Urdu Digest Novels

Aah Neem Kash Episode 2 by Aasiya Raees Khan

Aah Neem Kash is a Family Based Novel by Aasiya Raees Khan Publishing in Shuaa Digest Monthly.
ناول:آہ نیم کش
قسط نمبر:۲
مصنفہ:آسیہ رئیس خان
ماہنامہ شعاع، اکتوبر ۲۰۲۵ء
 تبصرہ : اقراء سومرو
کہانی کی یہ قسط بہت دلچسپ انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ سبیل کو راستے میں ملنے والا ایک انجان شخص اُسے بحفاظت اوک ہاؤس چھوڑ آتا ہے۔ اوک ہاؤس کے لوگ اُس شخص کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اُسے چائے وغیرہ پیش کرتے ہیں، مگر موسم خراب ہونے کی وجہ سے وہ وہیں رکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
رات کا منظر خاص طور پر بہت کیوٹ تھا جب سبیل کھڑکی میں کھڑی نیچے کھڑے آدم سے اُس کا نام پوچھتی ہے۔
دوسری طرف میر عثمانکا ماضی جاننے کا تجسس بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ جانے کی خواہش ہوتی ہے کہ آخر ان کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ وہ آج تک اُس ماضی سے باہر نہیں نکل سکے۔
بیگم عنایت جہاں کا کردار بہت پرُاسرار لگتا ہے۔ وہ ہر شخص سے الگ انداز میں ملتی ہیں۔ بظاہر باوقار اور سنجیدہ نظر آنے والی بیگم جہانعنایت دراصل بہت سے راز اپنے اندر چھپائے ہوئی ہیں۔
قسط کے آخر میں آدم کے مجرم ہونے کا انکشاف کہانی کو مزید سنسنی خیز بنا دیتا ہے۔ قاری کے دل میں یہ جاننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
آسیہ رئیس خان نے اس قسط کو بھی خوبصورتی سے لکھا ہے۔ کرداروں کے درمیان جذبات، موسم کی کیفیت، اور اسرار سے بھرا ماحول کہانی کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔ اگلی قسط کے لیے تجسس مزید بڑھ گیا ہے

Ujli Khwahishon K Chiragh by Madiha Saeed

Ujli Khwahishon K Chiragh Is a Family Based  Novel by Madiha Saeed Published in Shuaa Digest in October 2025.
ناول ؛ اجلی خواہشوں کےچراغ
مصنفہ: مدیحہ سعید
شعاع ڈائجسٹ اکتوبر ۲۰۲۵
تبصرہ : اقراء سومرو
اس کہانی کا مرکزی کردار دامیر حسنین ہے۔ بچپن میں اپنے ماں
باپ کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کے باعث اس کے والدین نے اُسے امریکہ بھیج دیا، جس کے نتیجے میں وہ کم عمری ہی سے ذہنی اذیت اور تنہائی کا شکا رہ دس سال بعد جب وہ پاکستان واپس آیا تو اپنے والدین کو معاف نہ کر سکا، یہی وجہ تھی کہ وہ مسلسل ذہنی دباؤ میں مبتلا رہتا اور اپنے رویّے سے ماں باپ دونوں کو اذیت پہنچاتا رہا۔
تاہم ایک ہستی تھی “ اتباع “ جس سے وہ کبھی ناراض نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کی پوری دنیا اتباع کے گرد گھومتی تھی۔
ناول میں مجھے سب سے زیادہ پسند علیان کاکرادر ہے ۔ وہ بارہا ٹھکرائے جانے کے باوجود اپنے بھائی دامیرکو تنگ کرنا، اس سے محبت کرنا، اور اُس کی زندگی میں رہنے کی کوشش نہیں چھوڑتا۔
مصنفہ نے بچپن میں ماں باپ کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کے اثرات کو کہ کس طرح یہ بچے کی شخصیت کو اندر سے توڑ دیتے ہیں اور اُسے ساری عمر کے لیے ذہنی انتشار کا شکار بنا دیتے ہیں نہایت خوبصورتی اور حقیقت پسندی سے پیش کیا ہے۔
اگر آپ نے یہ ناول پڑھا ہے تو کمنٹس سیکشن میں اپنی رائے ضرور دیں

