Forced marriage Based

Intiqam e Muhabbat Episode 2 by Ashna Faysal

اندھیرے میں چھپے راز، ماضی کی بے رحم حقیقتیں، اور انتقام کی سلگتی آگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” انتقام محبت”
 ایک ایسی کہانی ہے جہاں محبت اور نفرت کے بیچ ایک باریک لکیر کھنچی ہوئی ہے، جسے پار کرتے ہی رشتے بکھر جاتے ہیں۔ایک ایسی کہانی ہے جہاں ہر کردار کے دل میں ایک زخم ہے، ہر چہرے کے پیچھے ایک راز چھپا ہے، اور ہر موڑ پر ایک نیا امتحان منتظر ہے۔ کیا انتقام محبت پر غالب آئے گا؟ یا پھر سچائی کی روشنی نفرت کے اندھیروں کو مٹا دے گی؟

Jaan e Shah by Laiba Irshad

یہ کہانی دو کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔۔۔ علیزے شاہ ناولز کی دیوانی چلبی سی شراررتی سی لڑکی وہی دوسری طرف
اڑیل مزاج غصہ والا میر ہادی شاہ علیزے کو ڈانٹتے رہنے والا۔۔۔ علیزے کا میر سے نفرت کرنا۔۔۔ میر کو جیلس کرنے کے
لیے کالج بائیں سے دوستی کرنا اس لڑکے کا علیزے کو تنگ کرنا میر کا اس لڑکے کا قتل کرنا۔۔۔علیزے سے شادی کرنا اور
شادی کے بعد علیزے کو میر ہادی شاہ کی حقیقت سے واقف ہونا۔۔۔ علیزے کا پڑھائ سے بھاگنا میر کا علیزے کو زبردستی
پڑھانا۔۔۔ علیزے میر کو تنگ کرنا اور میر علیزے کو ڈاٹنا۔۔علیزے کو گولی لگنا اور میر اپنی علیزے کے لیے دعا میں التجا
کرنا اسکی سلامتی کی اسکی زندگی کی گڑگڑا کر بھیگ مانگنا ۔۔۔ یہ کہانی گھومتی ہے ماہی اور زوہیب کے گرد ماہی کا
اپنے والدین کی پسند سے شادی کرنا اور زوہیب کا ماہی کا شھزادیو کی طرح خیال رکھنا۔۔۔ یہ کہانی گھومتی ہے ماہی اور
علیزے کی دوستی کے گرد ماہی۔۔۔ علیزے ماہی کو تنگ کرنا۔۔ ماہی کا علیزے کی ہر شرارت میں ساتھ دینا۔۔۔ماہی کا علیزے
کو اپنے چھوٹی بہنون کی طرح ٹریٹ کرنا۔۔۔ علیزے کا ماہی کو ہر بات کا شئیر کرنا۔۔۔ علیزے کو گولی لگنا اور ماہی کا
ہچکیو ں سے رو کر اپنی بہن جیسی کزن کی زندگی کی دعا مانگنا۔۔۔۔

