friendship based

Sarab e Zeest Episode 1 to 5 by Rukhsar Anjum

سرابِ زیست زندگی کے دوکے اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کے گرد گھومتی ایک کہانی ہے ناول کا مرکزی کردار ماہ نور جو ایک مشکل سفر تے کر کے مضبوط بنتی ہے یہ کہانی ردا کے بگڑے ہوئے رویے،زید کی اپنی بہن کو دوبارہ زندگی کی طرف لانے کی کوشش اور زنیرہ کے ذھنی مرض کے پراسرار حقیقتوں کو ظاہر کرتی ہے ماضی کے کردار کبیر اور کامل جب دوبارہ کہانی میں داخل ہوں گے تو کیا ہو گا؟ کیا محبتیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی؟یا پھر سب کی راہیں الگ ہو جائیں گی؟ ایک ایسا سراب جس میں کھو کر انسان رب کو بھول جاتا ہے

Sangat Novel by Muqaddas Chaudhary

( یہ ناول دو گہرے دوستوں، ہارون اور زارون کے گرد گھومتا ہے، جن کی دوستی وقت کے ساتھ صرف ایک تعلق نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی وابستگی میں ڈھل جاتی ہے جو خاموشی سے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بچپن کی بے فکری سے جوانی کی سنجیدگی تک، ان دونوں کی راہیں ایک دوسرے سے جڑی رہتی ہیں، جہاں ہر خوشی، ہر دکھ اور ہر فیصلہ مشترک ہو جاتا ہے۔
ہارون کی شخصیت میں ٹھہراؤ اور سنجیدگی ہے، جبکہ زارون کی فطرت میں شوخی اور بے ساختگی۔ یہی فرق ان کی دوستی کو توازن دیتا ہے اور ان کے درمیان ایک ایسا رشتہ جنم لیتا ہے جو لفظوں کا محتاج نہیں۔ وقت، حالات اور سماج کی بندشیں ان کے تعلق کو بار بار آزمائش میں ڈالتی ہیں، مگر سچی دوستی اور بے لوث محبت ہر امتحان میں اپنا وجود منواتی ہے۔)

Ankahi Sada Novel by Amna Haider

جہاں انصاف کی زنجیریں بکنے لگیں اور قانون کی کتابیں خاموش ہو جائیں وہاں سچائی کی قیمت لہو سے چکانی پڑتی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے انتقام کی جو خاموشی کی چادر اوڑھ کر شروع ہوا اور اس عشق کی جو طوفانوں کے بیچ اپنا راستہ تلاش کرتا رہا۔ جب نظام ظالم کا محافظ بن جائے تو اندھیرے کو ہرانے کے لیے خود اندھیرا بننا پڑتا ہے۔ کیا ایک ان کہی صدا ان ایوانوں کو ہلا پائے گی جہاں صرف مصلحتیں بستی ہیں؟ سسپنس جذبات اور قربانی کی ایک ایسی داستان جو آپ کو آخری لفظ تک جکڑے رکھے گی۔”

Yaqeen e Kamil by Ume e Fiza

یقین کامل ایک دلکش اور گہری سوچ سے بھرپور ناول ہے جو نہ صرف محبت اور جذبات بیان کرتا ہے بلکہ انسان کو اپنی اصل مقصد حیات یعنی رب تعالی کی قربت کی طرف متوجہ کرتا ہے یہ تحریر اس بات کا خلاصہ ہے ہر چیز میں خیر ہے اگر دیکھنے والی انکھ میں ایمان ہو بات صرف یقین کی ہے اگر ہم بھی مکمل یقین یعنی” کامل یقین “سے اللہ سے مانگیں تو رب تعالی وہ بھی عطا کرتا ہے جو بظاہر ناممکن سا لگتا ہے ۔
اس کہانی کا مرکزی کردار ایک لڑکا ہے جو مایوسی کے اندھیروں سے یقین کامل کی روشنی کا سفر طے کرتا ہے۔
اس کہانی کا دوسرا مرکزی کردار ایک لڑکی ہے جو نہ صرف حجاب کرتی ہے بلکہ اسے اپنی پہچان اور وقار سمجھتی ہے وہ لڑکی ملکہ یقین ہے ہرحال میں پر امید رہتی ہے۔
یہ کہانی ہر اس انسان کے لیے ہے جو منزل تک پہنچنا چاہتا ہے لیکن اصل مقصد سے واقف نہیں ہے
یہ کہانی ہے سرمئی کرداروں کی یعنی عام لوگوں کی جو نہ مکمل سیاہ ہے نہ مکمل سفید یہ کہانی تمام پڑھنے والے قارئین کو شروع اخر تک جوڑ کر رکھے گی۔ انشاءاللہ.

