جو خود کو تلاش کرنے کا سفر کرتے ہیں نہ وہ اتنے منصوبے نہیں بناتے
یہ لڑکی مجھے عام نہیں لگ رہی کچھ تو عجیب منفرد بات ہے اس میں اس کی آںکھوں میں ایک ان دیکھی قوت کئی راز چھپے ہیں ایسی شخصیتوں سے اب کم ہی سامنہ ہوتا ہے انہوں نے دہیمی آواز میں ساتھ بیٹھے لڑکے کے ساتھ اپنا نظریہ پیش کیا جو چہرا دوسری جانب کیئے بیٹھا تھا
زندگی ٹرین کےایک ڈبے کے مانند ہے جس میں ہم اپنی یادیں بناتے ہیں
پر ٹرین کی سیٹی کی آواز وقتاً بہ وقتاً یہ یاد دلا تی رہتی ہے کہ ہم یہاں کچھ وقت کے مہمان ہیں
ہر کہانی کا اختمام حاصل ہوجانا نہیں ہوتا ۔ حاصل ہوکر کہانی ختم ہوجاتی ہے پوری ہوکر زمانے میں کھو جاتی ہے لیکن کچھ لوگ لاحاصل ہوکر بھی اگلے شخص کا کردار بدل دیتے ہیں اس کی روح ان سے جڑ جاتی ہے