Junoon Episode 1 by Fiza Saleem

یہ کہانی حقیقت کی تلخیوں اور خوابوں کی روشنیوں کو ملا کر لکھی گئی ہے۔
اس کہانی کے دو مرکزی کردار ہیں: عائشے کریم اور عمر سید۔
عائشے ایک ہندوستانی لڑکی ہے جسے ناولز پڑھنا اور لکھنا بے حد پسند تھا۔ اگر اللہ کی ذات کے بعد اُسے کسی چیز میں سکون اور خوشی محسوس ہوتی تھی تو وہ اُس کی ناولز تھیں، جنہیں پڑھ کر وہ ایک ایسی دنیا میں چلی جاتی تھی جہاں اسے نہ کوئی طنز کرنے والا ہوتا، نہ دھوکہ دینے والا، اور نہ کوئی چھوڑ کے جانے والا۔ ہر چیز بہت خوبصورت ہوتی تھی۔
اس کا‌ پسندیدہ کردار عمر جہانگیر تھا۔
وہ اُسے کبھی اُس کی بے باکی کی وجہ سے پسند کرتی، کبھی اُس کے اپنے جذبات کو کبھی نہ ظاہر کرنے والے انداز سے، اور کبھی صرف اس لیے کہ وہ اُس سے خود کو رلیٹ کرتی تھی۔
اُسے عمر جہانگیر میں اپنا عکس نظر آتا تھا یا‌ خود میں عمر جہانگیر کا۔
عمر سید ایک پاکستانی امیر بزنس مین کا بڑا بیٹا تھا، جسے اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ کوئی دوسرا اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اس سے اُسے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اپنی نظر میں بہت اچھا تھا — اور اُس کے لیے یہی کافی تھا۔
اس کے قیامت خیز سراپے کے بعد پہلی خاص بات اُس کی زبان تھی، جو ہمیشہ ہر سوال کا فوری اور لاجواب جواب دینے کے لئے تیار رہتی تھی۔
اور دوسری بات — وہ thrill کا دیوانہ تھا۔
چاہے وہ بیچ سڑک پر کار ڈرفٹنگ ہو یا ٹریفک میں ہوا کی رفتار سے بائیک چلانا — وہ ان سب چیزوں میں ماہر تھا۔
یہ سب اُس کی ہوبیز نہیں تھیں — وہ یہ سب کچھ صرف سیلف سیٹسفیکشن کے لیے کرتا تھا۔
عائشے اور عمر کے ملک سے لے کر ان کی زندگی، سوچ اور خیالات سب کچھ بےحد مختلف تھے، لیکن دل تو کسی پر آنے سے پہلے یہ سب نہیں سوچتا نا، اگر ایک شخص پر آ جائے تو قصہ وہیں تمام ہو جاتا ہے، پھر زندگی اُس شخص کے ساتھ لکھی ہو یا محض اُس کی یادوں کے ساتھ۔

Junoon Episode 2 by Fiza Saleem

یہ کہانی حقیقت کی تلخیوں اور خوابوں کی روشنیوں کو ملا کر لکھی گئی ہے۔
اس کہانی کے دو مرکزی کردار ہیں: عائشے کریم اور عمر سید۔
عائشے ایک ہندوستانی لڑکی ہے جسے ناولز پڑھنا اور لکھنا بے حد پسند تھا۔ اگر اللہ کی ذات کے بعد اُسے کسی چیز میں سکون اور خوشی محسوس ہوتی تھی تو وہ اُس کی ناولز تھیں، جنہیں پڑھ کر وہ ایک ایسی دنیا میں چلی جاتی تھی جہاں اسے نہ کوئی طنز کرنے والا ہوتا، نہ دھوکہ دینے والا، اور نہ کوئی چھوڑ کے جانے والا۔ ہر چیز بہت خوبصورت ہوتی تھی۔
اس کا‌ پسندیدہ کردار عمر جہانگیر تھا۔
وہ اُسے کبھی اُس کی بے باکی کی وجہ سے پسند کرتی، کبھی اُس کے اپنے جذبات کو کبھی نہ ظاہر کرنے والے انداز سے، اور کبھی صرف اس لیے کہ وہ اُس سے خود کو رلیٹ کرتی تھی۔
اُسے عمر جہانگیر میں اپنا عکس نظر آتا تھا یا‌ خود میں عمر جہانگیر کا۔
عمر سید ایک پاکستانی امیر بزنس مین کا بڑا بیٹا تھا، جسے اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ کوئی دوسرا اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اس سے اُسے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اپنی نظر میں بہت اچھا تھا — اور اُس کے لیے یہی کافی تھا۔
اس کے قیامت خیز سراپے کے بعد پہلی خاص بات اُس کی زبان تھی، جو ہمیشہ ہر سوال کا فوری اور لاجواب جواب دینے کے لئے تیار رہتی تھی۔
اور دوسری بات — وہ thrill کا دیوانہ تھا۔
چاہے وہ بیچ سڑک پر کار ڈرفٹنگ ہو یا ٹریفک میں ہوا کی رفتار سے بائیک چلانا — وہ ان سب چیزوں میں ماہر تھا۔
یہ سب اُس کی ہوبیز نہیں تھیں — وہ یہ سب کچھ صرف سیلف سیٹسفیکشن کے لیے کرتا تھا۔
عائشے اور عمر کے ملک سے لے کر ان کی زندگی، سوچ اور خیالات سب کچھ بےحد مختلف تھے، لیکن دل تو کسی پر آنے سے پہلے یہ سب نہیں سوچتا نا، اگر ایک شخص پر آ جائے تو قصہ وہیں تمام ہو جاتا ہے، پھر زندگی اُس شخص کے ساتھ لکھی ہو یا محض اُس کی یادوں کے ساتھ۔
1 4 5 6 12