Rab Rakha Novel by Sania Hussain

رب راکھا تقسیم ہند کے وقت کی ایک مختصر سی داستان ہے ۔ دلریت اور شہریار کی محبت اور ان کی قربانیوں کی اور ایسی دوستی کی جو انسانیت کے ساتھ مر گئی۔ جس نے یہ بات سکھا دی کی بٹوارے کے وقت صرف زمین کا بٹوارہ ہی نہیں بلکہ دلوں کا بھی بٹوارہ ہوگیا تھا۔ وہ اپنے، جن کے ساتھ عمر گزری تھی وہی ہجرت کے وقت انسانیت کے احساس سے عاری ہوکر درندے بن گئے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی کہ وہاں دِلریت جیسے کتنے ہی لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دی بس اس لیے کہ شہریار جیسے لوگ آزادی کا خواب پورا کر سکیں۔ یہ کہانی ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے لہو سے آزادی کی قیمت ادا کی تھی۔

Gawah Novel by Anoosha Muhammad Rafique Arzoo

یہ ناولٹ ایک ایسے گواہ کے نام ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انسان کی محدود سوچ سے پرے، بہت آگے کہیں کی یہ بات ہے۔ ایک گواہ کی گواہی کا راز ہے۔ یہ ناولٹ ”ایس-پی میرین البلوشی“ کی ایمانداری اور وطنِ عزیز سے محبت کا اظہار ہے۔
یہ ناولٹ، یہ کہانی آپ کو خود اپنا تعارف کرئے گی۔ یہ کہانی خود بتائے گی کہ یہ کہانی کیوں لکھی گئی ہے۔
اور اسی کہانی کے ذریعے آپ ملیں گے انوشہ آرزو کے آنے والے نئے ناول کے کرداروں سے۔ ایک پٹھان ”نگین یوسفزئی“ اور ایک بلوچ ”میرین البلوشی“ کی انوکھی داستان آپ کی منتظر ہے۔
گواہ سے ایک جھلک:
”شکر ہے کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے۔ جب ثبوت اور گواہ ہی نہیں ہوں گے تو سزا کیسے ملے گی۔“ وہ استہزائیہ ہنسا، اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں اس کی سزا کا تعین بھی کر چکا ہے۔ زمین کے دو فٹ نیچے اپنے گناہ کے تمام ثبوت سمیت وہ اس گناہ کو بھی دفنا رہا تھا جو اس کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ آزادی تھی۔ زندگی سے آزادی۔ ایسی زندگی سے آزادی جو اسی شخص کے باعث اس وجود کے لیے موت سے بدتر ہونے والی تھی۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ سب کر کے بھی وہ کوئی سزا نہیں پائے گا کیونکہ اس کے گناہ کا اس کے نزدیک کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب انسان کو لگتا ہےکہ اسے گناہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا کوئی گواہ نہیں کوئی ثبوت پیچھے باقی نہیں تب اسی لمحے قدرت اس کی حماقت پر مسکراتی ہے کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی گناہ نہیں جس کا کوئی گواہ نہ ہو۔ قدرت وسیلے بناتی ہے، اسباب پیدا کرتی ہے اور انسان گھوم پھر کر اپنے گناہ کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے وہ بے خبر چلا ہوتا ہے اس بات سے کہ ان اللہ بصیر بالعباد (سورۃ فاطر: ۴۴)
1 2 3 4 22