“ایک ایسا شخص جس نے مجھے اپنے انتقام کے لئے استعمال کیا ،جس کی منافقت کا عالَم یہ تھا کہ اس نے محبت اور نرمی کی آڑ میں اپنی نفرت کا کچھ یوں برملا اظہار کیا کہ میں آخری وقت تک اسکے مکر و فریب کو پہچان تک نہ سکی ۔جس کے لئے میں صرف ایک مہرہ تھی ۔اس کے سوا میری اسکے دل و نظر میں کوئی وقعت نہیں تھی ۔کیا وہ اس قابل تھا کہ میں اسکے لئے آنسو بہاتی ؟میرے اندر کی عورت نے گوارہ نہیں کیا اس شخص سے آنکھوں کی نمی تک کا تعلق رکھے ۔تو بس مجھ پر اسکے احساسات کا احترام واجب سا ہو گیا ۔”
وہ اب بھی اسے نہیں دیکھ رهی تھی اور وہ اب بھی صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔اسکی بے لچک آواز ،اسکے لب و لہجے کی سرد مہری چینخ چینخ کر بتا رہی تھیں وہ اسکے لئے “کوئی نہیں “تھا ۔بے یقینی کی سرحد پر کھڑا اپنا آپ حیدر کو خود ٹھٹکا رہا تھا ۔وہ غلط نہیں تھی مگر پھر بھی اسکا صحیح ہونا اسکے دل کو اچھا نہیں…