Complete Novels

Damini Aseer

یہ کہانی ہے محبت کے ایک خوبصورت سفر کی۔
آزمائش میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والوں کی ۔۔۔
یہ کہانی ہے ایسے شہزادوں کی
جو اپنی شہزادیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔۔
اور ایسی شہزادیوں کی
جو اپنے شہزادوں کے بغیر اک پل نہیں گزارتیں۔۔
اس کا اختتام اک نئی داستان کا آغاز ہے
 کیوں کہ۔۔
”محبتوں کا کبھی اختتام نہیں ہوتا“

Rozan e Taqdeer

یہ کہانی ہے اک ایسی لڑکی کی جو گناہوں کے دلدل سے نکل کر ہدایت کی جانب آئ یہ کہانی ہے اک لڑکے کی جو اپنے ماضی میں الجھا ہوا تھا یہ کہانی ہے اک ایسے سنگ دل انسان کی جسے بس طاقت چاہیۓ تھی اک لڑکی کی حوس کی ۔۔۔۔یہ کہانی ہے اللہ سے امید کی اس کی جانب بڑھنے کی اس پر توکل کرنے کی ۔۔۔۔

Gul e Dasht

یہ کہانی ہے ٹوٹے رشتوں کی ۔۔۔۔اک انجان خوف کی ۔۔۔۔ادھوری محبت کی۔۔۔۔۔ سب سے بڑھ کر اللہ ہر توکل کی اس کہانی میں اک ہی دشمن ہے جو کہ ہم سب کا واحد دشمن ہے ۔۔۔
بس شیطان ۔۔۔۔۔

Diyar e Qaid

دیارِ قید کی یہ کہانی میرے اور آپ کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے قلم بند کی گئی ہے ۔ یہ کہانی بظاہر تو لمحوں میں لکھی گئی ہے مگر پڑھنے والوں کو صدیوں پیچھے لے جائے گی۔ یہ ہمیں بتائے گی کہ کوئی ہے جو ہمارا منتظر ہے،
جس کا دیار ہم نے اجاڑ دیا،
جس کا چراغ ہم نے بجھا دیا،
جس کی امیدیں ہم نے توڑ دیں،
جس کی سلاخیں ہم نے جوڑ دیں،
 مگر وہ آج بھی ہماری راہ تکتے ہیں۔۔۔
 ایک آس سے کہ ایک دن ہم آئیں گے۔۔۔۔
اور ان کے دیار کو ظالموں کی قید سے رہا کروائیں گے۔ یہ کہانی ہے ان مظلوموں کی جو ہمیں پکار رہے ہیں۔
 ہاں وہ آج بھی ہمیں پکار رہے ہیں ۔۔۔۔

Yaaran e Rooh

 یہ داستان ہے چار دوستوں کی۔اور ایک لازوال محبت کی اور ایک دلکش رشتے کی۔دوستی ایسا رشتہ ہے کہ جس کو زوال نہیں چاہے وہ ایک دوسرے سے دور ہو جائیں مگر ان کی روحیں ہمیشہ یکجا رہیں گی۔

Ala Rasi


“خوش بخت_____________”
اسے دور سے بابا کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی کچھ پل تو اسے سمجھ نہ آیا پھر یک دم اٹھ کر دروازہ کھولا جہاں عالم صاحب دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹے اسے طنزیہ نگاہوں سے گھور رہے تھے۔

“اوہ بزرگو! کیوں صبح صبح محلے والوں کے ناک میں دم کر رہے ہیں؟”
اس نے جمائیاں لیتے ان سے پوچھا۔

“ملکہ عالیہ! اگر آپ کو یاد ہو تو آج ہم نے مارننگ واک کے لیے جانا ہے میں فجر کی نماز ادا کرنے مسجد جا رہا ہوں آپ بھی جلدی سے وضو کر کے نماز ادا کریں اور میری واپسی پر مجھے گھر کے گیٹ پر ملیں۔”
وہ ایک ہی سانس میں بات پوری کرتے وہاں سے نکل گئے۔

“لو جی ملکہ عالیہ مجھے کہہ رہے ہیں اور حکم خود سنا گئے ہیں، واہ جی واہ۔”
وہ بڑبڑاتی ہوئی جلدی سے واش روم میں جا گھسی۔

اس کا دل تو نہیں تھا جانے کا مگر اپنے واحد ووٹ کو وہ ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی جو ہر الٹی سیدھی بات میں اس کی ڈھال بن جاتے تھے تبھی وہ جھٹ پٹ سب کام کرتی گیٹ پر آن کھڑی ہوئی رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے وہیں اس کی آنکھ لگ گئی۔

وہ گیٹ پر سر رکھے ہوئے ہی اپنی نیند پوری کر رہی تھی جب ٹریک سوٹ میں ملبوس ایک نوجوان اسے دیکھتے ایک لمحے کو رکا تھا اس کی آنکھوں میں حیرت در آئی جس کو وہ اگلے ہی پل چھپاتا آگے بڑھ گیا اس نے پہلی بار کسی کو ایسے سوتے دیکھا تھا حیرت بجا تھی۔

“خوش بخت____”
عالم صاحب نے اس کے کان کے پاس چہرہ لے جا کر زور سے پکارا جس پر وہ یک دم “چور، چور” چلاتی ان سے لپٹ گئی۔

“ملکہ عالیہ اب آپ حد سے بڑھ رہی ہیں پہلے بزرگو اور اب چور بنا ڈالا، توبہ توبہ گندی اولاد نہ مزا نہ سواد۔”
انھوں نے اسے بری طرح گھورا۔

“واہ بھئی واہ! الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔
یہ کیا تھا پھر____؟
ابھی میرا ہارٹ فیل ہو جانا تھا۔”

اس نے دل پر ہاتھ رکھتے ان کی حرکت کی طرف توجہ دلائی تو وہ شان بے نیازی سے کندھے اچکاتے آگے بڑھ گئے۔

“آپ____اور اتنے کمزور دل کی ہو ہی نہیں سکتیں۔
آپ تو وہ ہیں جو دوسروں کے چھکے چھڑا دیں ملکہ عالیہ۔”

وہ اس پر طنز کرنا نہ بھولے۔

“ہاں جی___میں تو بہت بڑے دل کی ہوں جو اپنے ماں باپ کو پال رہی ہوں حالانکہ انھیں مجھے پالنا چاہیے۔

ہائے او ربا میری نکیاں نکیاں چاواں___”

وہ دکھی محبوبہ کی طرح سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

“اگر آپ کو کسی فلم میں ہیروئن کاسٹ کر لیا جائے تو وہ بری طرح فلاپ ہو۔”
انھوں نے اس کی اوور ایکٹنگ پر چوٹ کرتے ہوئے اپنا بدلہ اتارا۔

“چلیں مجھے ہیروئن کا کردار تو ملتا مگر آپ کو گریٹ گریٹ گریٹ____گرینڈ فادر کا رول ملتا۔”

اس کی بات پر وہ جلتے کڑھتے گلشن اقبال پارک میں داخل ہو گئے۔
1 54 55 56 314