Novels

Sarab e Aitabar by Hamna Hassan

 سرابِ اعتبار ایک دل کو چھو لینے والی کہانی ہے جو محبت اور دھوکے کے بیچ پروئی گئی ہے۔ یہ قرۃالعین صدیقی کی زندگی کا سفر ہے، جو ماضی کی تلخیوں اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کے باوجود نئے رشتوں، نئی امیدوں اور سچی محبت کی تلاش میں ہے۔ ناول میں رشتوں کی الجھنیں، خاندان کی کہانیاں اور وقت کے زخموں کے ساتھ اعتماد کی دوبارہ جنم لیتی شمع کو دکھایا گیا ہے۔

Gehraiyan by Mrs Hassan

یہ میں نے ان لوگوں کے لیے لکھا ہے جو اکثر ہی اپنے عزیز رشتوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔
کبھی ان کے لیے ہی، کبھی ان کے فائدے کے لیے اور پھر جھوٹ بولتے ہیں۔
جس کے باعث زیادہ تر تعلقات خراب ہوتے ہیں۔
اس کی مین جڑ جھوٹ ہے۔ ہم جھوٹ بولنے کو ایک معمولی سی بات سمجھتے ہیں۔
جبکہ گناہوں کے آغاز کا درخت جھوٹ کی ہی جڑ پکڑتا ہے۔

Bisaat e Ishq by Rabia Ali Khan

 یہ فقط ایک داستانِ محبت نہیں، بلکہ انسانی دل کی گہرائیوں میں اترنے کی ایک کاوش ہے۔ اس میں جذبوں کی وہ کیفیتیں سمونے کی کوشش کی گئی ہے جو کبھی زخم بن کر دل کو رلاتی ہیں اور کبھی مرہم بن کر زندگی کو جینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
یہ ناول قاری کو صرف کرداروں کے سفر میں شریک نہیں کرتا بلکہ اسے آئینے کی طرح اپنے اندر جھانکنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ “بساطِ عشق” میرے قلم کی وہ جستجو ہے جو چاہتی ہے کہ محبت کو اس کی اصل عظمت، اس کی قربانی اور اس کی لطافت کے ساتھ آپ کے دلوں تک پہنچایا جائے۔

Sadaye Haq by M A Hanjra

“یہ افسانہ اُن جھوٹی خبروں اور افواہوں کے گرد گھومتا ہے جو بظاہر معمولی لگتی ہیں، لیکن کسی کی زندگی، ساکھ اور رشتوں کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ بغیر تحقیق کے پھیلائی گئی باتیں کیسے ذہنی اذیت اور بدگمانی کو جنم دیتی ہیں۔ یہ افسانہ ایک خاموش پیغام ہے کہ زبان سے نکلا ہر لفظ اور سوشل میڈیا پر کیا گیا ہر جملہ ایک انسانی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔”

Mah e Nu by Abeera Kanwal

 یہ کہانی ماہ نور نامی لڑکی کی ہے جو پڑھنا چاہتی تھی مگر اس کے والدین نے اس کی شادی کردی۔شادی کے بعد اس کے شوہر کو روزگار میں مشکلات کا سامنا تھا اور ایک سال بعد وہ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا جس کے غصے میں اس نے ماہ نور کو تشدد کا نشانا بنایا اور اس کے بعد ماہ نور نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرتے دوبارہ اپنی پڑھائی شروع کی۔

Khoon Ka Sood by Aneeqah Khan

“خون کا سود” انتقام اور انجام کی داستان یہ کہانی اس حقیقت کو دیکھاتی ہے کہ خون کبھی سکون نہیں خرید سکتا زُراک اور زریا دونوں اپنے زخموں کے بدلے خون مانگتے ہیں مگر جتنا وہ آگے بڑھتے ہیں اتنا ہی ہو اس آگ میں جلتے ہیں کہانی یہ سوال چھوڑتی ہے “جب سب کچھ جل جاۓ تو جیتا کون؟ دشمن یا تم خود؟
1 158 159 160 594