friendship based

Dill e Matamzada Episode 8 & 9 by Fatyma Saleem

کہانی ہے محبت کی!!!
نورالعین وجدان، اوزان سکندر کی۔ حسن کر شرارتوں کی، علیزے کی خاموش چاہت کی۔ شاہمیر کی دشمنی کی۔
کہانی ہے!!!
نور اور علیزے کی دوستی کی۔ حسن اور اوزان کے گہرے رشتے کی۔ شاہمیر کی بےلگام ضد کی۔ نور اور حسن کی نوک جھونک کی۔ اوزان کے بدلے اور جنون کی۔
کہانی ہے!!!
دفن رازوں کی، انتقام، جبر اور نفرت، دوستی، قربانی اور بےلوث بھروسے کی۔ محبت اور بکھرتے رشتوں کی، آنسوؤں اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کی۔
کہانی ہے!!!
پرانے زخموں سے شفا پانے کی۔ اندھیروں سے روشنی کی طرف آنے کی۔ محبت کے ملنے اور اسے تھامے رکھنے کی۔
کہانی ہے زخموں کے پار محبت کے سفر کی۔

Kar Chale Jaan Nisar Hum Episode 7 by Sania Umair

Kar Chale Jaan Nisar Hum is a Haveli based | Strong Female Lead Based | Friendship Based | Suspense Based | Crime Mystery Based | Strangers to Lovers Based by Sania Umair Publishing in Khawateen Digest.
ناول: کر چلے جانثار ہم از قلم سنعیہ عمیر
قسط نمبر ۷
خواتین ڈائجسٹ دسمبر ۲۰۲۵
کہانی تقریباً اپنے اختتام کے قریب ہے۔اس قسط کو پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ بشّار شاید سب کچھ سنبھال لے گا، حالات کو درست کر دے گا، مگر نہ جانے کیوں اس کا اپنا انجام خوشگوار نظر نہیں آتا۔ مصنفہ نے اس موڑ پر کہانی کو اس قدر جذباتی اور سنجیدہ بنا دیا ہے کہ قاری ہر کردار کے لیے دل سے دعا کرنے لگتا ہے۔
بطور قاری میری دلی خواہش ہے کہ دُرِ ثمین اور بشّار کو آخرکار ایک خوشگوار انجام نصیب ہو، کیونکہ ان دونوں کے حصے میں پہلے ہی بہت آزمائشیں آ چکی ہیں۔ اسی طرح لائبہ اور اویس کی کہانی بھی کسی سکون بھرے موڑ پر ختم ہو
میں سوچتی ہوں کہ آخری قسط میں شاید کچھ قربانیاں سامنے آئیں، کچھ سچ بے نقاب ہوں ۔ یہ ناول اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں ایک مضبوط، یادگار اور قدرے درد بھرا انجام اسے دیر تک یاد رہنے والی کہانی بنا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مصنفہ قاری کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے ہمیں مسکراہٹ دے جاتی ہیں یا آنکھوں میں نمی چھوڑ کر الوداع کہتی ہیں۔

Yugan Episode 1 & 2 by Nazish Munir

“یوگن” ایک ایسا ناول ہے جو جاپان کی خاموش خوبصورتی، دل کی گہرائی، اور انسان کے اندر چھپے زخمی احساسات کو نہایت نرمی سے اُجاگر کرتا ہے۔ اس میں فرزان ، جریر اور میوکی کی کہانی ہے، ایسے دل جو زندگی کے بوجھ تلے دبے ہوئے بھی ایک دوسرے کی موجودگی میں سکون، مان، انجانی سی کشش اور ایک بے آواز تعلق محسوس کرتے ہیں۔
ساکورا کے جھڑتے پھول، بارش میں بھیگی گلیاں، قدیم عبادت گاہوں کی خاموش فضا، اور ذہن کے بھید کھولتی نئی تحقیق،سب مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جہاں ہر منظر کسی پوشیدہ راز کی آہٹ بن جاتا ہے۔
یہ ناول محبت سے زیادہ روح کی شفا، تقدیر کی گتھیاں، اور اپنے آپ تک دوبارہ پہنچنے کا سفر ہے۔
“یوگُن” وہ کہانی ہے جو قاری کے دل پر آہستہ آہستہ اترتی ہے اور دیر تک وہیں ٹھہری رہتی ہے۔

Dahr Episode 1 by Eman Fatima Mushtaq

سیاہ ‘سفید‘سرخ۔۔۔
تین رنگ‘تین سرے
ایک تکون
انتقام‘نفرت‘محبت۔۔۔
تین جزبے‘تین احساسات
ایک داستان
نفرت سے شروع ہوئی ہر کہانی محبت پر ہی ختم نہیں ہوتی۔کچھ کہانیاں ’’دہر‘‘بھی ہوتی ہیں۔
جہاں انتقام کی آگ میں جلتے لوگ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جلا کر راکھ کر دیں گے۔
جہاں حال اور ماضی کے کئی رازوں سے پردے اٹھیں گے۔
جہاں کسی کی ایک غلطی اسے تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا کرے گی۔
جہاں کئی پتھر دل انسان محبت جیسے عزیم جزبے سے آشناں ہوں گے۔
جہاں بخت کی سیاہی قلب کو سیاہ کر دے گی۔

