Urdu Digest Novels

Kasa e Dill Mein Koi Khanak Novel by Humaira Ali

Kasa e Dill Mein Koi Khanak is a Childhood friends to lovers based | Cousin Marriage Based | Second Marriage Based | Misunderstandings| Family Drama | Social Romantic | Digest Based | Short Novel | Eid based Novel | Ramazan Based | Romantic Novel by Humaira Ali Published in Kiran Digest March 2026.
ناول: کاسہ دل میں کوئی کھنک از حمیرا علی
کرن ڈائجسٹ مارچ ۲۰۲۶
تبصرہ نگار: اقرا عنایت
عسابر اور عریفہ صرف کزنز ہی نہیں بلکہ بچپن سے پکے دوست تھے۔ جو کام عریفہ کرتی، وہی عسابر کو بھی کرنا ہوتا، اور جو کام عسابر کرتا، وہی عریفہ پر بھی لازم سمجھا جاتا تھا۔ ان کی دوستی پورے خاندان میں مثالی مانی جاتی تھی۔
لیکن پھر کہانی میں موڑ آتا ہے جب عسابر اپنی دوسری کزن کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ نہ صرف عریفہ سے بلکہ اپنے پورے خاندان سے بھی دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ تاہم جلد ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنوں کو چھوڑ کر اور عریفہ کو تکلیف دے کر دراصل نقصان ہی اٹھایا، کیونکہ نزاہت ویسی نہیں نکلی جیسا اس نے تصور کیا تھا۔
یہ ایک روایتی محبت کی داستان ہے، مگر پڑھنے میں دلچسپ ہے اور قاری کو اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔ آخر کار عریفہ اور عسابر کی کہانی کا انجام کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ ایک ہو پاتے ہیں؟یا عسابر کے حصے میں صرف پچھتاوا ہی آتا ہے؟ کیاعریفہ اسے معاف کر دیتی ہے؟ ان تمام سوالوں کے جواب جاننے کے لیے یہ ناول پڑھنا ضروری ہے۔

Sirf Tumhari Bilqees Novel by Mansha Mohsin Ali

Sirf Tumhari Bilqees is a Family Drama | Arrange Marriage Based | Digest Based Social Romantic Novel by Mansha Mohsin Ali Published in Kiran Digest March 2026.
صرف تمہاری بلقیس از منشاء محسن علی
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
کرن ڈائجسٹ مارچ ۲۰۲۶
بلقیس، کارنس پر رکھی ہوئی ایک بھولی بھٹکی ہوئی معمولی سی چیز، مگر کون جانے؟ کس کو خبر؟
وہ کیا تھی؟ وہ کیوں تھی؟
بلقیس ایک عام شکل و صورت کی، مگر زندہ دل لڑکی تھی۔ اس کی شادی مراد سے ہوئی، لیکن شادی کے کچھ ہی دن بعد مراد واپس سعودی عرب چلا گیا۔ وہ یوں گیا کہ پورے تیرہ برس تک واپس نہ آیا۔ حقیقت یہ تھی کہ اسے کبھی بلقیس کی قدر ہی نہ تھی۔ وہ اکثر سوچتا کہ بلقیس اس کی ہم پلہ نہیں اور نہ ہی اس قابل ہے کہ اس کی شریکِ حیات کہلائے۔ چنانچہ وہ اسے اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلا گیا۔
سالہا سال کی سخت محنت اور مشقت کے بعد جب مراد واپس وطن لوٹا تو ایک حیران کن منظر اس کا منتظر تھا۔ گھر والوں نے ہمیشہ یہی بتایا تھا کہ اس کی بیوی بدسلیقہ ہے اور اس نے بچوں کی تربیت بھی درست نہیں کی۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔
مراد یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ اسی عورت نے نہ صرف بچوں کی بہترین تربیت کی تھی بلکہ خود بھی تعلیم جاری رکھ کر اپنی شخصیت کو یکسر بدل ڈالا تھا۔ وہ پہلے سے زیادہ باوقار، سمجھدار اور مضبوط بن چکی تھی۔
ادھر مراد کے بیشتر رشتہ دار وہی تھے جو اس سے صرف پیسوں کی توقع رکھتے تھے۔ انہیں اس کی محنت، اس کے احساسات یا اس کی جدوجہد سے زیادہ دلچسپی اس کے لائے ہوئے تحائف میں تھی۔
لیکن بلقیس جیسے لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔ وہ سونے کی اینٹوں یا دولت کی طلب گار نہیں ہوتے۔ مگر بلقیس جیسے لوگ نایاب ہوتے ہیں جو سونے کی اینٹوں یا پیسوں کے طلب گار نہیں ہوتے بلکہ صرف کھجور اور زم زم کے پانی سے ہی خوش ہوجاتے ہیں۔
‎ہم اکثر لوگوں کو ان کے ظاہر سے پرکھ لیتے ہیں اور جلد ہی ان کے بارے میں بدگمان ہو جاتے ہیں، حالانکہ کسی انسان کی اصل قدر اس کے کردار، صبر اور ذمہ داری نبھانے کے انداز سے ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ اس کی ظاہری حیثیت سے۔ بلقیس کا کردار اسی حقیقت کی خوبصورت مثال ہے۔
مصنفہ نے اس کہانی میں ان لوگوں کی کٹھن اور مشقت بھری زندگی کی جھلک بھی پیش کی ہے جو پردیس جا کر روزی کماتے ہیں۔ سالہا سال گھر اور اپنوں سے دور رہ کر محنت کرنا، تنہائی اور جدائی کا بوجھ اٹھانا، اور پھر بھی اپنے خاندان کی بہتر زندگی کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ایک ایسی حقیقت ہے جسے اس تحریر نے نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔
1 7 8 9 173