یہ ایک سادہ سی مختصر مگر خاص کہانی ہے ۔ اس کہانی نے زندگیاں ، وقت، تعلقات ، جذبات ہر شے کو وقت کے ساتھ محدود ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کہانی کی آنکھیں زخمی اور روح گھائل ہے ۔ اس کہانی کو پڑھنے والے ، اس کہانی سے گزرنے والے ، اس کہانی کے کردار صرف ایک چیز کی جستجو کرتے ہیں ۔
” میں” اور ” تم ” سے واپس ” ہم ” ہونے کی جستجو!
زندگی کی قید میں مقید یہ مٹی کے مجسمے وقت کی ، معاشرے کی ، سازشوں کی ، ٹراماز کی قید میں کھل کر سانس لینے کو زندگی تصور کرتے ہیں ۔ مگر زندگی اسی لمحے سے مٹی کے مجسمے میں بیدار ہوجاتی ہے ۔ جب ” میں” اور ” تم” سانس لینے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔
ناول “میں کندن ہوں مجھے جلنے دو” حرا طاہر کا ایک اردو ناول ہے جو گھریلو تشدد، خاندانی راز، اور غیر متوقع تعلقات کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی نورین کی جدوجہد پر مرکوز ہے جو اپنے ظالم شوہر بہلول احمد کے ستم کا شکار ہے، جو اپنی بیٹی ہالہ کی تعلیم اور شادی کے معاملے میں اس پر ظلم ڈھاتا ہے۔ ہالہ اپنی نانی سیدانی بی کے گھر پناہ لیتی ہے، جہاں اس کا سامنا ابراہیم درانی سے ہوتا ہے، جو بعد میں فاروقی خاندان کے مسٹر فاروقی کا گُمشدہ بیٹا ثابت ہوتا ہے۔ ناول میں فاروقی خاندان کے اندرونی جھگڑے، وراثت کے تنازعات، اور کرداروں کی اپنی پہچان اور انصاف کے لیے کی جانے والی کوششوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ کہانی رشتے، معافی، اور ماضی کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔
میں مسلمان ہوں روشن پروین کا ایک دل کو چھو لینے والا ناولٹ ہے، جو ایک ننھے سے بچے عمر کی آنکھوں سے اُمتِ مسلمہ کے جاگنے کی داستان سناتا ہے۔ فلسطین پر ظلم و ستم کی خبروں سے متاثر ہو کر عمر اپنے ایمان کی روشنی میں بیداری کی مہم چلاتا ہے۔ ایک سادہ سی تین لفظی تحریر سے شروع ہونے والی اس جدوجہد میں وہ اپنے عزم، دعا، اور اخلاص کے ذریعے بڑوں کو بھی جھنجھوڑ ڈالتا ہے۔
یہ کہانی معصوم جذبوں، دینی غیرت، خلوص، اور ایمان کی طاقت کا ایسا سفر ہے جو قاری کے دل میں جگنو کی طرح امید کی روشنی بکھیر دیتا ہے۔
یہ ناولٹ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک سچے مسلمان کے لیے عمر، طاقت یا وسائل نہیں، بلکہ نیت اور حوصلہ سب سے بڑی طاقت ہے۔
تقدیر کے پیچیدہ جال میں الجھے جذبات، اور وہ سوالات جن کے جواب کبھی نہیں ملتے۔۔۔اگر آخر میں سب کچھ مٹی بن جانا ہے تو یہ دل اتنی شدت سے کیوں دھڑکتا ہے؟
اگر زبان احساسات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی تو پھر دل انہیں سہنے کے لیے کیوں مجبور ہے؟درد سے لے کر تسلیم تک، خاموشی سے لے کر چیخ تک، اور محبت سے لے کر فنا تک
یہ کہانی ہے دو خود مختار انسانوں کی خود آگہی کی۔ جن کو ان کی تقدیر ایک ساتھ لے آئی۔ جب کہ ان کے خواب کچھ اور تھے۔ آگہی کے سفر کی مشکلیں ان کو ایک دوسرے کے قریب لے آئیں۔ اور انہوں نے جانا کہ بعض دفعہ سکون تو ہمیں پہلے ہی عطا کر دیا گیا ہوتا ہے جبکہ ہم اس کو ڈھونڈنے میں خود کو تھکا رہے ہوتے ہیں ۔