قندیل کا یہ سفر جس کے
کرداروں کی قسمت میں جلنا لکھا تھا ۔
اگر وہ بجھتے تو بیکار ہوتے اور اگر وہ جلتے تو ہر چیز کو جھلسا دیتے۔
سبز آنکھوں کا سفر کشمیر کے گلستان سے ہوتے ہوئے قبرستان کی سفید چادر تک۔
سرخ پنکھوں والی تتلی کا جسکی بہت اونچی آڑان نے اسے توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا۔
آزادی کی ایک قیمت ہوتی ہیں ۔اور مغل خاندان کے قیدیوں کو آزادی کی قیمت اپنی جان کے سرخ مائع سے دینی پڑتی تھی۔
قندیل کے اس داستان میں بادشاہ نے قاضی کا دل چیر دیا تھا بدلے میں قاضی نے بادشاہ کے دونوں بازو کاٹ دیئے۔
موت نے کہانی کے سب سے خاموش مہرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔
زندہ وہی رہے گا جو مر جائے گا ۔اور مرے گا وہی جو زندہ جلے گا ۔