Realistic Fiction

Diyar e Qaid

دیارِ قید کی یہ کہانی میرے اور آپ کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے قلم بند کی گئی ہے ۔ یہ کہانی بظاہر تو لمحوں میں لکھی گئی ہے مگر پڑھنے والوں کو صدیوں پیچھے لے جائے گی۔ یہ ہمیں بتائے گی کہ کوئی ہے جو ہمارا منتظر ہے،
جس کا دیار ہم نے اجاڑ دیا،
جس کا چراغ ہم نے بجھا دیا،
جس کی امیدیں ہم نے توڑ دیں،
جس کی سلاخیں ہم نے جوڑ دیں،
 مگر وہ آج بھی ہماری راہ تکتے ہیں۔۔۔
 ایک آس سے کہ ایک دن ہم آئیں گے۔۔۔۔
اور ان کے دیار کو ظالموں کی قید سے رہا کروائیں گے۔ یہ کہانی ہے ان مظلوموں کی جو ہمیں پکار رہے ہیں۔
 ہاں وہ آج بھی ہمیں پکار رہے ہیں ۔۔۔۔

Hum Yousef e Zaman The Episode 1 by Fatima Noor

“ہم یوسفِ زماں تھے” ایک سماجی اور رومانوی ناول ہے جو معاشرتی مسائل، انسانی جذبات اور محبت کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ کہانی مختلف کرداروں کی زندگیوں، ان کی جدوجہد، خوابوں اور تعلقات کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ناول محبت، قربانی، خود شناسی اور معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو پیش کرتا ہے۔

Mah Gazeeda by Kainat Jameel Abbasi

کچھ خواہشیں گناہ نہیں ہوتیں، مگر زمانہ اُنہیں معاف نہیں کرتا۔
کبھی ایک چاند کو دیکھنے کی آرزو، انسان کو ایسی شب کے سپرد کر دیتی ہے جس کے بعد زندگی پہلے جیسی نہیں رہتی۔
ماہ گزیدہ ایک خاموش دل، گھٹے ہوئے ماحول، اور اُن اَن کہے خوفوں کی حکایت ہے جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ روح پر اپنے نقوش ثبت کر جاتے ہیں۔
یہ افسانہ خواہش اور پابندی، معصومیت اور اندیشے، نیز چاندنی اور تاریکی کے درمیان معلق ایک ایسی کیفیت کو بیان کرتا ہے جسے ہر شخص پڑھ تو سکتا ہے، مگر پوری طرح محسوس نہیں کر پاتا۔