ جاتی ہے اور شوہر کی توجہ سے محروم رہتا ہے، تو رشتے میں تلخی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن ایک ماں کی نصیحت اور خود کو سنوارنے سے محبت دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔ یاد رکھیں، رشتے کو بچانے کے لیے پیار، صبر اور بات چیت ضروری ہے۔”
1 28 29 30 32