عکسِ دروغ
کبھی جو سچ لگے، وہ صرف ایک فریب ہو اور کبھی جو جھوٹ کہلائے، وہی اصل حقیقت بن جائے۔
یہ کہانی صرف محبت کی نہیں، بلکہ ان رشتوں کی ہے جن میں اعتماد بھی ہے، بےوفائی بھی۔
جہاں ہر کردار کے پاس ایک چہرہ ہے… اور اُس چہرے کے پیچھے ایک چھپا ہوا راز۔
“عکسِ دروغ” ایسے کرداروں کا سفر ہے،
جو سچائی کی تلاش میں جھوٹ کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔
کہیں محبت روشنی بنتی ہے، اور کہیں فریب اندھیرا۔
یہ ناول جذبات، رشتوں، قربانیوں اور رازوں کا ایسا امتزاج ہے
جو قاری کو ابتدا سے انجام تک جکڑ کر رکھتا ہے۔
یہ زندگی جیسے پلوں کا عکس ہے
کبھی نرم، کبھی تلخ… اور کبھی مکمل خاموش
یہ کہانی ہے اپنے ڈر سے جیتنے کے سفر کی ۔ ۔ یہ کہانی ہے اپنے وطن کے لیے لڑنے والے جانبازوں کی ۔۔۔ یہ داستان ہے آگ اور پانی کی محبت کی۔۔ کہتے ہیں
بیت العنکبوت کمزور ہوتا ہے ۔۔۔ مگر عنکبوت نہیں ۔ ۔ تبھی تو وہ ایک گھر ٹوٹنے کے بعد دوسرا بنالیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انسانوں کے گھر مصنبوط ہوتے ہیں دل نہیں ۔ ۔ ۔ تبھی تو وہ ٹوٹنے کے بعد ہار جاتے ہیں ۔
یہ کہانی ہے سحر کی۔”
محبت کا سحر۔”
“جس میں مبتلا تھے تین لوگ۔”
” لیکن تقدیر تو ہمیشہ دو کے حق میں ہی فیصلہ سنایا کرتی ہے۔”
” یہ کہانی ہے ایک عیسائ خاندان کے مسلمان ہونے کی۔”
“ان صابرین کی جو ہر آزمائش کے بعد ملنے والے صبر کے پھل پر یقین رکھتے ہیں ۔”
“کہانی ہے ایجنٹس اور ایک فوجی کی۔”
“کہانی ہے دوستی کی” ۔
“انعمتہ اور لائبہ کی دوستی، راحم ، قاسم اور ازلان کی دوستی کی۔”
“کہانی ہے پاشا کی ، جو جب خوش ہوتا تھا، تو بے تحاشہ خوش ہوتا تھا۔”
“یہ کہانی ہے دو بچھڑے بہن بھائ کے ملاپ کی۔”
“کہانی ہے ان زمینی خداوں کی ،جو بساط بچھانے سے پہلے یہ بھول جاتے ہیں کہ ،بہترین چال چلنے والا صرف اللہ ہے۔”
“کہانی ہے محبت کی ،جس کا گواہ بھی اللہ اور اس کی کتاب تھی۔”
“کہانی ہے انعمتہ راحم کی۔
“خوش بخت_____________” اسے دور سے بابا کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی کچھ پل تو اسے سمجھ نہ آیا پھر یک دم اٹھ کر دروازہ کھولا جہاں عالم صاحب دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹے اسے طنزیہ نگاہوں سے گھور رہے تھے۔
“اوہ بزرگو! کیوں صبح صبح محلے والوں کے ناک میں دم کر رہے ہیں؟” اس نے جمائیاں لیتے ان سے پوچھا۔
“ملکہ عالیہ! اگر آپ کو یاد ہو تو آج ہم نے مارننگ واک کے لیے جانا ہے میں فجر کی نماز ادا کرنے مسجد جا رہا ہوں آپ بھی جلدی سے وضو کر کے نماز ادا کریں اور میری واپسی پر مجھے گھر کے گیٹ پر ملیں۔” وہ ایک ہی سانس میں بات پوری کرتے وہاں سے نکل گئے۔
“لو جی ملکہ عالیہ مجھے کہہ رہے ہیں اور حکم خود سنا گئے ہیں، واہ جی واہ۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی جلدی سے واش روم میں جا گھسی۔
