Authors

Qurbani

Article

     عید الاضحی قریب آرہی ہے مویشی منڈیاں اپنے اروج پر پہنچی ہوئی ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں؟
حضرت ابرہیم علیہ السلام کی قربانی مال یا جانور کی نہیں محبت کی ہوئی  تھی۔ آپ علیہ السلام اللہ کی خاطر اپنے بڑھاپے کی اولاد قربان کرنے کو تیار ہوگئے ۔
 کیا آپ کو اپنے قربانی کے جانور سے اتنی ہی محبت ہے ؟سوال کرے اپنے آپ سے ۔یقینا جواب نہیں کہا اولاد اور کہاں جانور مقابلہ ہی نہیں دونوں کا۔
آپ نے اپنے جانور کے ساتھ اپنی ایک ایسی  عادت کی بھی قربانی دینی ہوگی۔جو آپ کے اور رحمان کے درمیان حائل ہو۔چاہے وہ نامحرم کی محبت کی صورت میں ہو یا زنا،جھوٹ،حسد
،حرام مال کی قربانی دینی ہوگی۔تب ہی آپکی قربانی حقیقی معنوں میں قربانی
“اللہ کو نہ قربانی کے جانور کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تو تمہارا تقوی پہنچتا ہے” (الحج)
دلوں میں تقوی پالنے کے لیے ایک بار دل کو توڑنا مقصود ہے۔اپنے اندر اٹھنے والی ہر ناجائز خواہش کا گلہ دبانا پڑتا ہے۔تب ہی ہم اللہ کے ہاں بلند مرتبہ پاسکتے ہیں۔
یاد رہے! قربانی کرنا واجب عمل ہے ۔اللہ کی محبت میں اپنے مویشی کو قربان کرنا۔جبکہ ہمارا دل نفس اعمارہ کی پیروی کرتا ہو۔ہم قربانی دے کر اللہ تعالیٰ سے محبت کا اظہار کرتے ہوں۔کیا یہ ہم منافقت تو نہیں کر رہے ۔ایسی ہر خواہش کو اکھاڑ دینا ہم پر فرض ہے۔جو ہمارے اور رحمان کے درمیان حائل ہو۔خدارا اپنے فرض کو اپنے واجبات سے چار قدم آگے رکھے۔
اللہ تعالیٰ آپکی اور میری دلی اور مالی قربانی قبول فرمائے۔
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.