Reshmi Girhen Is a Family Based Novel by Shumaila Dilebaad Published in Shuaa Digest October 2025.
ناول: ریشمی گرہیں
مصنفہ: شمائلہ دالعباد
شعاع ڈائجسٹ اکتوبر ۲۰۲۵
تبصرہ : اقراء سومرو
جس موضوع پر یہ کہانی لکھی گئی ہے، اُس پر میں نے آج تک کوئی ایسی تحریر نہیں پڑھی۔
مصنفہ نے جس خوبصورتی اور گہرائی سے اس موضوع کو پیش کیا ہے، وہ واقعی تعریف کے قابل ہے کہانی ہے صدّیقی صاحب، نغمہ بیگم اور ان کی تین بیٹیوں کی ہے ۔دیکھنے میں یہ ایک جدید، پڑھی لکھی اور آزاد خیال فیملی لگتی ہے جہاں لڑکیوں کو تعلیم اور نوکری کی اجازت ہے۔ مگر حقیقت میں اس گھر کے دروازے کے پیچھے ایک خوفناک سچ چھپا ہے۔
صدیقی صاحب اپنی کسی بھی بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ پیسوں کے لالچی ہیں، مگر اصل بات یہ ہے کہ وہ ایک خود پسند اور خود پر فدا انسان ہیں۔انہیں اپنی جوانی اور خوبصورتی سے جنون کی حد تک محبت ہے
وہ نہیں چاہتے کہ لوگ انہیں دادا یا نانا کہہ کر ان کی عمر کا احساس دلائیں۔
ان کی یہ نفسیاتی سوچ صرف ان تک محدود نہیں، بلکہ انہوں نے اپنی بیوی نغمہ بیگم کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے۔دونوں چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں ہمیشہ ایک خوبصورت اور جوان جوڑے کے طور پر دیکھیں، چاہے اس کے لیے اپنی بیٹیوں کی خوشیاں کیوں نہ قربان کرنی پڑیں۔ان کے نزدیک نکاح جیسے پاک رشتے کی بھی کوئی عزت باقی نہیں ۔ ۔۔
ان کے ذہن میں صرف مرد اور عورت کا تعلق رہ گیا ہے، نہ کہ ایک مقدس رشتہ۔
ان کی بیٹیوں میں سے صرف شہلا کو والدین کی اس بیماری کا اندازہ تھا۔وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ شادی کر کے ایک نیا گھر بسائے، مگر والدین کی ضد اور خودغرضی نے اس کے دل میں ان کے لیے نفرت بھر دی۔یہی نفرت اسے ایک غلط راستے پر لے جاتی ہے، جہاں سے واپسی آسان نہیں رہتی۔
کہانی کے ہر موڑ پر قاری کو جھٹکا لگتا ہے
کبھی کرداروں سے نفرت ہوتی ہے، کبھی ان پر افسوس آتا ہے۔
یہ کہانی صرف ایک گھر کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی بہت سی لڑکیوں کی نمائندگی کرتی ہے، جو والدین کی انا، خود پسندی یا دکھاوے کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔
مصنفہ نے ایک بہت اہم اور حساس مسئلے کو بڑی مہارت سے بیان کیا ہے۔
تحریر میں درد بھی ہے، سچائی بھی، اور وہ جذبہ بھی جو سیدھا دل کو چھو جاتا ہے۔
آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گی کہ یہ کہانی ہر اس شخص کو ضرور پڑھنی چاہیے جو انسان کے اندر کے تضاد اور خود غرضی کو سمجھنا چاہتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کبھی کبھی سب سے خوبصورت نظر آنے والے گھر، دراصل سب سے زیادہ اداس اور بیمار ہوتے ہیں۔