یہ افسانہ اُن تمام عورتوں کے نام ہے جنہوں نے مرد ذات کے ظلم و ستم برداشت کیے، اور اس بے رحم معاشرے میں جینے کی کوشش کی۔ اُن کہانیوں کے نام جو کبھی زبان تک نہ پہنچ سکیں، اُن چیخوں کے نام جو کانوں تک نہ گئیں، اور اُن خوابوں کے نام جو ظلم کے بوجھ تلے کچلے گئے۔ یہ اُن دلوں کی صدا ہے جو جانتے ہیں کہ اصل انصاف صرف اللّٰہ کی عدالت میں ملے گا۔
آج کے دور میں مرد عورتوں کے معاملے میں اللّٰہ سے کیوں نہیں ڈرتے؟ شاید اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے میں نے اپنی سوچ کو ایک افسانے کی صورت میں بیان کیا ہے۔