داستان کی ابتداء ایک گهپ تاریک تہہ خانے سےہوئی۔نشست پانچ،نفوس پانچ،اسیر پانچ۔
لیکن کیا چلتی سانسیں بھی پانچ تھیں؟رسن دار میں بندھے ہاتھ،جسم سے لپٹی خوف کی زنجیریں۔کیا زنجیریں واقعی پانچ تھیں؟یا کوئی تھا جس کے بدن سے جفائیں چمٹی تھیں۔
کہانی کا وسط خوشگوار ہے۔لندن کی گلیاں ہیں،سرمئی سڑکیں،بوڑھی عمارتیں ہیں اور دوستوں کی سنگت ہے۔محبتوں کی شروعاتیں ہیں۔کچھ پرنم الوداع کہتی آنکھیں ہیں۔
کہانی کے اختتام کو جاتی راہیں کٹھن ہیں۔دیس پرایا۔ہر گزرتے پل ہے خوف کا سایہ۔گولیوں کی آوازیں،جسم سے ابلتی خون کی برساتیں۔اس پہ ستم کہ آستين میں چھپی جفائیں۔وہ پانچ لوگ کس کس رنج کا ماتم منائیں۔؟
دہرنے کیسے کئے ستم۔ہوئے بند سب در رحم۔
یہ باب مگر ظالم ہے۔جفا کار ہے،دغا دار اور سیاہ کار ہے۔ملال یہ کہ سنگت ریا کار ہے۔
پانچ سانسیں کیا یونہی چلتی رہیں گی؟
کیا تہہ خانہ لاشیں اٹھائے گا؟
کیا دوست ایک بار پھر جدا ہوں گے؟
باب دہرجلد ہر راز کھولے گا۔یا پھر کوئی پہیلی پیچھے چھوڑے گا؟
ناول بابِ توبہ ایک روحانی اور اصلاحی کہانی ہے جو گناہوں سے پلٹنے، اللہ کی طرف رجوع، صبر، دعا اور دل کی سچی توبہ کے سفر کو بیان کرتی ہے۔ یہ ناول ایک ایسے انسان کی داستان ہے جو اندھیروں سے نکل کر رب کی رحمت کی روشنی تک پہنچتا ہے۔ کہانی قاری کو امید، ایمان اور خود احتسابی کا پیغام دیتی ہے۔
ایک کہانی بچپن کے حسین لمحوں کے نام ، اس جگہ کے نام جس سے جدا ہوکر معلوم ہوا کہ وہ درسگاہ کتنی خاص تھی۔ اس دوستی کے نام جو خاص لوگوں کے لیے بہت خاص بھی تھی تو کسی بے وفا کے لیے محض ہتھیار تھی۔ یہ نفرت ، دوستی اور محبت کے سفر کی ہنسی مذاق ، دکھ ،درد آنسوں اور اعتبار جیسے پہلؤں کے اجزاء سے بھرپور کہانی ہے