ایسی کونسی ہوئی بات جس کی وجہ سے رباب کا دشمن بنا ضراب ۔ ضراب کے ظلم سہتی رباب کیا کرپاۓ گی ضراب کو معاف
بدلے کی آگ میں پنپتی رباب اور ضراب کے عشق کی لازوال داستان
زندگی کی رنگینیوں سے دور جاتی مناہل کو کیا دوبارہ زندگی کی طرف واپس لا پاۓ گی یلماز کی محبت تو کہیں عمر کی عالیہ کے لیے بڑھتی ہوئی دیوانگی لیکن عمر پہ ہوا ایک اہم راز کا انکشاف کیا عمر رکھ پاۓ گا عالیہ کے لیے اپنی محبت برقرار
یہ کہانی ہے عشق کی ، کہانی ایک ایسے انسان کی جس نے بے انتہا محبت کی مگر اسے اسکی محبت مل نہ سکی۔۔کہانی دو دیوانوں کی۔۔ کہانی عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک پہنچنے کی ۔۔
“عشق وہ نہیں ہوتا جس میں محبوب سے تکرار کی جائے۔۔ عشق تو وہ ہوتا ہے کہ محبوب جس موڑ موڑے آپ مڑ جاؤ۔۔ محبوب جو بولے آپ وہ حکم بجا لاؤ۔۔۔ چوٹ محبوب کو لگے اور تکلیف آپ کو ہو۔۔ آنسو محبوب کے نکلیں اور آنکھ آپ کی بھی نم ہو جائے۔۔۔”
“محبوب کے منہ سے نکلا ایک ایک حرف پتھر پر لکیر کی مانند ہوتا ہے۔۔۔ اور اس کے منہ سے نکلے محبت بھرے دو بول ہی دوسرے فریق کی روح تک کو سرشار کر جاتے ہیں۔۔ لیکن عشق ہے یا نہیں دل اس بات کو ماننے میں کئی بار دھوکا کھا جاتا ہے۔۔ اپنے ہی خیالات کی نفی کرتا انسان دل و دماغ کی عجیب سی جنگ میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔۔ ایسی ہی ایک عجب سی عشق کی داستان ہے “ملک شاہ زین” اور “زوہا شاہ” کی۔۔۔”