Buhe Bariyan by Mansha Mohsin Ali
Buhe Bariyan is a Romantic Novel by Mansha Mohsin Ali
Meet The Author
Sirf Tumhari Bilqees is a Family Drama | Arrange Marriage Based | Digest Based Social Romantic Novel by Mansha Mohsin Ali Published in Kiran Digest March 2026.
صرف تمہاری بلقیس از منشاء محسن علی
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
کرن ڈائجسٹ مارچ ۲۰۲۶
بلقیس، کارنس پر رکھی ہوئی ایک بھولی بھٹکی ہوئی معمولی سی چیز، مگر کون جانے؟ کس کو خبر؟
وہ کیا تھی؟ وہ کیوں تھی؟
بلقیس ایک عام شکل و صورت کی، مگر زندہ دل لڑکی تھی۔ اس کی شادی مراد سے ہوئی، لیکن شادی کے کچھ ہی دن بعد مراد واپس سعودی عرب چلا گیا۔ وہ یوں گیا کہ پورے تیرہ برس تک واپس نہ آیا۔ حقیقت یہ تھی کہ اسے کبھی بلقیس کی قدر ہی نہ تھی۔ وہ اکثر سوچتا کہ بلقیس اس کی ہم پلہ نہیں اور نہ ہی اس قابل ہے کہ اس کی شریکِ حیات کہلائے۔ چنانچہ وہ اسے اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلا گیا۔
سالہا سال کی سخت محنت اور مشقت کے بعد جب مراد واپس وطن لوٹا تو ایک حیران کن منظر اس کا منتظر تھا۔ گھر والوں نے ہمیشہ یہی بتایا تھا کہ اس کی بیوی بدسلیقہ ہے اور اس نے بچوں کی تربیت بھی درست نہیں کی۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔
مراد یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ اسی عورت نے نہ صرف بچوں کی بہترین تربیت کی تھی بلکہ خود بھی تعلیم جاری رکھ کر اپنی شخصیت کو یکسر بدل ڈالا تھا۔ وہ پہلے سے زیادہ باوقار، سمجھدار اور مضبوط بن چکی تھی۔
ادھر مراد کے بیشتر رشتہ دار وہی تھے جو اس سے صرف پیسوں کی توقع رکھتے تھے۔ انہیں اس کی محنت، اس کے احساسات یا اس کی جدوجہد سے زیادہ دلچسپی اس کے لائے ہوئے تحائف میں تھی۔
لیکن بلقیس جیسے لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔ وہ سونے کی اینٹوں یا دولت کی طلب گار نہیں ہوتے۔ مگر بلقیس جیسے لوگ نایاب ہوتے ہیں جو سونے کی اینٹوں یا پیسوں کے طلب گار نہیں ہوتے بلکہ صرف کھجور اور زم زم کے پانی سے ہی خوش ہوجاتے ہیں۔
ہم اکثر لوگوں کو ان کے ظاہر سے پرکھ لیتے ہیں اور جلد ہی ان کے بارے میں بدگمان ہو جاتے ہیں، حالانکہ کسی انسان کی اصل قدر اس کے کردار، صبر اور ذمہ داری نبھانے کے انداز سے ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ اس کی ظاہری حیثیت سے۔ بلقیس کا کردار اسی حقیقت کی خوبصورت مثال ہے۔
مصنفہ نے اس کہانی میں ان لوگوں کی کٹھن اور مشقت بھری زندگی کی جھلک بھی پیش کی ہے جو پردیس جا کر روزی کماتے ہیں۔ سالہا سال گھر اور اپنوں سے دور رہ کر محنت کرنا، تنہائی اور جدائی کا بوجھ اٹھانا، اور پھر بھی اپنے خاندان کی بہتر زندگی کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ایک ایسی حقیقت ہے جسے اس تحریر نے نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔
Kaaj Button Aur Dhaga is a Marital Problems Based , After marriage Based , Family Drama, Digest Novel , Happy Ending, Short Novel Social Romantic Novel by Mansha Mohsin Ali Published in Khawateen Digest March 2026.
