دَہرِ ضباب ان لوگوں کی کہانی ہے جو حقوقِ نسواں کی آڑ میں بے حیائی کو پرموٹ کررہیں ہیں ، جو فیمینسٹ ( عورتوں کو برابری کا حق ملنے ) تحریک کے عقب میں عورتوں کو پستی کے گھڑوں میں پھینک رہیں ہیں ، جدید جاہلیت اسے آزادی کا لالچ دے کر ذلت و رسوائی سے دوچار کررہی ہیں ۔ جہاں قدیم جاہلیت نے اسے زندگی کے حق سے محروم کیا تھا تو آج وہی جدید جاہلیت نے اسے زندگی کے ہر میدان میں دوش بدوش چلنے کی ترغیب دیتے گھر کی محفوظ چار دیواری سے نکال کر رونقِ محفل بنا دیا ہے ۔
عروج کاظمی کے بدترین زوال کی ، لامن تہیز کے گناہ کی ، ہند اور ہوخیامہ کی آزادی کی ، بیٹی کی پیدائش کی ، جمیل کے ظلم کی ، کہانی ہے آزادی کی جنگ کی ۔۔۔
کہانی دو مختلف پلاٹ پہ مشتمل ہے ، کہانی دو زمانوں کی ہیں ، کہانی دو پہلوؤں کی ہیں مگر کہانی ایک ہیں ، داستان ایک ہیں ، لزرہ خیز ظلم و ستم کی انتہا ایک ہیں ، ظالم کا ظلم اور مظلوم کی دہائی ایک ہیں ، فرعونیت کا انجام ایک ہیں ، خدا کا انصاف ایک ہیں ۔
کہانی شروع کرنے سے پہلے
میرا قارئین سے ایک سوال ہے ”
کیا “””
آزادی کا نا ملنا بہتر تھا یا مل جانا بہتر ہے ؟؟