Uljha Hua Sa Kuch Novel by Aasiya Raees Khan
Uljha Hua Sa Kuch Is a Childhood Friends to Lovers Based | Family Drama | happy ending | Digest based Social romantic Novel by Aasiya Raees Khan Published in Kiran Digest March 2026.
Meet The Author
Aah Neem Kash Is a Family Based Novel by Aasiya Raees Khan Publishing in Shuaa Digest.
Aah Neem Kash Is a Family Based Novel by Aasiya Raees Khan Publishing in Shuaa Digest.
ناول: آہ نیم کش از آسیہ رئیس خان
قسط نمبر: ۶
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
شعاع ڈائجسٹ فروری ۲۰۲۶
عدن کی زندگی کے بارے میں ایک ایک کر کے نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں اور کئی راز کھلتے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسپتال میں داخل کیوں ہے؟ اور اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟
ادھر میر عثمان کے ماضی کے حوالے سے تجسس بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ماضی میں دکھائے گئے دو کردار، جن میں ایک لڑکا اور اس کے دوست کا ذکر کیا گیا تھا، وہ دوست میر عثمان ہی معلوم ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کس کا کس سے کیا تعلق ہے؟ اور کون سا کردار کس سے جڑا ہوا ہے۔
کیا آپ لوگوں نے قسط پڑھ لی؟
Himmat Dushwar Pasand Is a Second Marriage Based, After Marriage Based, Brave and Strong Female Lead Based, Caring Hro Based Family Drama Based Novel by Aasiya Raees Khan Published in Khawateen Digest January 2026.
ہمت دشوار پسند از آسیہ رئیس خان
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
خواتین ڈائجسٹ جنوری۲۰۲۶
عاصیہ رئیس ہمیشہ اپنے ناولز کے ذریعے قارئین کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں۔ ان کی ہر آنے والی کہانی پچھلی سے زیادہ اچھی، گہری اور سبق آموز ہوتی ہے۔ ان کی یہ خوبی مجھے بے حد پسند ہے کہ وہ محض رومانس تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرے کے نہایت اہم اور سنجیدہ مسائل کو بھی زیرِ بحث لاتی ہیں۔
ان کی کہانیوں کی مرکزی خواتین کردار عام ناولز کی ہیروئنز سے مختلف ہوتی ہیں۔ وہ باہمت اور مضبوط ہوتی ہیں، مگر ان میں ایک عام گھریلو لڑکی کی سادگی اور حقیقت پسندی بھی موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غیر حقیقی نہیں لگتیں بلکہ قاری آسانی سے خود کو ان سے جوڑ پاتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بعض اوقات زندگی کے مشکل ترین لمحات میں ہمیں سب سے کٹھن اور فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑتا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب ہمارے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثر لوگ ہمارے خلاف ہوتے ہیں، ہمیں کمتر سمجھا جاتا ہے، ہماری ہمت توڑی جاتی ہے اور ہمیں طنز و تحقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مگر ایسی زندگی جو صرف پچھتاووں اور دکھوں کے ساتھ گزاری جائے، اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ مشکل فیصلہ کر لیا جائے جو اگرچہ فوری طور پر تکلیف دہ ہو، مگر آنے والی بڑی مشکلات سے ہمیں بچا لے۔ تاہم ہمارے معاشرے میں عورت کے لیے ایسے فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اکثر عورت خود کو یہ کہہ کر خاموش کروا لیتی ہے کہ” اب کیا ہوگا؟”
حالانکہ زندگی میں درست فیصلے کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے وقت نہیں بلکہ صرف ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بریرہ، جو اس کہانی کی مرکزی کردار ہے، نے بھی ایسا ہی ایک نہایت مشکل اور بظاہر ناممکن فیصلہ کیا۔ شادی کی پہلی ہی رات اسے اپنے شوہر سے یہ سننے کو ملا کہ *“مجھے کوئی اور پسند ہے”*۔ مگر اسے اپنے لیے فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔ وہ گھر چھوڑ کر واپس آ گئی، اور اہلِ خانہ کے دباؤ، طعنوں اور معاشرتی رویّوں کے باوجود اپنے فیصلے پر قائم رہی۔
اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ صرف اس کا چھوٹا بھائی کھڑا تھا۔ دراصل بھائی کا بڑا یا چھوٹا ہونا اہم نہیں ہوتا، اہم یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل میں بہن کے لیے احساس اور ساتھ دینے کا حوصلہ موجود ہو۔
تاہم ہر لڑکی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ معاشرے سے لڑ کر، سب سے الگ ہو کر اور نفرتوں کا سامنا کر کے زندگی گزارنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
یہ سب ہم پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے لیے کیا انتخاب کرتے ہیں “سمجھوتہ یا عزتِ نفس”۔
Aah Neem Kash Is a Family Based Novel by Aasiya Raees Khan Publishing in Shuaa Digest.
