Complete Novels

Goonj Novel by Sumaira Hameed

Goonj is a Social Issues Based Novel by Sumaira Hameed Published in Khawateen Digest February 2026.
گونج از سمیرا حمید
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
خواتین ڈائجسٹ فروری ۲۰۲۶
بعض اوقات سمیرا حمید کی تحریروں کی تعریف کے لیے الفاظ واقعی کم پڑ جاتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ کس انداز سے ان کی تعریف کی جائے جو ان کا حق ہے۔ ان کا ہر ناولیٹ اپنے اندر کوئی نہ کوئی اہم سبق سموئے ہوتا ہے۔ شاید ہی ان کی کوئی ایسی تحریر ہو جس میں کوئی سنجیدہ پہلو زیرِ بحث نہ آیا ہو یا جو قاری کو سوچنے پر مجبور نہ کرتی ہو
“گونج”بھی ان کی ایسی ہی فکر انگیز اور اثر انگیز تحریر ہے جو انسان کو اپنے اردگرد کے معاشرے کا گہرائی سے جائزہ لینے پر آمادہ کرتی ہے۔
اس کہانی کی مرکزی کردار عینی ایک طلاق یافتہ بہن ہے۔ اس کا دکھ صرف طلاق کا دکھ نہیں بلکہ اپنوں کی بے رُخی کا دکھ بھی ہے۔ بھائی اور باپ کے گھر میں اس کے لیے نہ کوئی مستقل کمرہ ہے، نہ سکون کی جگہ، اور نہ ہی تین وقت کی روٹی کا یقین۔ یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر کیوں طلاق یافتہ اور بیوہ بہنوں کے لیے بھائیوں کے گھروں کی چھتیں تنگ پڑ جاتی ہیں؟ کیوں وہی فکر اور احساس انہیں حاصل نہیں ہوتا جو اپنی بیوی اور بیٹیوں کے لیے ہوتا ہے؟ کیا صرف یہ کہہ دینا کہ “ہمیں بہن پیاری ہے” واقعی حق ادا کر دیتا ہے؟
عینی کا کردار صبر کا حقیقی مفہوم سمجھاتا ہے۔ وقت چاہے کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ عینی نے اپنے برے حالات کا مقابلہ نہ لڑائی سے کیا، نہ جھگڑے سے اور نہ زبان درازی سے، بلکہ صبر سے۔ اور صبر واقعی ایسا ہتھیار ہے جو خاموشی سے انسان کو وہ عطا کر دیتا ہے جس کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہ کہانی ہمیں یقین دلاتی ہے کہ ناانصافی ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔
کہانی کا ایک اور قابلِ غور پہلو ماؤں کا رویہ ہے۔ ماں کی سوچ، اندازِ گفتگو اور طرزِ عمل بیٹیوں کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں نہ جانے کتنی مائیں دوسروں کی اولاد سے حسد اور اندھی نفرت میں دراصل اپنی ہی اولاد کی تربیت کو متاثر کر دیتی ہیں۔ نتیجتاً جو برا دوسروں کے لیے سوچا جاتا ہے، وہی اپنی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
“گونج” میں بے شمار ایسے نکات ہیں جو قاری کو رک کر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ عینی جیسے کردار ہمارے اردگرد موجود ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ ہم اکثر ان کے لیے ہمدردی کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔ یہ کہانی صرف ایک عورت کی داستان نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔

Morr To Sare Mann Ke Hain Novel by Humaira Ali

Morr To Sare Mann Ke Hain is a Cousin Marriage | Childhood Nikkah | Family Drama | Social Romantic | Digest Based | Happy Ending Based Romantic Novel by Humaira Ali Published in Shuaa Digest February 2026.
ناول: موڑ تو سارے من کے ہیں از حمیرا علی
شعاع ڈائجسٹ فروری ۴۰۴۶
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
کہانی کی شروعات کچھ یوں ہوتی ہے کہ شار ئین، جو کہانی کی مرکزی کردار ہے، اپنے جائز حق اور حقِ مہر کے حصول کے لیے بھارت سے پاکستان اپنے والد کے گھر آتی ہے۔ اس کا نکاح بچپن ہی میں اس کے تایا زاد کے ساتھ کر دیا جاتا ہے، مگر والدین کی علیحدگی کے بعد وہ اس کی ماں شار ئین کو اپنے ساتھ بھارت لے جاتی ہیں۔ وہاں اسے ہمیشہ اپنے والد اور خاندان کے بارے میں غلط باتیں بتائی جاتی رہیں، جس کے باعث اس کے دل میں ان کے لیے شدید بدگمانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
اپنے والد اور خاندان کے درمیان رہتے ہوئے بھی وہ ان سے فاصلہ رکھتی ہے اور طلاق لینے کا ارادہ رکھتی ہے، مگر حقیقت چاہے جتنی بھی چھپانے کی کوشش کی جائے، آخرکار سامنے آ ہی جاتی ہے۔ کہانی میں ایک بہت بڑا اور چونکا دینے والا موڑ ہے جو قاری کو بے حد حیران کر دیتا ہے۔
حمیرا علی کے منفرد اور خوبصورت اسلوبِ تحریر نے کہانی کو مزید نکھار دیا ہے۔
یہ ناول ضرور پڑھیں۔
1 21 22 23 312