یہ کہانی مشال کی مہندی کی رسم سے شروع ہوتی ہے جب خاندان کی عورتیں اُس کے ہاتھوں پر مہندی کا پھیکا رنگ دیکھ کر باتیں کرتیں ہیں کہ مشال کی عمر اپنے ہونے والا شوہر سے زیادہ ہے اسی وجہ سے اُسکا دُلہا رشتے سے خوش نہیں ہے اور اس کا ثبوت مہندی کا پھیکا رنگ ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مہندی سے الرجی کی وجہ سے ہی مشال نے مہندی رنگ آنے سے پہلے ہاتھوں سے ہٹا دی تھی مگر عورتوں کی باتیں مشال کے ذہن میں بیٹھ جاتیں ہیں اور وہ رخصتی کے بعد تک خوفزدہ رہتی ہے۔پھر اصفہان کہانی کا ہیرو اپنے اچھے رویے اور محبت بھرے انداز سے مشال کے سب خدشے دُور کرتا ہے اور اُس کے لیے ایک اچھا شوہر ثابت ہوتا ہے۔اُن کی ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھی گزرتی ہے درمیان میں کچھ سسرالی مسائل اور رشتے داروں کے طنز بھی ہوتے ہیں مگر اچھی زندگی کے لیے اصفہان اور مشال ان سب چیزوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