Afsana

Ravi Ke Kinare by Mehtab Zahoor

“یاسمین اور ساحر” کی یہ کہانی سوکھے راوی کے کنارے سے شروع ہوتی ہے، جہاں یاسمین اپنی زندگی کی مشقت میں گم ایک ایسی لڑکی ہے جس کے کندھوں پر پورے گھر کا بوجھ ہے۔ محنت، بھوک، اور تھکن کے بیچ ایک دن ساحر آتا ہے ایک ایسا نوجوان جو اس کے وجود میں چھپی روشنی کو پہچان لیتا ہے۔
ان دونوں کے درمیان خاموش محبت جنم لیتی ہے ایک ایسی محبت جو خوابوں، امیدوں اور انتظار سے بنی ہے۔ مگر قدرت کے فیصلے انسانوں کے منصوبوں سے ہمیشہ بڑے ہوتے ہیں۔ جب برسوں بعد روٹھا ہوا راوی لوٹتا ہے تو اپنے ساتھ صرف پانی نہیں بلکہ یاسمین کے سارے خواب، اس کا گھر اور اس کی زندگی بھی بہا لے جاتا ہے۔ اور یوں وہ محبت جو محلوں میں بسنے کا خواب دیکھتی تھی دریا کی لہروں میں ابدی قرار پاتی ہے۔

Saans e Khaak by Eman Fatima Mushtaq

وہ بچہ جو کل تک ماں کی گود میں مسکراتا تھا
آج اُسی ماں کی جھولی میں بےجان پڑا تھا۔
عمر کی چھوٹی سی قمیض مٹی میں گم ہو چکی تھی،
اور نور کی آنکھیں اب کبھی نہیں کھلنے والی تھیں۔
ابا کی ٹوٹی ٹانگ سے بہتا خون،
اس شہر کی بہتی ہوئی انسانیت کا ماتم کر رہا تھا۔
مگر…
“نہ کوئی چیخ سننے آیا،
نہ کوئی دعا سنبھالنے۔
بس سانسیں تھیں…
جو اب خاک ہو چکی تھیں۔”
Eman
1 18 19 20 26