“سفرِ وصال” میرے جذبات، احساسات اور تخیل کا وہ عکس ہے جسے میں نے نہایت خلوصِ دل سے رقم کیا ہے۔ اس ناول کی بنیاد ایک ایسے خواب پر رکھی گئی، جو میں نے تاج محل کے حسن اور اس کی تاریخ میں پنہاں محبت کی لازوال داستانوں کو دیکھ کر دیکھا تھا۔
تاج محل… صرف ایک عمارت نہیں، میرے لیے ایک جذبہ ہے۔۔محبت، فراق اور وصال کی گواہی دیتا ہوا ایک حسین سنگِ مرمر، جس نے میرے خیالوں کو ایک نئی سمت دی۔ اسی عظمت سے متاثر ہو کر اس کہانی کا بنیادی خاکہ تشکیل پایا، لیکن دورانِ تحریر دو ایسے کردار وجود میں آ گئے، جن کا تصور میرے ذہن میں ابتدا میں ہرگز نہ تھا۔ ان میں سے ایک “شہرام شاہ” کا کردار ہےجسے لکھتے ہوئے میرے اندر ایک عجیب سی کشمکش رہی۔ ایک طرف اس کی تحریر نے لطف دیا، تو دوسری جانب کئی لمحے ایسے بھی آئے جب اس کے جذبات کو لکھتے ہوئے دل بوجھل ہو گیا۔