Novels

Salsbeel

Salsbeel by Nayab Jilani free PDF Download Available.
J-Aکہانی کا خلاصہ۔۔
سلسبیل جو بہت خوبصورت لڑکی ہے،جرمنی میں اپنے دادا دادی اور باپ کے ساتھ رہتی ہے۔دادی بیكری چلاتی ہیں اور گاؤں میں یہ لوگ جانور بھی پالتے ہیں۔س کا ایک بھائی ڈینی ہے اور دوست ڈی سوزا جس کی ماں نے اس کے باپ کے ساتھ بے وفائی کی تھی۔
سلسلبیل کی ماں وفات پا گئی تھی تو دوسری شادی باپ نے کی اور سوتیلی ماں کا رویہ اس کے ساتھ بہتر نہیں جس کا باپ روبرو اور بھائی روسی اکثر ان کے گھر ملنے آتے ہیں اور ان کا آنا دادا دادی کو پسند نہیں۔
ہیرو ہشام بھی جرمنی میں ڈاکٹر ہے جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے جس کی ماں شراب نوشی کرتی ہے اور مر جاتی ہے۔
ہشام کی سوتیلی ماں پاکستان میں ہیں جو نرجس بیگم ہیں اور پیار سے انھیں جی جی کہتے ہیں جو اس سے بہت محبت کرتی ہیں اور کافی سالوں سے منتظر ہیں کہ سوتیلہ بیٹا پاکستان آجاۓ اور جائیداد اس کے حوالے کردیں وہیں وہ شافیہ کی شادی ہشام سے کرانا چاہتی ہیں۔
شافیہ نرجس یعنی جی جی کے محلے میں اپنی سوتیلی ماں اور سوتیلی بہن عرشیہ کے ساتھ رہتی ہے جن کا رویہ شافیہ کے ساتھ اچھا نہیں اور اس کی جی جی سے بہت بنتی ہے اور یہ بھی ہشام کو پسند کرتی ہے اور اس کے آنے کی منتظر ہے۔
اسی گلی میں غوثیہ اپنے بیٹے شاہ ویز کے ساتھ رہتی ہیں جو شافیہ کو پسند کرتا ہے اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں جن کے والدین نہیں ہیں۔یعنی خداداد بڑا بھائی ہے جو سب بہن بھائیوں کو والدین کی طرح کیئر کرتا ہے شایان،داؤد،سلیم اور ایک بہن سنہرے گھر کے فرد ہیں۔
سنہرے کی شافیہ سے دوستی ہے شافیہ کی ماں سمیرا چاہتی ہیں کہ عرشیہ کی شادی خدا داد سے ہوجاۓ۔
خطیب فلسطینی ہے جس کاسارا خاندان شہید ہوگیا اور اب یہ جرمنی آگیا ہے اور ہشام سے اس کی دوستی ہے وہیں کالج میں وہ سلسبیل اور ڈی سوزا سے بھی ملتا ہے۔خدا داد جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے یہ اپنی فیملی کے ساتھ جرمنی شفٹ ہوجاتا ہے جس کی دوستی ہشام اور خطیب سے ہوجاتی ہے کہ ایک ہی کالج میں پڑھ رہے تھے۔
ہشام کی سگی ماں نشے کی وجہ سے مر جاتی ہے تو وہ پاکستان جاتا ہے اور نرجس بیگم کی خواہش کو پورا کر کے شافیہ سے نکاح کرتا ہے
سلسبیل کی سوتیلی ماں بھی اس کے باپ سے بے وفائی کر کے بھاگ جاتی ہے اور ایک رات کے اندیهرے میں کوئی آ کر سلسبیل کے ساتھ زیادتی کرتا ہے وہ سمجھتی ہے یہ روبرو ہے جو اس کی سوتیلی ماں کا شوہر ہے۔
ہشام شافیہ کو بتا دیتا ہے کہ وہ سلسبیل کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کر کے اسے سہارہ دے گا۔
باقی کہانی میں پڑھیں کہ
سلسبیل کا مجرم کون ہے؟
کیا شافیہ ہشام کے ساتھ رہے گی؟
ہشام کا راز بھی ہے وہ کیا ہے؟
بہت زیادہ فلاسفی سے بھرپور کہانی ہے جس میں رائیٹر نے بہت منفرد انداز میں ناول لکھا ہے جسے سمجھنا کچھ مشکل ہے مگر رائیٹر کی علمی قابلیت قابل تعریف ہے۔