کاج بٹن اور دھاگا از منشاءمحسن علی
تبصرہ نگار: اقرا عنایت
خواتین ڈائجسٹ مارچ ۲۰۲۶
درِ نایاب اپنے نام کی طرح واقعی ایک نایاب لڑکی ہے؛ ذہین، خوبصورت , پُر اعتماد اور بے حد قابل جو اپنے ماں باپ کا فخر ہے۔ پھر ایک دن اسکی زندگی میں عباد کریم کا داخلہ ہوتا ہے۔بقول نایاب کے” ٹام کروز”
شادی کے بعد نایاب نے خود کو پوری طرح اپنے شوہر کے مطابق ڈھال لیا۔ اس نے وہ سب کچھ اپنایا جو عباد کو پسند تھا۔ اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھنا، اس کی رضا میں راضی رہنا اور اس کے رنگ میں رنگ جانا ہی نایاب کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ وہ ایک ایسی بیوی بننے کی کوشش کرتی رہی جو اپنے شوہر کی ہر خواہش کو اپنی خواہش بنا لے۔مگر اس تمام خلوص اور قربانی کے باوجود عباد کریم کے دل میں اس کے لیے محبت پیدا نہ ہو سکی۔ اس کی حقیقت یہ تھی کہ وہ کسی اور کی پہلی نظر کی محبت میں گرفتار تھا۔ نایاب اس کے لیے محض ایک بیوی تھی اور شاید صرف اپنے والدین کی پسند۔
لیکن نایاب کو یہ تلخ حقیقت سمجھ آجاتی ہے کہ جس محبت کی وہ منتظر ہے، وہ اسے کبھی نہیں ملے گی۔ چنانچہ ایک دن اس نے خاموش مگر باوقار فیصلہ کیا۔ وہ اپنی چار سالہ بیٹی کا ہاتھ تھام کر عباد کو چھوڑ دیتی ہے اور اپنے گھر واپس آ جاتی ہے۔
یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ
کیا فقط بیوی ہونا شوہر کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ کیا اس کی وفا، اس کی قربانیاں اور اس کی بے لوث خدمت مرد کی نظر میں واقعی اتنی غیر اہم ہو سکتی ہیں؟
یہ ایک ہیپی اینڈنگ کہانی ہے مگر اس کے اندر کئی کڑوی حقیقتیں چھپی ہیں۔ اگر ان پر گہرائی سے سوچا جائے تو نایاب کا عباد کو چھوڑ دینا بالکل درست ہوتا۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ عورت کو اکثر جگہوں پر اپنے اندر کے جذبات کو مار کر، کبھی اپنی انا کو سلا کر، اپنے والدین یا اپنی اولاد کے لیے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔اور نایاب نے بھی کجھ ایسا ہی کیا۔
منشا محسن علی نے اس کہانی کو جس خوبصورت انداز میں لکھا ہے، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔ الفاظ کی نزاکت، منظر نگاری کی خوبصورتی اور احساسات کی گہرائی۔اتنے احساس موضوع کو بہترین انداز میں لکھنا۔اور ہاں! کہانی میں ایک غیر متوقع پلاٹ ٹوئسٹ بھی ہے۔
Paglam is a Caring Hero | Arrange Marriage Based | Family Drama Based | Social Romantic Novel by Mansha Mohsin Ali Published in Khawateen Digest January 2026.
ناول: پگلم از منشاء محسن علی
تبصرہ نگار اقراء عنایت
خواتین ڈائجسٹ جنوری ۲۰۲۶
باپ کے انتقال کے بعد، باپ کی لاڈلی چندا کی شادی اس کا بھائی پرویز عرف پگلم سے کروا دیتا ہے۔پگلم ایک ایسا مرد ہے جو گھر کے تمام کام دل و جان سے انجام دیتا ہے—کھانا پکانا، بھائیوں اور بھابیوں کی خدمت کرنا، کپڑے دھونا، گھر اور باہر کے ہر چھوٹے بڑے کام کی ذمہ داری اٹھانا۔ وہ یہ سب کچھ کسی لالچ یا مجبوری میں نہیں بلکہ اپنے سوتیلے رشتوں سے بھی سچی محبت اور اپنائیت پانے کی خواہش میں کرتا ہے۔
پگلم ایک خالص دل کا انسان ہے، جو ہر ایک کا کام اخلاص اور خلوص سے کرتا ہے، مگر اس کے باوجود نہ تو گھر میں اس کی قدر ہوتی ہے اور نہ ہی اسے وہ عزت ملتی ہے جس کا وہ حق دار ہے۔ چندا کو ابتدا میں اس کی یہ فطرت ناگوار گزرتی ہے، آخر اس نے کہاں دیکھے تھے گھر سنبھالنے والے مرد؟ مگر ماں کی نصیحتیں اس کی سوچ بدل دیتی ہیں۔ وہ اسے سمجھاتی ہیں کہ گھر کے کام کرنے والے اور دوسروں کا خیال رکھنے والے مرد کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے؛ ہر مرد حساس اور احساس رکھنے والا نہیں ہوتا۔
ماں کی باتوں سے چندا کو بہت سی حقیقتوں کا ادراک ہوتا ہے۔ وہ پگلم کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اپنوں سے محبت کرنا اور ان کی خدمت کرنا کوئی برائی نہیں، مگر محبت کے حصول کے لیے خود کو غلام بنا دینا، اپنی ذات کو نظرانداز کرنا اور اپنی عزت کو پسِ پشت ڈال دینا درست نہیں۔
منشا محسن علی کے لکھنے کا انداز اور الفاظ کا چناؤ اس کہانی کو مزید خوبصورت اور اثر انگیز بنا دیتا ہے۔ یہ کہانی نہ صرف رشتوں کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ خودداری، عزتِ نفس اور توازن کی اہمیت کو بھی نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔
Qais Jungle Mein Akela Hai by Mansha Moshin Ali Published in Kiran Digest from March to December 2025.
