Historical Fiction

Jahan Aara Episode 1 by Nayab Hassan

کہانی ہے سلطان مراد اللہ خان کی ریاست میں قائم و دائم سات مینار محل کے گھٹن زدہ، ٹھنڈے تے خانے میں قید رازوں سے پردہ اٹھاتی چند زندگیوں کی۔ محبت، قربانی اور دغا میں جھولتے رشتے۔ سچ اور جھوٹ کی بنی بلند عمارتوں میں سے جھانکتے چاند اور تاروں کی روشنی میں محبت میں پڑتے بادشاہ اور ایک عام سی لڑکی کی۔
 سات مینار محل کے عالیشان باغ سے آتی مختلف قسم کے پھولوں کی خوشبو آپ کی توجہ کی منتظر ۔

Jahan Aara Episode 2 by Nayab Hassan

کہانی ہے سلطان مراد اللہ خان کی ریاست میں قائم و دائم سات مینار محل کے گھٹن زدہ، ٹھنڈے تے خانے میں قید رازوں سے پردہ اٹھاتی چند زندگیوں کی۔ محبت، قربانی اور دغا میں جھولتے رشتے۔ سچ اور جھوٹ کی بنی بلند عمارتوں میں سے جھانکتے چاند اور تاروں کی روشنی میں محبت میں پڑتے بادشاہ اور ایک عام سی لڑکی کی۔
 سات مینار محل کے عالیشان باغ سے آتی مختلف قسم کے پھولوں کی خوشبو آپ کی توجہ کی منتظر ۔

Jugnu

یہ ناول مختلف کرداروں کا مجموعہ ہے۔ ہر کردار کسی نہ کسی انسان کی نشاندہی کررہا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کونسا کردار ہیں۔ انسانوں کی مختلف اقسام ہوتی ہیں جیسے کہ میرے کردار ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر ان میں ایک چیز عام ہوتی ہے اور وہ چیز ہوتی ہے “روشنی”۔ ناول پڑھتے آپ خود کو ایک بار دیکھیں کہ آپ کونسا کردار ہیں اور آپ کونسی قسم ہیں۔ اپنا محاسبہ خود کریں۔ سادگی کی ایک اپنی چمک ہوتی ہے اور میں سادگی کو ہر شے پر فوقیت دیتی ہوں۔ یہ ناول بھی اتنا ہی سادہ ہے جتنا کہ ایک انسان فطری طور پر سادہ ہے اور یہ ناول اتنا ہی پیچیدہ ہے جتنا کہ ایک انسان پیچیدہ ہے۔ کرداروں کے بدلتے رنگوں سے کچھ رنگ آپ بھی چنیں اور زندگی کو مزید سادہ بنائیں کیونکہ سادگی کی اپنی چمک ہوتی ہے۔

Rab Rakha Novel by Sania Hussain

رب راکھا تقسیم ہند کے وقت کی ایک مختصر سی داستان ہے ۔ دلریت اور شہریار کی محبت اور ان کی قربانیوں کی اور ایسی دوستی کی جو انسانیت کے ساتھ مر گئی۔ جس نے یہ بات سکھا دی کی بٹوارے کے وقت صرف زمین کا بٹوارہ ہی نہیں بلکہ دلوں کا بھی بٹوارہ ہوگیا تھا۔ وہ اپنے، جن کے ساتھ عمر گزری تھی وہی ہجرت کے وقت انسانیت کے احساس سے عاری ہوکر درندے بن گئے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی کہ وہاں دِلریت جیسے کتنے ہی لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دی بس اس لیے کہ شہریار جیسے لوگ آزادی کا خواب پورا کر سکیں۔ یہ کہانی ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے لہو سے آزادی کی قیمت ادا کی تھی۔

Saans e Khaak by Eman Fatima Mushtaq

وہ بچہ جو کل تک ماں کی گود میں مسکراتا تھا
آج اُسی ماں کی جھولی میں بےجان پڑا تھا۔
عمر کی چھوٹی سی قمیض مٹی میں گم ہو چکی تھی،
اور نور کی آنکھیں اب کبھی نہیں کھلنے والی تھیں۔
ابا کی ٹوٹی ٹانگ سے بہتا خون،
اس شہر کی بہتی ہوئی انسانیت کا ماتم کر رہا تھا۔
مگر…
“نہ کوئی چیخ سننے آیا،
نہ کوئی دعا سنبھالنے۔
بس سانسیں تھیں…
جو اب خاک ہو چکی تھیں۔”
Eman
1 2