Reshmi Girhen by Shumaila Dilebad

Reshmi Girhen Is a Family Based  Novel by Shumaila Dilebaad Published in Shuaa Digest October 2025.
ناول: ریشمی گرہیں
مصنفہ: شمائلہ دالعباد
شعاع ڈائجسٹ اکتوبر ۲۰۲۵
 تبصرہ : اقراء سومرو
‎جس موضوع پر یہ کہانی لکھی گئی ہے، اُس پر میں نے آج تک کوئی ایسی تحریر نہیں پڑھی۔
‎مصنفہ نے جس خوبصورتی اور گہرائی سے اس موضوع کو پیش کیا ہے، وہ واقعی تعریف کے قابل ہے کہانی ہے صدّیقی صاحب، نغمہ بیگم اور ان کی تین بیٹیوں کی ہے ۔دیکھنے میں یہ ایک جدید، پڑھی لکھی اور آزاد خیال فیملی لگتی ہے جہاں لڑکیوں کو تعلیم اور نوکری کی اجازت ہے۔ مگر حقیقت میں اس گھر کے دروازے کے پیچھے ایک خوفناک سچ چھپا ہے۔
‎صدیقی صاحب اپنی کسی بھی بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ پیسوں کے لالچی ہیں، مگر اصل بات یہ ہے کہ وہ ایک خود پسند اور خود پر فدا انسان ہیں۔انہیں اپنی جوانی اور خوبصورتی سے جنون کی حد تک محبت ہے
‎وہ نہیں چاہتے کہ لوگ انہیں دادا یا نانا کہہ کر ان کی عمر کا احساس دلائیں۔
‎ان کی یہ نفسیاتی سوچ صرف ان تک محدود نہیں، بلکہ انہوں نے اپنی بیوی نغمہ بیگم کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے۔دونوں چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں ہمیشہ ایک خوبصورت اور جوان جوڑے کے طور پر دیکھیں، چاہے اس کے لیے اپنی بیٹیوں کی خوشیاں کیوں نہ قربان کرنی پڑیں۔ان کے نزدیک نکاح جیسے پاک رشتے کی بھی کوئی عزت باقی نہیں ۔ ۔۔
ان کے ذہن میں صرف مرد اور عورت کا تعلق رہ گیا ہے، نہ کہ ایک مقدس رشتہ۔
‎ان کی بیٹیوں میں سے صرف شہلا کو والدین کی اس بیماری کا اندازہ تھا۔وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ شادی کر کے ایک نیا گھر بسائے، مگر والدین کی ضد اور خودغرضی نے اس کے دل میں ان کے لیے نفرت بھر دی۔یہی نفرت اسے ایک غلط راستے پر لے جاتی ہے، جہاں سے واپسی آسان نہیں رہتی۔
‎کہانی کے ہر موڑ پر قاری کو جھٹکا لگتا ہے
‎کبھی کرداروں سے نفرت ہوتی ہے، کبھی ان پر افسوس آتا ہے۔
‎یہ کہانی صرف ایک گھر کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی بہت سی لڑکیوں کی نمائندگی کرتی ہے، جو والدین کی انا، خود پسندی یا دکھاوے کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔
‎مصنفہ نے ایک بہت اہم اور حساس مسئلے کو بڑی مہارت سے بیان کیا ہے۔
‎تحریر میں درد بھی ہے، سچائی بھی، اور وہ جذبہ بھی جو سیدھا دل کو چھو جاتا ہے۔
‎آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گی کہ یہ کہانی ہر اس شخص کو ضرور پڑھنی چاہیے جو انسان کے اندر کے تضاد اور خود غرضی کو سمجھنا چاہتا ہے۔
‎یہ کہانی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کبھی کبھی سب سے خوبصورت نظر آنے والے گھر، دراصل سب سے زیادہ اداس اور بیمار ہوتے ہیں۔
1 66 67 68 173