Novels

Qandeel by Aleezay Khannum

قندیل کا یہ سفر جس کے
 کرداروں کی قسمت میں جلنا لکھا تھا ۔
اگر وہ بجھتے تو بیکار ہوتے اور اگر وہ جلتے تو ہر چیز کو جھلسا دیتے۔
سبز آنکھوں کا سفر کشمیر کے گلستان سے ہوتے ہوئے قبرستان کی سفید چادر تک۔
سرخ پنکھوں والی تتلی کا جسکی بہت اونچی آڑان نے اسے توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا۔
آزادی کی ایک قیمت ہوتی ہیں ۔اور مغل خاندان کے قیدیوں کو آزادی کی قیمت اپنی جان کے سرخ مائع سے دینی پڑتی تھی۔
قندیل کے اس داستان میں بادشاہ نے قاضی کا دل چیر دیا تھا بدلے میں قاضی نے بادشاہ کے دونوں بازو کاٹ دیئے۔
موت نے کہانی کے سب سے خاموش مہرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔
زندہ وہی رہے گا جو مر جائے گا ۔اور مرے گا وہی جو زندہ جلے گا ۔

Qarh Novel by Areej Rao

کہانی لا تعداد کردار۔ایک ‘زین کمال’ ہے۔معروف ہیکر۔۔۔۔اور ہوٹل چین کا مالک زین کمال۔۔لیکن اس کی ایک اور پہچان بھی ہے۔وہ صوفیہ محل کا بڑا شہزادہ ہے۔عالمز کا پہلا وارث ۔اس کی ستیلی بہن کے مطابق وہ انتہائی بد اخلاق ہے۔۔اپنے باپ اور دادا کو نام سے پکارنے والا ایک بدتمیز شخص۔لیکن وہ محرومیوں کا مارا تھا۔۔ہنسنے کھیلنے کی عمر میں اس نے خون دیکھا تھا۔اس نے چینخیں سنی تھی۔۔وہ بھلا نارمل کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔پھر ایک وہ تھی۔۔ظالموں کے لیے ان سے بڑھ کر ظالم ملکہ۔ایس پی نعمل کمال۔۔جسے زبان سے زیادہ آنکھوں اور اس سے بھی زیادہ ہاتھوں کا استعمال پسند تھا۔۔۔وہ زین کمال کی منکوحہ تھی۔۔لیکن ان کے بیچ میں ‘انا’ آگئی تھی۔۔وہ انجان تھے کہ ‘محبتوں میں انائیں نہیں ہوتی’۔
وہ جہانگیر دلاور تھا۔جو انٹرنیشنل چور تھا۔۔۔جو کہا کرتا تھا کہ ‘جب تم چور کے نشانات نا ڈھونڈ پاؤ تو سمجھ جاؤ چور جہانگیر دلاور ہے۔’
ایش میکائیل۔۔دن میں پاکٹ پکر اور رات میں ایف بی آئی کو چکمہ دیتی ہیکر۔۔جو تین گھنٹوں میں پورے ایشیاء کا سرور اڑا سکتی تھی۔۔سیلف آبسیسڈ لڑکی۔۔
اوپر درج کچھ کردار ہماری کہانی کو زندہ رکھیں گیں۔۔وہ لڑیں گیں۔۔۔قتل کریں گیں۔۔چوری کریں گیں۔۔۔ان میں سے کوئی بھی ہیرو نہیں ہو گا کیوں کہ ہیروز تو سینٹ ہوتے ہیں نا؟۔۔۔وہ روزگار نہیں کھاتے۔۔ہماری کہانی کا ہر کردار دوسروں کے لیے ولن اور اپنے لیے ہیرو ہے۔۔وہ ہنسیں گیں۔۔ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچیں گیں۔۔پھر سیاہی میں لپٹے ایک کمرے میں ان کے خلاف سازشیں بنی جائیں گیں۔۔۔ان کو ‘بدنام’ کیا جائے گا۔پھر کہانی کا رخ بدلے گا۔بساط بدل جائے گی۔۔۔شہہ مات دینے والے شکست کھائیں گیں۔۔اور اپنی ملکہ مروا لینے کہ باوجود بادشاہ فاتح ٹھہرے گا۔

Qartaas Dill

قرطاس دل۔۔۔ چند نظموں ٹوٹے پھوٹے لفظوں پہ مشتمل کتاب۔۔۔ یہ دل سے نکلے ہوئے الفاظ پہ مشتمل ہے۔۔۔۔ میری زندگی کے بہت سے سخت اوقات کی بھٹی میں جلنے کے بعد یہ الفاظ تحریر ہوئے ہیں۔۔۔ اس کا انتساب میں اپنی فیملی کے نام کروں گی جنہوں نے کبھی میرے قلم کو روکا نہیں۔ اور پیاری ہستی آپی عاطفہ رفیق جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں مگر انکی یادیں ہمہ حال میرے ہمراہ ہیں۔ میری پہلی کاوش پہلے افسانے کو کتابی شکل میں مجھ تک انہوں نے پہنچایا تھا۔ جس جس تک قرطاس دل پہنچے ان سب سے استدعا ہے کہ میرے والد گرامی اور آپی عاطفہ کیلئے دعائے مغفرت فرما دیں

Qarz Ka Maazi by Jaweria Rauf

ایک نفسیاتی اور جذباتی کہانی ہے جو بچپن کے ایک خوفناک سانحے سے جنم لیتی ہے۔ یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو اپنے باپ کے قتل کے بعد انتقام کے جذبے میں پلتی ہے، لیکن جب انصاف مکمل ہوتا ہے، تو اندر ایک ایسا خلا رہ جاتا ہے جو کسی فتح کا حصہ نہیں ہوتا۔ کچھ
قرض خون سے نہیں، روح سے ادا ہوتے ہیں — اور وہ قرض، کبھی مکمل نہیں ہوتے۔

Qasas by Musfirah Zubair

 دو خاندان۔ دو دشمنیاں۔ ایک ایسی جنگ جو برسوں سے خاموشی سے جاری تھی۔
 ایک طرف، مغل خاندان کی طاقت، سیاست اور جرم میں لپٹی ہوئی سلطنت۔
 دوسری طرف، کیانی خاندان کے وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں انصاف اور فرض کے نام کر دی تھیں۔
 کہانی اُس وقت نیا موڑ لیتی ہے جب مغل خاندان کی ایک وارث اپنی یادداشت کھو بیٹھتی ہے،
 اور تقدیر اُسے دشمن کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔  اُس دشمن کے سامنے جس کا مقصد اُسے استعمال کرنا تھا۔
 مگر کچھ سچ صرف وقت پر ظاہر ہوتے ہیں، اور کچھ رشتے دشمنی کے خول میں بھی دھڑکن بن جاتے ہیں۔
 یہ کہانی صرف انتقام کی نہیں، بلکہ دھوکے، شناخت اور محبت کی بھی ہے۔
 جہاں ایک لڑکی اپنے ہی خاندان کے خلاف دشمنوں کا ساتھ دیتی ہے۔
اور جہاں جنگ صرف میدانوں میں نہیں، دلوں کے اندر بھی لڑی جاتی ہے۔
1 379 380 381 549