یہ کہانی ایک دوشیزہ کے بارے میں ہے جس کی زندگی پہ لوگوں کے منفی رویے بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں، جو کہ اپنی زندگی میں موجود حقیقت کو قبول نہیں کر پاتی،وہ اصل زندگی سے فرار چاہتی ہے۔ اسے لگتا ہے جیسے آج بھی دنیا میں فرعونیت قائم ہے، اور وہ اس فرعونیت کی گرفت میں آ چکی ہے۔ وہ اس فرعونیت سے نجات کے لیے مسیحا ٰ کی آمد کا انتطار کر رہی ہے۔ اور وہ اپنی زندگی کو فیری ٹیلز کی زندگی کی طرح گزار نا چاہتی ہے۔ پھر اس کی زندگی میں سبز آنکھوں والےایک شخص کی آمد ہوتی ہے، تو سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا وہ شخص اسے حقیقی زندگی کی جانب لا پائے گا، کیا وہ شخص اسے حقیقت پسند بنا پائے گا۔ کیا وہ اسے سکون کی جانب لا پائے گا۔
ایک چھوٹی سی کوشش ہے جس میں، میں نے اللہ کی محبت کے بارے میں بتانے کی کوشش کی ہے قرآن حدیث کی مدد کے ساتھ اس امید اور نیت کے ساتھ کہ یہ آپکو، مجھے اور ہر اس شخص کو جو یہ پڑھے اللہ کے قربت کرنے میں مدد دے، اللہ کی محبت ہمارے دلوں میں مزید بڑھے۔
یہ کہانی ایک دیندار اور نرم دل امام، مولوی عبدالخالق کی ہے جو غربت اور آزمائشوں میں بھی اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش ان کا بیٹا عبدالرحمن ہے، جو دل کی بیماری میں مبتلا ہے۔ علاج کے لیے پیسوں کی کمی ان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ محلے کے سیاستدان مرزا صاحب کے پاس جائیں۔ مرزا صاحب ان کو قرض کے بدلے میں ایمان بیچنے پر آمادہ کرتے ہیں، لیکن مولوی عبدالخالق ایمان پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ کہانی غربت، ماں باپ کی محبت، شوہر اور بیوی کے تعلقات، سیاست کی گندگی، اور سب سے بڑھ کر ایمان کی مضبوطی کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ کہانی قاری کو رلا دینے کے ساتھ ساتھ اللہ پر بھروسہ کرنے کا درس دیتی ہے۔
یہ افسانہ 1947 کی تقسیم کے بعد بچھڑنے والے رشتوں، یادوں اور خوابوں کا نوحہ ہے۔ یہ اُن چھوٹی ریاستوں اور بستیوں کو خراج ہے جنہوں نے ہجرت کا دکھ دل میں بسائے رکھا۔ لکیر نے صرف زمین نہیں، دلوں، رشتوں اور بچپن کی یادوں کو بھی جدا کیا۔ کہانی اُن بچھڑے چہروں اور کھوئے خوابوں کی ہے جو وقت کی گرد میں دب گئے، مگر امید اب بھی زندہ ہے کہ شاید ایک دن سب کچھ پھر سے جُڑ جائے، اور ہم کہہ سکیں: “ہم صرف بچھڑے تھے، بھولے نہیں”۔