Aseeran e Shabangah Episode 5 by Yumna Akhtar

اسیری لغت کے حساب سے انسانی حرکت کا عمل ہے مگر میں اسے نفسیات سے جوڑ کر ایک خودکار عمل مانتی ہوں۔ اسیری ایک ایسا عمل ہے جس میں محدود کردیا جاتا ہے یا محدود ہوجاتے ہیں۔ اور محدود انسان، سوچ، فکر ناکامی یا تباہی کہ سوا کچھ بھی نہیں۔ ہم سب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی اسیری کا شکار ہیں۔ اور اسیری سے آزادی آسان نہیں۔ یہ صرف تب ممکن ہے جب ہم خود یہ چاہیں۔ اسیران شبانگاہ ایسے ہی باغیوں کی روداد ہے جو اسیری سے آزادی تک کا سفر طے کرینگے۔ یہ کہانی سیکھنے اور جاننے والوں کے لیے ہے۔ مجھے امید ہے دنیا بہترین سیکھنے والوں اور جاننے والوں سے بھری ہے۔

Aaramish e Rooh Episode 16 By Wajeeha Asif

یہ کہانی ایک جوان بیوہ ذرجان کی  ہے۔ جو اپنی زندگی اپنے بیٹے کی وجہ سے جی رہی تھی۔ اسکی زندگی پر سکون تھی جبتک اُسکا بچپن کا دوست اسکی زندگی میں واپس نہیں لوٹ آتا۔ جو آتے ساتھ ہی اپنی پسندیدگی کا اظہار کر دیتا ہے۔ اس مرکزی کہانی کے ساتھ اور بھی کہانیاں چلتی ہیں۔

Gawah Novel by Anoosha Muhammad Rafique Arzoo

یہ ناولٹ ایک ایسے گواہ کے نام ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انسان کی محدود سوچ سے پرے، بہت آگے کہیں کی یہ بات ہے۔ ایک گواہ کی گواہی کا راز ہے۔ یہ ناولٹ ”ایس-پی میرین البلوشی“ کی ایمانداری اور وطنِ عزیز سے محبت کا اظہار ہے۔
یہ ناولٹ، یہ کہانی آپ کو خود اپنا تعارف کرئے گی۔ یہ کہانی خود بتائے گی کہ یہ کہانی کیوں لکھی گئی ہے۔
اور اسی کہانی کے ذریعے آپ ملیں گے انوشہ آرزو کے آنے والے نئے ناول کے کرداروں سے۔ ایک پٹھان ”نگین یوسفزئی“ اور ایک بلوچ ”میرین البلوشی“ کی انوکھی داستان آپ کی منتظر ہے۔
گواہ سے ایک جھلک:
”شکر ہے کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے۔ جب ثبوت اور گواہ ہی نہیں ہوں گے تو سزا کیسے ملے گی۔“ وہ استہزائیہ ہنسا، اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں اس کی سزا کا تعین بھی کر چکا ہے۔ زمین کے دو فٹ نیچے اپنے گناہ کے تمام ثبوت سمیت وہ اس گناہ کو بھی دفنا رہا تھا جو اس کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ آزادی تھی۔ زندگی سے آزادی۔ ایسی زندگی سے آزادی جو اسی شخص کے باعث اس وجود کے لیے موت سے بدتر ہونے والی تھی۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ سب کر کے بھی وہ کوئی سزا نہیں پائے گا کیونکہ اس کے گناہ کا اس کے نزدیک کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب انسان کو لگتا ہےکہ اسے گناہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا کوئی گواہ نہیں کوئی ثبوت پیچھے باقی نہیں تب اسی لمحے قدرت اس کی حماقت پر مسکراتی ہے کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی گناہ نہیں جس کا کوئی گواہ نہ ہو۔ قدرت وسیلے بناتی ہے، اسباب پیدا کرتی ہے اور انسان گھوم پھر کر اپنے گناہ کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے وہ بے خبر چلا ہوتا ہے اس بات سے کہ ان اللہ بصیر بالعباد (سورۃ فاطر: ۴۴)

Rab Rakha Novel by Sania Hussain

رب راکھا تقسیم ہند کے وقت کی ایک مختصر سی داستان ہے ۔ دلریت اور شہریار کی محبت اور ان کی قربانیوں کی اور ایسی دوستی کی جو انسانیت کے ساتھ مر گئی۔ جس نے یہ بات سکھا دی کی بٹوارے کے وقت صرف زمین کا بٹوارہ ہی نہیں بلکہ دلوں کا بھی بٹوارہ ہوگیا تھا۔ وہ اپنے، جن کے ساتھ عمر گزری تھی وہی ہجرت کے وقت انسانیت کے احساس سے عاری ہوکر درندے بن گئے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی کہ وہاں دِلریت جیسے کتنے ہی لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دی بس اس لیے کہ شہریار جیسے لوگ آزادی کا خواب پورا کر سکیں۔ یہ کہانی ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے لہو سے آزادی کی قیمت ادا کی تھی۔
1 18 19 20 22