تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا” محض چند کرداروں پر مشتمل ہے جس کی کہانی ان ہی چند کرداروں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ “نورالعین” اس کہانی کا مرکزی کردار ہے جو اپنی زندگی میں کئی موڑ سے گزرتی ہے۔ کچھ موڑ اسے خوبصورت راستوں اور گلیوں کی سیر کرواتے ہیں تو کچھ موڑ اس کی زندگی کو یکایک تاریکی کی نذر کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی معصومیت اور کم عمری کی وجہ سے کئی دفعہ صحیح سمت کا تعین نہیں کر پاتی ہے اور بعض غلط فیصلے تو عمر بھر کا پچھتاوا مقدر کر دیتے ہیں۔ کیا نور کبھی اس پچھتاوے سے، ان خاردار رستوں سے نکل کر حسین منزل کی سمت بڑھ پائے گی؟
یہ کہانی ہے رب پہ توکل کرنے والوں کی۔ یہ کہانی ہے دولت کی دیمک لگے رشتوں کی۔ ایک ایسی مختصر داستان جو ہمیں سکھاتی ہے کہ رشتے محض خون سے نہیں بلکہ اپنے سے جڑے لوگوں کا “احساس” کرنے سے بنتے ہیں۔ آزمائش زندگی کا حصہ ہیں اور ہر مشکل کے بعد آسانی رب کا وعدہ ہے۔
یہ مختلف قسم کی انسانی سمجھ سے بالاتر کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ اشرف المخلوقات کو قدرت کے چھپے ہر راز کا علم ہو سکے۔ یہ کہانیاں انہی میں سے ایک راز پر مبنی ہیں۔