آہ نیم کش قسط نمبر ۵
شعاع ڈائجسٹ جنوری ۲۰۲۶
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
یہاں تو ہر کردار کے ماضی میں کوئی نہ کوئی راز چھپا ہوا ہے، اور اب عدن کا ماضی بھی آہستہ آہستہ سامنے آنے لگا ہے۔ آخر یہ اسفندیار کون ہے؟ اور عدن اس سے کیوں چھپ رہی تھی؟ دوسری طرف میر عثمان ایک بار پھر عدن سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ امید ہے کہ عدن جلد ہی اپنی محبت کا اقرار کر کے میر عثمان کو غلط فہمی سے بچا لے گی۔
آدم اور سبیل کے سینز کیوٹ سے تھے۔ ایک سین جو بڑے مزے کا تھا جب سبیل کچن سے باہر نکلتی ہے،آدم کو دیکھ کر چونک جاتی ہے اور فوراً واپس چلی جاتی ہے، جبکہ بیچارہ آدم حیران و پریشان کھڑا رہ جاتا ہے کہ آخر ہوا کیا ہے۔
صفہ اور سبیل کے سینز تو ہمیشہ ہی مزے دار ہوتے ہیں۔ ان کی نوک جھونک کہانی کو مزید دلچسپ اور پرلطف بنا دیتی ہے،
Aah Neem Kash is a Family Based Novel by Aasiya Raees Khan Publishing in Shuaa Digest Monthly.
آہ نیم کش از آسیہ رئیس خان
قسط نمبر :4
شعاع ڈائجسٹ دسمبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
مجھے نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آدم کو اوک ہاؤس میر عثمان نے ہی بھیجا ہے۔ اس قسط میں یہ بات تو صاف ہو گئی ہے کہ میر عثمان اپنی بہن کی کچھ حقیقتوں سے واقف ہیں، لیکن انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ عدن بیگم جہاں عنایت کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔ امید ہے کہ آگے چل کر میر عثمان کی یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی۔
ماضی میں دکھائے گئے دو کرداروں کے بارے میں میرا اندازہ ہے کہ وہ لڑکا میر عثمان اور لڑکی سبیل کی امی ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ لڑکی بیگم جہاں عنایت ہی ہوں۔
ماضی کے مناظر نے کہانی میں خاصا تجسس پیدا کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے اس کہانی میں کیا نیا موڑ آتا ہے۔
Wo Jo Lafzon Ke Darmyan Hai is a Cousin Marriage Based, Age Difference Based, Bullying Based, Family Drama Based Novel by Aasiya Raees Khan Published in Khawateen Digest November 2025.
ناول: وہ جو لفظوں کے درمیان تھے از آسیہ رئیس خان
خواتین ڈائجسٹ نومبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت اللہ
بُلنگ صرف وہ شخص نہیں کرتا جو تنگ کر رہا ہوتا ہے، بلکہ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہوتے ہیں جو سب کچھ دیکھ کر خاموش رہ جاتے ہیں۔ اکثر خاندان میں بچے اپنے ہی کزنز کے ہاتھوں بُلنگ کا شکار ہوتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ مذاق نہیں بلکہ اُن کے دل پر لگنے والے زخم ہیں۔ جب بڑے لوگ چپ رہیں تو ظالم کو حوصلہ ملتا ہے اور مظلوم مزید ڈر جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم تب ہی جاگتے ہیں جب بچے کا اعتماد ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ معاشرے کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خاموش تماشائی نہ بنیں، ورنہ قصور صرف بدمعاش کا نہیں، ہمارا بھی ہوتا ہے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار “ ساحل “بھی اسی طرح کی بُلیئنگ کا شکار تھا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو بچے ہوسٹل میں رہتے ہیں انہیں بہت تنگ کیا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کا ساتھ دینے کے بجائے انہیں وہی سخت جواب دینے کی تربیت دیتے ہیں۔ ساحل کے والد بھی ایسے ہی والدین کی تصویر ہیں جو اپنے بچوں کو ہوسٹل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، نہ ان کی بات سنتے ہیں اور نہ توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ والدین دور رہنے والے بچوں پر زیادہ توجہ دیں۔ ان کی غفلت بچوں کے ذہن اور دل دونوں کو زخمی کر دیتی ہے، اور بعض زخم پوری زندگی نہیں بھرتے۔
ساحل نے اپنے دردناک وقت اور تکلیف کو ایک کتاب میں لکھا، اس امید سے کہ شاید اس کے والد اور گھر والے پڑھ کر اس کے احساسات سمجھ سکیں۔ لیکن افسوس، کسی نے اس کی تحریر پڑھنے کی تکلیف تک نہ کی، بس مبارک باد دے دی اور بات ختم۔
پتہ نہیں ہمارے ارد گرد کتنے اور بچے ہوں گے جو ایسی زیادتیاں خاموشی سے برداشت کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم آج دوسروں کو بُلی ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں گے تو کل یہی سب ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اور لوگ ویسے ہی تماشائی بنے رہیں گے جیسے آج ہم ہیں۔
اس ظلم کے چکر کو کون توڑے؟ victim برداشت کرتا رہے، bully ظلم کرتا رہے، اور باقی لوگ چپ رہیں، تو تبدیلی کیسے آئے؟
آسیہ رئیس بلاشبہ اپنے ہر نئے ناول میں کوئی نہ کوئی ایسا احساس اور موضوع ضرور لاتی ہیں جسے ہمارے معاشرے میں کوئی توجہ نہیں دیتا۔ وہ باتیں جو بے حد ضروری ہوتی ہیں، جنہیں ہم محسوس تو کرتے ہیں مگر کبھی کھل کر زیرِ بحث نہیں لاتے، ان پر نہ کوئی سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی حل تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ ان کی تحریر کی وہ خوبی ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
اگر آپ لوگوں نے یہ ناول پڑھا ہے تو اپنی رائے ضرور دیں
Uljha Hua Sa Kuch Novel by Aasiya Raees Khan
Uljha Hua Sa Kuch Is a Childhood Friends to Lovers Based | Family Drama | happy ending | Digest based Social romantic Novel by Aasiya Raees Khan Published in Kiran Digest March 2026.
Views: 1,213
Reviews
There are no reviews yet.