اس کا دل تو نہیں تھا جانے کا مگر اپنے واحد ووٹ کو وہ ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی جو ہر الٹی سیدھی بات میں اس کی ڈھال بن جاتے تھے تبھی وہ جھٹ پٹ سب کام کرتی گیٹ پر آن کھڑی ہوئی رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے وہیں اس کی آنکھ لگ گئی۔
وہ گیٹ پر سر رکھے ہوئے ہی اپنی نیند پوری کر رہی تھی جب ٹریک سوٹ میں ملبوس ایک نوجوان اسے دیکھتے ایک لمحے کو رکا تھا اس کی آنکھوں میں حیرت در آئی جس کو وہ اگلے ہی پل چھپاتا آگے بڑھ گیا اس نے پہلی بار کسی کو ایسے سوتے دیکھا تھا حیرت بجا تھی۔
“خوش بخت____” عالم صاحب نے اس کے کان کے پاس چہرہ لے جا کر زور سے پکارا جس پر وہ یک دم “چور، چور” چلاتی ان سے لپٹ گئی۔
“ملکہ عالیہ اب آپ حد سے بڑھ رہی ہیں پہلے بزرگو اور اب چور بنا ڈالا، توبہ توبہ گندی اولاد نہ مزا نہ سواد۔” انھوں نے اسے بری طرح گھورا۔
“واہ بھئی واہ! الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ یہ کیا تھا پھر____؟ ابھی میرا ہارٹ فیل ہو جانا تھا۔”
اس نے دل پر ہاتھ رکھتے ان کی حرکت کی طرف توجہ دلائی تو وہ شان بے نیازی سے کندھے اچکاتے آگے بڑھ گئے۔
“آپ____اور اتنے کمزور دل کی ہو ہی نہیں سکتیں۔ آپ تو وہ ہیں جو دوسروں کے چھکے چھڑا دیں ملکہ عالیہ۔”
وہ اس پر طنز کرنا نہ بھولے۔
“ہاں جی___میں تو بہت بڑے دل کی ہوں جو اپنے ماں باپ کو پال رہی ہوں حالانکہ انھیں مجھے پالنا چاہیے۔
ہائے او ربا میری نکیاں نکیاں چاواں___”
وہ دکھی محبوبہ کی طرح سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
“اگر آپ کو کسی فلم میں ہیروئن کاسٹ کر لیا جائے تو وہ بری طرح فلاپ ہو۔” انھوں نے اس کی اوور ایکٹنگ پر چوٹ کرتے ہوئے اپنا بدلہ اتارا۔
“چلیں مجھے ہیروئن کا کردار تو ملتا مگر آپ کو گریٹ گریٹ گریٹ____گرینڈ فادر کا رول ملتا۔”
اس کی بات پر وہ جلتے کڑھتے گلشن اقبال پارک میں داخل ہو گئے۔
جب روشنی اور سایہ آمنے سامنے آتے ہیں تو ایک ازلی جنگ شروع ہوتی ہے۔ یہ معرکہ انسان اور غیر مرئی مخلوقات کے درمیان ہے— ایک طرف نوری طاقتیں جو ایمان کی علامت ہیں، اور دوسری طرف وہ ناری وجود جو تکبر، حسد، اور گناہ کی علامت ہیں۔
کہانی میں انسانوں اور جنات کے بیچ چلتی جنگ دکھائی گئی ہے ۔ جب مخلوق خالق کا بنایا گیا دائرہ توڑے تو اسکا انجام کیا ہوتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں قرآن کے اس اصول کی یاد دلاتی ہے کہ ’’ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدواً‘‘ (بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، پس تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو)۔
نورِ سایہ، ایمان، قربانی، اور روشنی کی اس لڑائی کی داستان ہے جو دلوں کے اندر بھی لڑی جاتی ہے اور دنیا کے پردے کے پیچھے بھی۔