Historical Fiction

Rab Rakha Novel by Sania Hussain

رب راکھا تقسیم ہند کے وقت کی ایک مختصر سی داستان ہے ۔ دلریت اور شہریار کی محبت اور ان کی قربانیوں کی اور ایسی دوستی کی جو انسانیت کے ساتھ مر گئی۔ جس نے یہ بات سکھا دی کی بٹوارے کے وقت صرف زمین کا بٹوارہ ہی نہیں بلکہ دلوں کا بھی بٹوارہ ہوگیا تھا۔ وہ اپنے، جن کے ساتھ عمر گزری تھی وہی ہجرت کے وقت انسانیت کے احساس سے عاری ہوکر درندے بن گئے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی کہ وہاں دِلریت جیسے کتنے ہی لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دی بس اس لیے کہ شہریار جیسے لوگ آزادی کا خواب پورا کر سکیں۔ یہ کہانی ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے لہو سے آزادی کی قیمت ادا کی تھی۔

Jahan Aara Episode 2 by Nayab Hassan

کہانی ہے سلطان مراد اللہ خان کی ریاست میں قائم و دائم سات مینار محل کے گھٹن زدہ، ٹھنڈے تے خانے میں قید رازوں سے پردہ اٹھاتی چند زندگیوں کی۔ محبت، قربانی اور دغا میں جھولتے رشتے۔ سچ اور جھوٹ کی بنی بلند عمارتوں میں سے جھانکتے چاند اور تاروں کی روشنی میں محبت میں پڑتے بادشاہ اور ایک عام سی لڑکی کی۔
 سات مینار محل کے عالیشان باغ سے آتی مختلف قسم کے پھولوں کی خوشبو آپ کی توجہ کی منتظر ۔

Jahan Aara Episode 1 by Nayab Hassan

کہانی ہے سلطان مراد اللہ خان کی ریاست میں قائم و دائم سات مینار محل کے گھٹن زدہ، ٹھنڈے تے خانے میں قید رازوں سے پردہ اٹھاتی چند زندگیوں کی۔ محبت، قربانی اور دغا میں جھولتے رشتے۔ سچ اور جھوٹ کی بنی بلند عمارتوں میں سے جھانکتے چاند اور تاروں کی روشنی میں محبت میں پڑتے بادشاہ اور ایک عام سی لڑکی کی۔
 سات مینار محل کے عالیشان باغ سے آتی مختلف قسم کے پھولوں کی خوشبو آپ کی توجہ کی منتظر ۔

Saans e Khaak by Eman Fatima Mushtaq

وہ بچہ جو کل تک ماں کی گود میں مسکراتا تھا
آج اُسی ماں کی جھولی میں بےجان پڑا تھا۔
عمر کی چھوٹی سی قمیض مٹی میں گم ہو چکی تھی،
اور نور کی آنکھیں اب کبھی نہیں کھلنے والی تھیں۔
ابا کی ٹوٹی ٹانگ سے بہتا خون،
اس شہر کی بہتی ہوئی انسانیت کا ماتم کر رہا تھا۔
مگر…
“نہ کوئی چیخ سننے آیا،
نہ کوئی دعا سنبھالنے۔
بس سانسیں تھیں…
جو اب خاک ہو چکی تھیں۔”
Eman

Umr e Guzishta Episode 5

یہ کہانی ہے شیطانوں کی۔ شیطان جو ہمارے ارد گرد ہیں، اور شیطان جو ہمارے اندر بسیرا کیۓ ہوۓ ہیں۔ اکثر و بیشتر ہم سمجھتے ہیں کہ طاقت سے مراد تخت و تاج کا حصول ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ طاقت اپنے اندر موجود شیطان کو شکست دینے کا نام ہے، اور اس کہانی کے کردار اسی کشمکش میں مبتلا رہیں گے۔ اس کہانی کے ذریعے میں بتانا چاہتی ہوں کہ وقت میں پیچھے یا آگے نہیں جا سکنا اصل میں ہمارے لئے ایک نعمت ہے اور اس نعمت سے اس کہانی کے بہت سے کردار محروم رہیں گے کیونکہ آپ دیکھیں گے کہ کیسے وہ وقت کو بدلنے کی جستجو میں خود بدل جائینگے-
عمر گزشتہ 1815 کے بر صغیر کی کہانی ہے۔ اس کہانی میں سازش، سیاست اور طاقت کی بو گھلی ہوئی ہے۔ کوئی نہیں جانتا لڑائی کس کے خلاف ہے لیکن فاتح صرف وہی ہوگا جس کی نیت صاف ہو۔ عمومی طور پر ہر سیاسی جنگ کو شطرنج کی بساط سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ یہ کہانی بھی ویسی ہی ہے لیکن اس بساط پر ہر مہرہ چلنے سے پہلے کرداروں کو سانپ سیڑھی کا کھیل کھیلنا ہوگا۔ اٹھ کر گرنا ہوگا، گر کر اٹھنا ہوگا۔
1 2