Saltanat Episode 1 to 6 by Eman Fatima

“سلطنت”
یہ صرف ایک ناول نہیں…
ایسی دنیا جہاں جائیدادیں تقسیم ہوتے ہوتے دل بھی بانٹ دیتی ہیں،
“سلطنت” اُن لوگوں کی داستان ہے جو طاقت کی جنگ میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ اپنے ہی اپنوں کو کھو دیتے ہیں۔
یہاں محبت بھی سازش لگتی ہے،
خاموشی بھی خطرناک محسوس ہوتی ہے،
اور خاندان… خاندان کم، ایک میدانِ جنگ زیادہ لگتا ہے۔
ہر کردار اپنے اندر ایک راز چھپائے ہوئے ہے۔
کوئی محبت کے لیے لڑ رہا ہے،
کوئی انتقام کے لیے،
اور کوئی صرف اپنی “سلطنت” بچانے کے لیے۔
“سلطنت” صرف جائیداد کی جنگ نہیں،
یہ انا، محبت، نفرت، دھوکے اور اُن زخموں کی کہانی ہے
جو انسان ہنستے ہوئے بھی چھپا لیتا ہے۔
یہاں لوگ مرتے کم ہیں…
اندر سے ختم زیادہ ہوتے ہیں۔
اور سب سے خطرناک بات؟
اس کہانی میں ولن کوئی ایک نہیں۔
ہر شخص کسی نہ کسی کی بربادی کی وجہ ہے۔
کیونکہ بعض اوقات
خاندان صرف خاندان نہیں ہوتے…
وہ سلطنتیں ہوتے ہیں۔
اور سلطنتیں محبت سے نہیں،
قربانیوں اور تباہیوں سے قائم رہتی ہیں۔
مگر سوال صرف ایک ہے…
جب اقتدار، غرور اور دولت ایک ہی گھر میں جمع ہو جائیں،
تو آخر میں بچتا کون ہے؟
رشتے… یا صرف سلطنت؟

Sambhal Jao by Hina javed

Sambhal Jao is a Social Issues Based Novel by Hina Javed Published in Khawateen Digest December 2025.
ناول: سنبھل جاؤ از حناجاوید
خواتین ڈائجسٹ دسمبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
بعض اوقات کچھ لوگ خود کو اتنا کامل سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کی نظر میں ہر دوسرا انسان حقیر اور کمتر دکھائی دیتا ہے، اور ان کے نزدیک صرف وہی خود عقل مند اور باشعور رہ جاتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی معاملہ نازیہ کے ساتھ بھی پیش آیا۔ وہ بچپن ہی سے نہایت باشعور، سمجھ دار، پڑھائی میں ہوشیار اور گھرداری میں اس قدر سلیقہ مند تھی کہ اس کے والدین ہی نہیں بلکہ نانی تک اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہتی تھیں۔ اس کے کزنز کا ہر وقت نازیہ سے موازنہ کیا جاتا، جس کے نتیجے میں وہ رفتہ رفتہ لوگوں کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت بنتی چلی گئی۔
مگر اس کے والدین کے لیے وہ نہایت اہم تھی؛ گھر کا ہر فیصلہ اس کی رضا سے ہوتا تھا۔
تاہم جب یہی “کامل” بیٹی سسرال والوں کے نزدیک “حد سے زیادہ ہوشیار” اور “اوور اسمارٹ” کہلانے لگی تو نازیہ کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ اس نے کبھی جھکنا سیکھا ہی نہیں تھا، اور یہی ضد اس کے گھر کو بسانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔
کئی سال اکیلے گزارنے کے بعد اسے یہ احساس ہوا کہ تنہائی جس میں انسان اپنی مرضی کا مالک اور بظاہر آزاد ہوتا ہے اس زندگی سے کم تر ہے جس میں اگرچہ معمولی رنجشیں ہوں، مگر بالآخر یہی رشتے مشکل وقت میں انسان کے کام آتے ہیں۔
یہ کہانی دراصل اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ کمال پسندی اگر عاجزی سے خالی ہو تو رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے، اور انسان کو دیر سے ہی سہی، مگر یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ زندگی صرف درست ہونے کا نام نہیں، بلکہ ساتھ چلنے کا ہنر بھی مانگتی ہے۔
1 426 427 428 554