یہ کہانی ہے عشق کی ، کہانی ایک ایسے انسان کی جس نے بے انتہا محبت کی مگر اسے اسکی محبت مل نہ سکی۔۔کہانی دو دیوانوں کی۔۔ کہانی عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک پہنچنے کی ۔۔
عشق کا آخری دور ایک گہری درد سے گزرتی اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی کہانی ہے جہاں محبت صرف پانے کی خواہش نہیں رہتی بلکہ خود کو اللہ کے فیصلوں کے سپرد کرنے کا نام بن جاتی ہے۔ یہ افسانہ اس مرحلے کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں دل چاہتا ہے مگر ایمان روک لیتا ہےجہاں قربت کی خواہش ہوتی ہے مگر حدودِ حلال کو چن لیا جاتا ہے یہاں عشق اپنی آخری شکل میں سامنے آتا ہے نہ شکوہ، نہ ضد، نہ مطالبہ بس صبر، دعا اور خاموش قربانی۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ ہر محبت کا انجام وصال نہیں ہوتا کچھ عشق اپنی تکمیل اللہ پر چھوڑ دینے میں پاتے ہیں
“یہ کہانی ہے ایک طرفہ عشق کی ،ایک طرفہ محبت کی دیوانگی کی،وہ جو اس کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبی ہوئی تھی اس کی ایک نگاہ کی بھوکی ایمن رحمان اپنے حارث سائیں سے عشق کی انتہا کرنے والی اس کے ہجر میں خود کو موت کے ہجر تک لے جانے والی
یہ کہانی ہے حارث جمال کی جس نے ایمن رحمان سے عشق کیا ایسا عشق جس کی کوئی انتہا نا تھی
یہ کہانی ہے جہاں دو دل ملتے ہیں مشکلات کا سامنہ کرتے ہیں ان کے عشق میں مشکلات بہت آئی مگر عشق اپنی انتہا کو پہنچ گیا”
کچھ پل کی یادیں اگر یاد آجائے تو وہ پل بھی کسی عزاب کے مترادف ہوتے ہیں کچھ پرانی یادیں اگر یاد نا کی جاے تو انسان بھی سکون میں رہتا ہے مگر کیا یادیں بھول سکتی ہیں؟؟ “نہیں” یادیں کبھی نہیں بھولتی بےشک وہ یاد انسان کا صرف ایک گناہ ہی کیوں نا ہو ،یادیں بنی ہی انسان کے لیے۔ کبھی پرانی یادیں اور باتیں اگر نئے سرے سے کھلے تو نئے سرے سے دل میں ٹھیس اٹھتی ہیں ان باتوں اور یادوں کا ازالہ کبھی پورا نہیں ہوتا
یہ تحریر اُن لڑکیوں کے لیے ہے جو محبت کی تلاش میں مختلف مردوں سے ملتی ہیں، جو اپنی قدر صرف اس دنیا کی وقتی محبت کی خاطر کھو بیٹھتی ہیں۔ آج کے دور میں خالص اور سچی محبت کا ملنا یا اس کی طلب کرنا شاید کسی بیوقوفی سے کم نہیں۔ اگر آپ کو ایسی محبت مل گئی ہے، تو یہ آپ کی خوش قسمتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سو میں سے نوّے فیصد لوگ محبت نہیں، صرف اپنی خواہشات پوری کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے محبت کو ایک جسمانی خواہش تک محدود کر دیا ہے، اور اس کے اصل مفہوم کو مٹا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں زِمل جیسی لڑکیاں خالص محبت کی تلاش میں ان درندوں کا شکار بن جاتی ہیں، اور ساری زندگی پچھتاوے میں گزار دیتی ہیں۔
یہ کہانی ہے محبت میں ہاری ہوئی لڑکی کی ، دوران سفر کوئی اسکے بنجر دل کی سرزمین پہ بناء کچھ کہے اپنی مسکراہٹ سے اس کے بنجر دل کی سر زمین کو سیراب کر گیا تھا۔ مگر بار بار ٹوٹ جانے کے خوف نے اسے ہار ماننے پہ مجبور کردیا۔
زندگی میں آیا ہر انسان اپنے اصل کی بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے گول گھومتی جلیبی کا ایک سرا اسے اس کے آخری سرے سے بالآخر جوڑ ہی دیتا ہے ، اپنے اصل کو پہنچاننے والا اطمینان اور ٹہراؤ کا پیکر ہوتا ہے اس کے بر عکس جو اپنے اصل کو بھول جائے وہ جا بجا کے روگ کا شکار ہوتا ہے
یہ کہانی ہے مزاح کی جس میں سبق ہے اپنے اصل کی جانب مڑنے کا ، یہ کردار آپ کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ آپ کی اصلاح کریں گے تو شروع کرتے ہیں سفر ‘جلیبی’ کا