Tota Kahani is a Comedy Based | Eid Based | Enemies to Lovers Based | Social Romantic Novel by Mansha Mohsin Ali Published in Khawateen Digest December 2025.
طوطا کہانی از قلم منشا محسن علی
خواتین ڈائجسٹ دسمبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار : اقرا عنایت
مصنفہ نے کہانی کو اس انداز میں قلم بند کیا ہے کہ قاری شروع سے آخر تک اس میں محو رہتا ہے۔ ہانیہ، حارب اور ہانیہ کا بھائی حارث بچپن سے ایک ساتھ پلے بڑھے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے درمیان گہری دوستی قائم ہو جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ دوستی محبت میں بدل جاتی ہے، اور جب ہانیہ اور حارب شادی کا فیصلہ کرتے ہیں تو حارب کے والد ایک ایسی شرط رکھ دیتے ہیں جس کے باعث ان دونوں کی شادی ممکن نہیں رہتی۔
اسی دوران ہانیہ کی شادی طے ہو جاتی ہے۔ ایک طرف باپ کی عزت اور فرمانبرداری، اور دوسری طرف سچی محبت، ان دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہانیہ کے لیے نہایت مشکل فیصلہ بن جاتا ہے۔ لیکن بالآخر وہ ایک فیصلہ کر ہی لیتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہانیہ نے کس کا انتخاب کیا؟
باپ کا مان؟ یا حارب کی محبت؟
Sab Sitare Tum Rakh Lo Is a After Marriage Based Novel by Mansha Mohsin Ali Published in Pakeeza Digest September 2025.
ناول: سب ستارے تم رکھلو از منشا محسن علی
شائع شدہ: پاکیزہ ڈائجسٹ ۲۰۲۵
تبصرہ : اقراء سومرو
روحانہ عرف روحی ایک گہری سانولی رنگت کی لڑکی تھی جسے پودوں سے بے انتہا محبت تھی۔ سادہ اور پُرلطف لڑکی، مگر ہمارے معاشرے کا یہ کڑوا سچ ہے کہ ایسے رنگ کی لڑکیوں کو ہمیشہ طنز، طعنے اور مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں ہمیشہ یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ کمتر ہیں۔
یہ سوچے بغیر کہ ایسی لڑکیاں کس طرح ذہنی دباؤ اور احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتی ہیں۔
مگر روحانہ کے والدین کا کردار مجھے بے حد پسند آیا، خاص طور پر روحانہ اور اس کی امی کی محبت بھری وابستگی، اور اجالا (روحانہ کی بہن) اور اس کے ابا کا۔ روحانہ کی امی اور ابا کی ہلکی پھلکی نوک جھونک نے ناول میں جیسے جان ڈال دی۔
کہانی میں ایک ایسا موڑ بھی آتا ہے جو قاری کو چونکا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ ابھی بتا دیا جائے تو مزہ کرکرا ہو جائے گا۔یہ راز تو آپ کو ناول پڑھنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔
یہ کہانی صرف ایک لڑکی کی نہیں، بلکہ ان تمام دلوں کی ترجمان ہے جو رنگ و نسل کے پیمانوں پر پرکھے جاتے ہیں۔ ناول پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔
Buhe Bariyan by Mansha Mohsin Ali
Buhe Bariyan is a Romantic Novel by Mansha Mohsin Ali
Views: 1,199
Reviews
There are no reviews yet.